541

حوصلہ افزائی کیوں ضروری ہے؟

تحریر شئیر کریں

حمزہ خاں

میٹرک کے بعد جب میں داخلہ لینے کے لیے کالج گیا تو بہت زیادہ کنفیوز تھا لیکن اس وقت میرے بڑے بھائی نے میری ہمّت بڑھائی اور میری حوصلہ افزائی کی۔میں بہت پراعتماد تھا ،جسے ہی میں نے کالج میں قدم رکھا مجھ سے کچھ سوالات پوچھے گے اور اسی وقت مجھے داخلہ دے دیا گیا ۔میں کالج کا وه واحد طالب علم تھا جس کا بنا ٹیسٹ کے داخلہ ہوا ۔اگر میرے بھیا میری حوصلہ افزائی نہ کرتے تو میرا داخلہ ناممکن تھا ۔ایک بچہ جو کہ بہت نالائق تھا ،اس کی ماں کو سکول بلوایا گیا اور اس سے کہا گیا کہ کل اپنے بچے کو سکول نہ بھیجیے گا کیونکہ وه کند ذہن ہے ۔جب ماں گھر آئی تو بچے نے ماں سے استسفار کیا کہ سکول والوں نے آپ کو کیوں بلایا تھا تو اس کی ماں نے کہا کہ وه کہہ رہے تھے کہ آپ کا بچہ بہت لائق ہے ،ہمارے سکول کے بچے اتنے لائق نہیں اس لیے آپ اس بچے کو گھر میں پڑھائیں ۔بچہ بہت خوش ہوا ،اس نے محنت کی، بہت بڑا سائنسدان بنا اور بہت ایجادات کیں ۔جب اس کی ماں فوت ہوئی تو اسے ایک خط ملا جس پر لکھا تھا کہ اپنے بچے کل سے سکول مت بھیجیے گا کیونکہ وه بہت کند زہن ہے ۔وه یہ پڑھ کر رونے لگا ۔اس کی کامیابی ماں کی حوصلہ افزائی کا نتیجہ تھی ۔میرے ایک عزیز جو کہ استاد ہیں اپنے ایک سٹوڈنٹ کو لے کے بہت پریشان تھے کہ اس سے لکھا نہیں جاتا وه پاس نہیں ہو پاۓ گا ،میں ان سے کہا کہ آپ صرف بچے کی حوصلہ افزائی کیجیے اگر نہیں کر سکتے تو اسے میرے پاس بھیج دیں میں پڑھاو گا اسے ۔انہوں نے اس بچے کی حوصلہ افزائی کی اور وه پاس ہو گیا،استاد صاحب کی انکھوں میں اس بچے کی لیے خوشی سامنے دیکھ رہی تھی ۔وه بچہ کامیاب ہوا کیونکہ اس کی حوصلہ افزائی کی گئی اور اس کی خوبیاں اسے گنوائی گئیں۔ایک بچہ کلاس میں سو رہا تھا ،آنکھ کھلی تو دیکھا کہ بورڈ پر کچھ سوالات لکھے ہیں ،اس نے جلدی سے نوٹ کیا اور گھر چلا گیا ۔اسے وه سوالات بہت مشکل لگے ،ایک ہفتے بعد اس کلاس کا پیریڈ تھا تو وه ڈرتے ڈرتے استاد کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ میں نے صرف ایک سوال حل کیا ہے اور دوسرا حل نہیں ہوا ۔استاد صاحب بہت خوش ہوے اور کہنے لگے کہ یہ تو میں نے وه دو سوالات لکھے تھے جو اب تک دنیا کا کوئی انسان حل ہی نہیں کر پایا اور تم نے کر لیے کیا بات ہے(یہ بھی حوصلہ افزائی کا ایک طریقہ اور دیکھیں استاد صاحب نے بچے کو مایوس نہیں کیا )۔کسی سے یہ کہہ دینا کہ تم کچھ کر سکتے ہو اسے کچھ کرنے پر ابھارتا ہے ۔مت بچوں کے ویک پوائنٹس ڈھونڈھ کر انہیں تنقید کا نشانہ بنائیں ۔اگر آپ استاد ہیں تو اپنی کلاس میں موجود سب سے کمزور سٹوڈنٹ کی حوصلہ افزائی کیجیے ،اس کی خوبیاں گنوائی جائیں ،اس کی خامیوں پر پردہ ڈالیں پھر کچھ دنوں بعد نتائج آپ کو بچے میں مثبت تبدیلوں کے زریعے مل جائیں گے ۔میرا ماننا ہے کہ اگر کسی ناکام انسان کو کامیاب بنانا ہو تو اس کی حوصلہ افزائی کی جاۓ اور اسے بتایا جاۓ کہ تم تم کیا کر سکتے ہو۔پلیز پلیز حوصلہ افزائی میں کنجوسی مت کیا کریں ۔چلیں وعدہ کرتے ہیں کہ ہم اچھے کام کرنے والوں کی اور ناکام لوگوں کی حوصلہ افزائی کریں گے اور انہیں اکیلا نہیں چھوڑیں گے ۔آپ کوشش کریں گے ناں ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں