521

خلیفہ سوئم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا یوم شہادت

تحریر شئیر کریں

۔۔۔۔۔
تحریر:فائزہ ظفر
۔۔۔۔۔۔
حضرت ابو بکر ، علی ، عثمان ، عمر رضی اللہ عنہ چاروں خلفہ راشد ین کا جب بھی نا م آتا ھے دل عجیب احتر ام اور ادب سے بھر جا تا ھے ، ان عظیم ہستیو ں نے ہمارے نبی ﷺ کے سا تھ زند گیاں گزاریں ،چا روں ایسے صحابہ اکرام جو” فا ستبقو الخیرات” پہ عمل کر نے والے تھے ، ان چاروں چمکتے ھوے ستاروں میں سے ایک ستارہ حضرت عثمان رضی اللہ جن کی شہادت ۱۸ ذالحج کو ہوئی ۔ جی ہاں وہی عثما ن رضی اللہ جنھیں ھم نا شر قر آن کہتے ہیں ۔ وہی عثمان جنھیں ہم داماد مصطفی کہتے ہیں وہی عثمان جنھیں ہم ذالنو رین کہتے ہیں ۔وہی عثمان جن سے آسمان کے فرشتے بھی حیا کرتے تھے۔اور جن کے بارے میں نبی کریمﷺ نے فرمایا میری دو سے زائد بیٹیاں بھی ہوتیں تو یکے بعد دیگرے عثمان کے نکاح میں دیتا چلا جاتا۔

تاریخ کی چیخیں نکل جا ئیں اگر عثمان رضی اللہ کی مظلومیت کا ذکر کیا جا ئے ۔
حضر ت عثمان پہ 40 دن پانی بند رکھا گیا آج وہ عثمان پا نی کو تر س رہا تھا،جو کبھی امت کہ لیے پا نی کے کنو یں خر یدا کر تا تھا ۔
اسی عثمان کو 40 دن گھرمیں بند رکھا گیا جو مسجد نبوی کے لیے جگہ خر یدا کر تا تھا
40 دن گزر گئے اسی عثمان کو کھانا نہیں مالاجو انا ج سے بھرے اونٹ نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا کر تے تھے ۔
حضر ت عثمان روزہ کی حالت میں ہیں کہ با غی دیوار پھیلانگ کہ آ جا تے ہیں آپ کی داڑھی کھچنتے ہیں ایک لوہے کا آہنی ہتھیار سر پہ ما رتا ہے ایک ہاتھ کاٹ دیتا ہے ، جب باغیوں نے حملہ کیا تو آپ قرآن کی تلاوت کر رھے تھے تو گویا قرآن آپکی شہادت کی گو اہئ قیامت کے روز دے گا

اسلام وہ شجر نہیں جس نے پا نی سے غذا پائی
دیا خون صحابہ نے پھر اس میں بہار آئی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں