547

رسول عربی کی سیرت کا مطالعہ کیوں ضروری ہے؟

تحریر شئیر کریں

رسول عربی کی سیرت کا مطالعہ کیوں ضروری ہے؟

تحریر: رابعہ شیخ

سیرت النبی ایک انتہائی اہم اور حساس موضوع ہے مجھ جیسی ناچیز اس پر کچھ لکھنے کی جسارت بھی نہیں رکھتی ۔ ایک ادنٰی سی کوشش کی ہے معافی کی گنجائش رکھئے گا ۔
رسول عربی کی سیرت کا مطالعہ کیوں ضروری ہے ؟
رسول عربی ﷺ کی سیرت کا مطالعہ اس لئے ضروری ہے کہ جب ایک شخص ہم سے یہ بیان کرے کہ میں تمہارے فائدے کی کچھ بات کہنا چاہتا ہوں , تو کون عقل سلیم رکھنے والا ایسا ہے جو اس بات کو سننے سے انکار کرے ۔ آنحضرت ﷺ نے اپنی زندگی میں جب پہلی مرتبہ یہ فرمایا تھا کہ میں تمام عالموں کے لئے رحمت بن کر آیا ہوں اور میرے لائے ہوئے دین اسلام کے بغیر دنیا اور آخرت کی بھلائی حقیقت میں حاصل نہیں ہوسکتی تو اس پر اوچھی طبیعت رکھنے والوں نے تو ٹھٹھول شروع کیا اور مخالفت پر اتر آئے ۔ جبکہ سنجیدہ لوگوں نے اس کے برخلاف یہ پوچھا کہ دین اسلام کس کو کہتے ہیں ؟ اور آپ کی رائے میں ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ پھر جواب اور توضیح پر ٹھنڈے دل سے غور کیا اور جسکی رائے میں بات معقول تھی اس نے اس دین کو قبول کرلیا ۔


اسلام کا اصل اصول یہ ہے کہ
(فی الدنیا حسنةوفی الاخرة حسنة)
” یعنی دنيا میں بھی اچھی راہیں اور آخرت میں بھی “
دیکھنا یہ ہی ہے کہ دنیاوی معاملات میں آنحضرت ﷺ کی سیرت اور طرز زندگی میں ہمارے لئے سبق ہی سبق ہیں


دنیا میں یک حیثیتی بڑے لوگوں کی کبھی کمی نہیں رہی ہے لیکن اگر ہم سکندر اعظم اور نپولین وہٹلر کو لیں تو ان کی زندگی ایک سپہ سالار جنگ اور فاتح کے لئے مفید مواد مطالعے کے لئے پیش کرسکتی ہے ۔ گوتم بدھ کی زندگی ریاضت و عبادت میں خصوصی دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ہی سبق آموز ہو سکتی ہے ۔ ہومر صرف ایک شاعر تھا افلاطون و ارسطو صرف حکیم وفلسفی تھے ۔ زندگی کے دوسرے شعبوں میں ان کی کوئی بڑی کامیابی نہیں یہ تمام لوگ اپنی زندگی کے کسی ایک شعبے میں کامیاب ہیں اس کے برخلاف رسول عربی ﷺ کی زندگی پر نظر ڈالئے ۔ میرے اور آپکے پیارے نبی ﷺ ہر پہلو ہر لحاظ سے ہر شعبے میں عملی نمونہ پیش کرتے ہیں اور آپ ﷺ کی زندگی کامیابی کے لحاظ سے ایک بےنظیر چیز ہے ۔
ہمیں چاہیے کہ ہم سیرت النبی کا مطالعہ کریں اپنی زندگی کے ہر پہلو میں اس سے مدد لیں ۔

ہے کہ جب ایک شخص ہم سے یہ بیان کرے کہ میں تمہارے فائدے کی کچھ بات کہنا چاہتا ہوں , تو کون عقل سلیم رکھنے والا ایسا ہے جو اس بات کو سننے سے انکار کرے ۔ آنحضرت ﷺ نے اپنی زندگی میں جب پہلی مرتبہ یہ فرمایا تھا کہ میں تمام عالموں کے لئے رحمت بن کر آیا ہوں اور میرے لائے ہوئے دین اسلام کے بغیر دنیا اور آخرت کی بھلائی حقیقت میں حاصل نہیں ہوسکتی تو اس پر اوچھی طبیعت رکھنے والوں نے تو ٹھٹھول شروع کیا اور مخالفت پر اتر آئے ۔ جبکہ سنجیدہ لوگوں نے اس کے برخلاف یہ پوچھا کہ دین اسلام کس کو کہتے ہیں ؟ اور آپ کی رائے میں ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ پھر جواب اور توضیح پر ٹھنڈے دل سے غور کیا اور جسکی رائے میں بات معقول تھی اس نے اس دین کو قبول کرلیا ۔
اسلام کا اصل اصول یہ ہے کہ
(فی الدنیا حسنةوفی الاخرة حسنة)
” یعنی دنيا میں بھی اچھی راہیں اور آخرت میں بھی “


دیکھنا یہ ہی ہے کہ دنیاوی معاملات میں آنحضرت ﷺ کی سیرت اور طرز زندگی میں ہمارے لئے سبق ہی سبق ہیں
دنیا میں یک حیثیتی بڑے لوگوں کی کبھی کمی نہیں رہی ہے لیکن اگر ہم سکندر اعظم اور نپولین وہٹلر کو لیں تو ان کی زندگی ایک سپہ سالار جنگ اور فاتح کے لئے مفید مواد مطالعے کے لئے پیش کرسکتی ہے ۔ گوتم بدھ کی زندگی ریاضت و عبادت میں خصوصی دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ہی سبق آموز ہو سکتی ہے ۔ ہومر صرف ایک شاعر تھا افلاطون و ارسطو صرف حکیم وفلسفی تھے ۔ زندگی کے دوسرے شعبوں میں ان کی کوئی بڑی کامیابی نہیں یہ تمام لوگ اپنی زندگی کے کسی ایک شعبے میں کامیاب ہیں اس کے برخلاف رسول عربی ﷺ کی زندگی پر نظر ڈالئے ۔ میرے اور آپکے پیارے نبی ﷺ ہر پہلو ہر لحاظ سے ہر شعبے میں عملی نمونہ پیش کرتے ہیں اور آپ ﷺ کی زندگی کامیابی کے لحاظ سے ایک بےنظیر چیز
ہمیں چاہیے کہ ہم سیرت النبی کا مطالعہ کریں اپنی زندگی کے ہر پہلو میں اس سے مدد لیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں