503

حقوق و فرائض کی جنگ اور ہمارے رویے

تحریر شئیر کریں

آج کل اکثر خواتین شکوہ کرتیں نظر آتیں ہیں کہ فلاں فلاں کام میرا فرض نہیں۔ گو کہ یہ مسئلہ بہت ہی تفصیل طلب اور پیچیدہ ہے اور اس کے متعدد پہلو ہیں۔ مگر مختصراً یہ سمجھ لیں کہ جب ہم کسی ذمہ داری سے یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ یہ ہمارا “فرض” نہیں، ہم اپنے اوپر احسان کا دروازہ بند کر لیتے ہیں۔
احسان رواداری خدمت یی وہ رویے ہیں جو دن بدن فرض کی پکار کی دبیز تہہ کے نیچے دبتے چلے جا رہے ہیں۔

بھائیوں کو اضافی غلہ دینا یوسف (علیہ سلام ) کا فرض نہیں تھا!!!

چچا کے بیٹے کی کفالت رسول اللہ ﷺ پر فرض نہ تھی!!!

کیا آپ جانتے ہیں کہ سنتیں ادا کرنا بھی ہم پر فرض نہیں؟

جو آج کے عجیب و غریب ہیومن میڈ سسٹم یا تحریکیں ہمیں ہمارے حقوق کی بہت یادہانی کرا رہے ہیں وہ تمام سسٹم یا تحریکیں احسان کا مطلب سمجھانے میں ناکام رہی ہیں!
اور یہ سب تحریکیں نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث کے سامنے رکھ کر دیکھیں۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے فرائض پورے کرو اور اپنا حق اللہ پر چھوڑ دو”کیا خوبصورت بات ہے۔ساری تنظیمیں اور ان کے سارے منشور اس ایک حدیث کے سامنے ہیچ اور بودے کھڑے نظر آتے ہیں۔
مزید فرمایا اس سے جوڑو جو توڑتا ہے۔یہ حدیث عمل اور ردعمل کے نتیجے میں جو رویے جنم لیتے ہیں ان سب کے خاتمے کے لیے اکسیر ثابت ہو سکتی ہے۔

فرض اور حقوق کی جنگ میں اپنے اوپر احسان کا دروازہ بند نہ کریں ۔ اللہ جس پر زیادہ ذمہ داری ڈالتا ہے، اُسے رتبے بھی بڑے دیتا ہے!

بیلاخاں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں