سردی کی عبادتیں
ں
سردیوں کی عبادات جو زیادہ اجرو ثواب کا باعث ہیں۔
سردی عبادات کا موسم بہار ہے۔یہ کسی انسان کے نہیں بلکہ حدیث کے الفاظ ہیں۔سردیوں کا موسم چونکہ بہت سے مسائل کی وجہ ہوتا ہے۔اس لیے عموما لوگ اسے برا بھلا بھی کہتے ہیں ۔تو سب سے پہلی عبادت تو یہ ہونی چاہیے کہ وقت کو چاہے وہ گرمی کا ہو یا سردی کا کبھی بھی برا مت کہیں۔حدیث کے مطابق زمانے کو گالی مت دو زمانہ تو میں خود ہوں۔”
سردیوں کی دو عبادات
کیا ہی خوبصورت بات ہے جس نے بھی کہی ہے۔ہوچھا گیا محبت کیا ہے؟بتانے والے بتایا سردی کا موسم ہو اور آدھی رات کا وقت ہو تو بستر سے اٹھ کر تہجد پڑھنا۔یہ ہے اصل مومن کی عقیدت اور محبت
سردیوں میں دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہو تیں ہیں سو دن میں روزہ رکھنا گرمی کی نسبتا بہت آسان ہوتا ہے اور سردیوں کی راتیں لمبی ہوتیں سو تہجد پڑھنے کا وقت مل جاتا ہے۔مسند احمد کی حدیث ہے کہ سردی کا موسم مومن کے لیے بہار کا موسم ہوتا ہے۔دن چھوٹا ہوتا جس میں وہ آسانی سے روزہ رکھ لیتا ہے اور راتیں لمبی ہوتیں جن میں آسانی سے تہجد پڑھ لیتا ہے۔”
وضو سردیوں کی اجر والی عبادت
سردی میں چونکہ ٹھنڈے پانی سے وضو کرنا کافی مشکل لگتا ہے۔اس لیے اللہ نے اس پہ اجر و ثواب کا وعدہ کیا ہے۔حدیث کے الفاظ کے ناگواری کے باوجود وضو کرنا۔مطلب سردی کا وضو ہے۔
پھر اوقات کے لحاظ سے بھی نمازوں کا پڑھنا ظہر سے لے کر عشاء تک بمشکل ایک ایک گھنٹے کا وقفہ آتا ہے۔جسے مینج کرنا مشکل ہوتا ہے۔
صدقہ خیرات سردیوں کی مخصوص اجر والی عبادت
جن لوگوں کو اللہ نے مال سے نوازا ہے وہ سردیوں میں مستحقین پر خرچ کر کے بھی اجرو ثواب کما سکتے ہیں۔جیسا کہ سردی کے کپڑے وغیر ہ بنوا کر بانٹنا اور گرم خوراک مہیا کرنا یہ سب اجر کا باعث بن سکتا ہے۔