تحریر:آمنہ نور
آپی مریم نے گھر میں داخل ہوتے ہی آپی کو آوازیں لگانا شروع کی اور انکے کمرے میں ان کو دیکھ کر ہی اس کی آواز بند ہوئی۔۔
آپی۔۔۔ مریم نے آپی کو بلایا تو ناول میں مگن آپی باہر کی دنیا میں آئیں۔۔ ”کیا ہے مریم۔؟”
آپی ناول کا تسلسل ٹوٹنے سے بدمزہ ہوئی تھیں۔۔۔
مریم:”آج کیا دن ہے آپی۔؟”
آپی:”آج دس محرم۔ عاشوراء کا دن..”
مریم:”اس دن کیا ہوتا ہے آپی…؟؟”
آپی:”یہ بڑی فضیلت والا دن ہے۔ اس دن ہمارے نبی روزہ رکھا کرتے تھے۔”
مریم:”اور کیا ہوا تھا آپی..؟؟”
آپی:”اور حضرت حسینؓ کی شہادت ہوئی تھی اس دن۔”
مریم:”اچھاااا اس لیے شیعہ لوگ ماتم کرتے ہیں۔ ان کی محبت میں روتے ہیں۔ ہے نا آپی..؟؟”
آپی:”ارے نہیں مریم یہ کیسی محبت ہوئی۔ ڈرامے کرتے ہیں وہ لوگ۔ محبت ایسے نھیں ہوا کرتی۔”
مریم:”اچھا آپی پھر کیسے ہوتی ہے۔”
آپی:”اف اوہ ایک تو تم سوال بہت کرتی ہو
محبت میں اطاعت ہوتی ہے دعوے نہیں ہوتے۔”
مریم:”اطاعت کیسے کرتے ہیں آپی..؟”
آپی:”اطاعت مطلب انکی بات مانتے ہیں انہوں نے جو اعمال کیے وہ کرتے ہیں۔اور انکی محبت میں انکے درجات کی بلندی کے لیے نفل پڑھتے ہیں۔صرف رونے دھونے ماتم کرنے سے محبت ظاہر نہیں ہوتی۔
اسی لیے تو کسی شاعر نے کہا کہ
سنبھال کر رکھو یہ فرقے جو تمہارے ہیں
عمرؓ بھی ہمارے ہیں حسینؓ بھی ہمارے ہیں۔
حسینؓ ہمارے ہیں مریم۔ ہم ان سے سچی محبت کرتے ہیں۔ہم سارے صحابہ کو مانتے ہیں۔ کسی میں کوئی فرق نہیں کرتے۔”
مریم خاموشی سے کچھ سوچ رہی تھی اور آپی بغور اس کا چہرہ دیکھ رہی تھیں۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اس نے سوال کیا۔
”آپی پھر حسینؓ ہمارے کیسے ہوئے؟”
آپی:”کیا مطلب؟؟”
مطلب آپی ہم نے تو نفل نہیں پڑھے ان کی محبت میں۔ اور میری استانی کہتی ہیں کہ حضرت حسینؓ نماز کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ یہاں تک کہ شہادت کے وقت بھی نماز نہیں چھوڑی۔
آپی ہم تو انکی اطاعت نہیں کرتے۔ جب نماز کا آخری وقت ہوتا ہے تب پڑھتے ہیں۔
پھر ہم بھی جھوٹے ہیں نا آپی؟ ہم بھی ان سے سچی محبت نہیں کرتے نا صرف دعوے کرتے ہیں نا؟ حسینؓ ہمارے بھی نہیں نا..؟؟
آپی کا سر شرمندگی سے جھک گیا تھا۔ان کے پاس کوئی لفظ نہیں تھا اپنی صفائی دینے کے لیے۔ ایک چھوٹی سی بچی نے انہیں کیا کچھ سکھادیا تھا۔
وہ بستر سے اٹھیں اور وضو بنانے چل دیں۔آخر انہیں ثابت بھی تو کرنا تھا کہ
حسینؓ ہمارے ہیں۔۔
محبت کے ہیں دعوے چار سو
محبت دور بیٹھی رو رہی ہے
فقط جھگڑے ہیں حسینؓ و عمرؓ پر
ہماری قوم ساری سو رہی ہے
ہمیں توفیق دے مولا ان سے عشق و محبت کی
دعا ایمی کی ہر دم ہو رہی ہے
ملیں جب حشر میں ہم ان سے مولا
وہ کہہ دیں مسکرا کے ایمی ہماری آرہی ہے
آمین