516

تربیت اولاد کا ایک طریقہ یہ بھی ہے

تحریر شئیر کریں

تربیت اولاد کا انوکھا انداز

موجودہ دور قحط الرجال کا دور ہے۔اس دور میں اگر کہیں آپ کو سلجھا ہوا نیک اطوار انسان نظر آۓ تو سمجھ لینا کہ یہ کسی صالح اور نیک انسان کی اولاد ہے۔جی ہاں قرآن کا بھی یہی نظریہ ہے۔و کان ابوھما صالحا۔۔”اور ان دونوں کا باپ نیک انسان تھا۔”سورہ کہف کی یہ آیت خضر اور موسی کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔جب علم سیکھنے کی غرض سے موسی علیہ السلام اس وقت کے عالم خضر کے پاس آتے ہیں جنہیں اللہ نے اپنے پاس سے خصوصی علم سے نوازا تھا۔اس موقع پر جب ایک گاؤں سے گزرتے ہوۓ خضر نے ایک گری ہوئی دیوار دیکھی تو بغیر اجرت کے اس کی چنائی کرنے لگے۔موسی علیہ السلام کو مفت کام کرنے پہ اعتراض ہوا۔تو حضرت خضر نے فرمایا کہ و کان ابوھما صالحا۔۔کہ یہ دیوار دو یتیم بچوں کی ہے۔اس کے نیچے خزانہ چھپا ہے۔اور یہ کہ ان دونوں کا باپ ایک نیک انسان تھا۔


نیک انسانوں کی اولاد ہو یا مال اللہ انکی حفاظت بھی اپنے خصوصی بندوں سے کرواتا ہے۔یہ اس کا وعدہ ہے۔کتنی بڑی سعادت ہے۔باپ نیک ہو تو اس کی نیکی اسکے بچوں کے بھی کام آتی ہے۔بلاشبہ نیکی وہ پودا ہے جو انسان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی پھل دیتا رہتا ہے نا صرف خود کو بلکہ اپنے خونی رشتوں بالخصوص اولاد اور والدین کو بھی۔۔

یہ بھی پڑھیے

اپنے بچوں پہ توجہ دیجیے

کارٹون بچوں کی شخصیت پر کس قدر اثرانداز ہو رہے ہیں


ڈاکٹر نبیل عوضہ سے ایک قصہ منسوب ہے کہ ان کے کوئی واقف کار کا کہنا ہے کہ جب سے ابوھما صالحا کی تفسیر پڑھی ہے۔تب سے روزانہ چند گھنٹے فلاحی کام کرتا ہوں تاکہ میری نیکیاں میری اولاد کے لیے خیر کا باعث بن سکیں۔
عبداللہ بن مسعود ایک جلیل القدر صحابی ہیں۔جب نوافل ادا کرتے تو اپنے سامنے سوۓ بچوں کو دیکھ کر کہتے “یہ نوافل تمہارے روشن مستقبل اکے لیے ہیں۔
مجھے ایک خاتون ملیں کہنے لگیں صوم و صلوتہ اور پردے کی پابندی کا یہ حال رہا کہ کبھی سبزی خریدنے بھی باہر نہیں گئ۔اس کے باوجود کہ بیوہ تھی اور بچے چھوٹے چھوٹے تھے۔۔اللہ کی طرف سے سبب بنتے گے اور مسائل حل ہوتے گۓ۔ اب بڑے ہو کر بڑے عہدوں پر فائز ہیں ۔پیچھے مڑ کے دیکھوں تو سواۓ اس کے کرم کے کچھ نظر نہیں اتا۔
ہمارے ہاں مادیت پرستی اور مالی منفعت کو ہی بچوں کا بہترین مستقبل سمجھا جاتا ہے۔اور تو اور تعلیم جیسے مقدس فریضے کی انجام دہی کے پیچھے بھی “نوکری کی غرض “پوشیدہ ہوتی ہے۔ڈاکٹر اور انجینر اس لیے نہیں کہ معاشرے کی خدمت کریں گے۔بلکہ شہرت اور پیسے کی غرض پوشیدہ ہوتی ہے۔
اولاد ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سرور ہے۔اس کے ہونے سے دنیا کی سب رونقیں ہیں۔خدانخواستہ اگر آپ دنیا سے اس حال میں جاتے کہ آپ کے بچے چھوٹے ہیں تو ان کے لیے نیکیوں کا بینک بینلس اکٹھا کریں نا کہ سکے اور تجوریاں۔یہ وہ کرنسی ہے جو آخرت ہی نہیں دنیا بھی سنوار دیتی ہے۔اللہ ہمیں اصل زاد راہ اکٹھا کرنے کی توفیق دے۔آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں