466

حجاب میری حیات کاحصہ بنامگرکیسے؟

تحریر شئیر کریں

حمادیہ صفدر

(مغربی تہذیب کوپسندکرنےوالی اورمغرب کی پیروی کرنےوالی مسلمان لڑکی کےباحجاب ہونےکی مختصرمگردلچسپ داستان)

نمرہ تفریح کےوقت اپنی دوستوں کےساتھ کیٹین پراشیاخریدرہی تھی ۔وہاں لڑکیوں کاشدیدرش تھا۔ورایسےمحسوس ہورہاتھاکہ نمرہ کےہرہرعضوسےپسینےکےقطرات جاری ہیں کیونکہ اس نےہاتھوں میں دستانےاورپاؤں میں جرابیں پہننےکےبعدجوگربھی پہن رکھےتھے۔حالانکہ گرمی میں کوئی طالبہ بھی اس حالت میں نہ ہوتی تھی۔اس کی دوستیں اس پربہت حیران تھیں کہ نمرہ کس طرح سدھرگئ۔لیکن چھ ماہ کےعرصےمیں چاہنےکےباوجودکسی نےپوچھنےکی جسارت نہ کی کہ اسےبرانہ لگ جاۓ۔
آج توانھوں نےارادہ کیاکہ ہرصورت پوچھ کرہی رہناہے۔
سب دوستوں نےآپس میں پروگرام بنایاکہ آج ہم نمرہ سےضرورپوچھ لیں گے۔
جب نمرہ آئی توطیبہ نےپوچھانمرہ تم برامت مناناتم سےایک بات پوچھناچاہتی ہوں ۔
جی میری بہن کیاپوچھناہےپوچھ لیں۔
طیبہ بولی نمرہ تم کس طرح حجاب کرنےلگ گئ ؟ حالانکہ تم وہی ہوناں کہ ہم کہاکرتےتھےکہ سب دوستیں گاؤن پہنتی ہیں حجاب کرتی ہیں توتم بھی کیاکروتوتم نےکہاتھا۔

” میں فرینڈزگروپ توچھوڑسکتی ہوں
لیکن حجاب نہیں کرسکتی ۔آپ جانتےہوناں کہ میں ماڈرن خاندان کی ماڈرن لڑکی ہوں توحجاب مجھ پرمگرکیسے”؟؟؟؟؟؟؟؟

نمرہ سن کرمسکرادی اوربولی۔۔۔۔
طیبہ میرےدل کی چاہت ہے کہ ہرفردمجھ سےیہ سوال کرےاوریہ میں بہت اچھامحسوس کرتی ہوں ہوسکتامیری یہ داستان سن کربھی کوئی راہِ راست پرآجائے۔
اچھااب میں آپ سب کوبتاتی ہوں کہ

“حجاب میری حیات کاحصہ کیسےبنا”؟

یہ ان دنوں کی بات ہےجب میں سپیشلائزیشن کیلیےامریکہ گئ ۔وہاں میرےچاچوکی رہائش ہےتومیں نےان کےپاس رہ کرپڑھناتھا۔یونیورسٹی کیلیےمیں بس کےذریعے سفرکرتی تھی ۔ایک دن ایک لڑکی سوارہوئی اوراس کاحلیہ تم لوگ یقین کرووہ امریکن لڑکی تھی جوکہ گاؤن پہن کرحجاب کیےہوۓتھی۔اوروہاتھ میں کتاب نماچیزہاتھ میں مؤدبانہ تھامےہوۓتھی اوراسےاپنےحجابی سٹالرمیں چھپایاہواتھا۔ڈرائیورپاکستانی تھاوہ بھی اسےدیکھ کربہت حیران ہوا۔میں توپوچھتےہوۓجھجھکی لیکن ڈرائیورنےاس سےپوچھ ہی لیاکہ تم کہاں کی رہائشی ہو۔میں امیریکن ہی ہوں اس نےجوابًاکہا۔
یہ تم نےکیاچیزپکڑی ہوئی ؟ڈرائیورنےسوال کیا۔اس نےدکھایاوہ ترجمےوالاقرآن تھا۔اس نےبتایاکہ میں ترجمہ جانتی تونہیں مگرترجمے والےقرآن سےہی پڑھ کرعمل کی کوشش ضرورکرتی ہوں۔
اوربتایاکہ
آج تک مجھےجوملاہےاس قرآن کی بدولت ملاہے۔اسی قرآن نےمجھےحیااورغیرت کاسبق سکھایا۔مجھےگاؤن/رداۓحیامیں چھپایاتواس قرآن نے۔دنیاکی ہرچیزکوحقیقت کی نگاہ سےدیکھنے کاشرف مجھےقرآن سےملاہے۔۔۔۔۔۔۔اورآج بھی کوئی بھلائی چاہتاہےتوقرآن کوسینےسےلگالے۔
میں اسکی یہ گفتگوسن کرحیران اورپشیمان ہوئی کہ میں ایک آزادملک میں رہ کراپنےبدن پرقرآن کےاحکام نافذ نہ کرسکی اوروہ انگریزوں کےملک میں رہ اسی قرآن کوپڑھ کرفلاح کی راہوں پرہے۔۔۔۔۔۔نمرہ نےاپنی راۓظاہرکی ۔
آپ لوگ جانتے توہوناں کہ مجھےوہاں کی آب وہوا راس نہیں آئی اورکچھ دنوں بعد پاکستان واپس آناپڑااگرچہ سپیشلائزیشن نہ کرسکی لیکن میں اُس رب کی بہت مشکورہوں کہ اس نے مجھےکس طرح هدایت دی ۔اورکبھی کبھی میرےزہن میں یہ بات آتی ہےکہ شایدوہ سفرمیرےلیےباعثِ ہدایت ہی تھا۔اوراب میں بھی قرآن مع ترجمہ پڑھتی ہوں اور جس قدرالله توفیق دےعمل کی کوشش بھی کرتی هوں۔ اوراسی کی وجہ سےمیں پردہ بھی کرنےلگ گئ ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الحمدللہ۔۔۔۔۔

        

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں