519

رانجھا راضی کیسے کیا جاۓ؟

تحریر شئیر کریں

رانجھا راضی کیسے کیا جاۓ؟انمول تحریر

زندگی ہر لمحہ کچھ سیکھنے کا نام ہے۔اس پہ تو میرا مکمل ایمان ہے۔مگر کچھ سبق ایسے ہوتے ہیں جو انسان کے لیے سیکھنے بڑے ضروری ہوتے ہیں۔آج کا سبق رانجھا راضی کرنے کے حوالے سے ہے۔جی ہاں سبق۔۔۔لفظ سبق اپنے اندر بڑی معنویت رکھتا ہے۔اسی مناسبت سے اس کا استعمال کیا ہے۔
رانجھا راضی کرنا “ایک پنجابی اصطلاح ہے۔جو پنجابی کلام میں استعمال کی جاتی ہے
پروفیسر صاحب بھی بڑے عجیب انسان تھےایسی ایسی باتیں چھیڑ دیتے کہ بندہ اپنی ہستی بھول کر ان کی باتوں میں کھو جاتا۔۔۔میں بھی اس دن کھو سی گئ تھی جب انھوں نے رانجھا راضی کرنے کی بحث چھیڑی تھی۔۔۔۔اول تو سمجھ ہی نا آئی۔۔آتی بھی کیسے پنجابی ادب سے دور دور تک شناسائی نا تھی۔۔۔جب تھوڑا سمجھ آئی تو پتہ چلا رانجھا کیسے کہا جا رہا ہے۔۔۔اس پاک ذات کو جس سے محبت کے دعوے تو بہت ہیں مگر حقیقت کچھ اور ہے۔رانجھا وہ ذات جس کی محبت رگ و پے میں دوڑنے لگے۔اور اس محبت کا نشہ سر چڑھ کر بولے۔۔۔
پروفیسر صاحب کی گفتگو جاری تھی۔۔۔ موضوع محبت تھا

یہ بھی پڑھیے

اللہ سے باتیں بہترین تھراپی

اور محبت الہی کی بات آۓ اور مثال ڈھونڈیں تو بہترین مثال صحابہ اکرام کے علاوہ کون سی ہستیاں ہو سکتیں ہیں۔ان سے زیادہ کون جانتا کہ رانجھا راضی کیسے کیا جاتا ہے؟

رانجھا راضی کیسے کیا جا ۓ؟یہ راز ہے۔ایسا راز جو قسمت والوں کا نصیب بنتا ہے۔رانجھا راضی تو ابوبکر صدیق نے کیا تھا ۔۔اتنا راضی کہ عمر فاروق ششد رہ جاتے۔۔اور تمنا کرتے کہ کاش میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے سبقت لے جاتا۔ایک دن کہنے لگے کہ آج تو ابوبکر صدیق سے آگے نکل جاوں گا۔جب دربار نبی میں حاضر ہوۓ تو پوچھا عمر کیا لاۓ ہو فرمایا یارسول اللہ اپنا آدھا مال اللہ کی راہ میں دیا۔ابو بکر سے سوال ہوا۔۔کیا لاۓ ہو فرمایا سب کچھ۔۔۔پوچھا گیا بیوی بچوں کے لیے کیا چھوڑا فرمایا اللہ اور اس کا رسول۔۔۔۔عمر حیران کھڑے رہ گۓ۔۔۔۔روایات میں آتا ہے گھر کا سارا سامان مال و دولت لانے کے بعد ابوبکر صدیق ؓ نے ہاتھ مارکر دیواریں تک ٹٹولیں کہ کہیں کوئی سوئی دیوار سے لگی نا رہ جاۓ۔اس جذبے کو کون شکست دے سکتا ہے۔یہی وجہ تھی آپ ﷺ کہہ اٹھے میں نے ہر شخص کے احسان کا بدلہ چکا دیا سواۓ ابوبکر کے۔۔۔رانجھے ایسے راضی کیے جاتے ہیں یہ سبق اگر ابوبکر صدیق کی سیرت سے سیکھیں۔تو اس سے اچھا نمونہ شایدہی کوئی ہو۔

ہم رانجھا راضی کیوں نہیں کرتے؟پروفیسر نے سوال پوچھا تھا۔

سب چپ کی مہر لگاۓ سر جھکاۓ بیٹھے تھے۔اور بولتے بھی کیسے؟
میں گھر آ کر کافی دن اس موضوع کی بحث میں کھوئی رہی۔۔۔پروفیسر صاحب کا آخری سوال رہ رہ کر دماغ میں آتا۔۔۔بہت سوچا۔۔۔۔رانجھا راضی کرنا رو اگلی سٹیج ہے ابھی تو ہم نے اسے رانجھا مانا ہی نہیں۔یہ ادراک بڑا خوفناک تھا۔اتنا خوفناک کہ میں اندر تک دہل اٹھی۔۔۔۔اور پھر اس دن کے بعد سے ایک دعا بڑی سرعت سے میری دعاؤں میں آن بسی تھی۔۔۔۔اللہ سے محبت کی دعا۔۔۔ اللھم انی اسئلک حبک و حب من یحبک وحب احب الی من نفسی و مالی و اہلی و من الماء البارد
ترجمہ:اے اللہ میں سوال کرتی ہوں تجھ سے تیری محبت کا،ایسی محبت جو محبوب ہو مجھے اپنی جان مال اور اہل سے اور ٹھنڈے پانی سے ۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں