495

سورہ کہف،ایمان اور کروناوائرس

تحریر شئیر کریں

سورہ کہف قرآن کی شہکار سورتوں میں سے ایک ہے۔ایک مدت سے اس سورت پہ تدبر جاری تھا۔یہاں تک کہ کرونا وائرس ہم تک آن پہنچا۔کرونا وائرس ایک گتھی ہے۔۔جسے جتنا سلجھایا جاۓ الجھتی جاتی۔۔۔مختصر اور سادہ بات صرف اتنی ہے کہ یہ دجالی فتنوں میں سے ایک ہے۔یا یوں کہہ لیں دجالی عہد کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔یہ وبا آئی نہیں بلکہ لائی گئ ہے۔کیوں اور کس لیے لائی گئ۔۔۔اسی سوال میں سارے راز پنہاں ہیں۔کہا جا رہا کہ کرونا وائرس کی ویکسین میں ایسے ٹریکیر انسانی جسم میں لگاۓ جائیں گے جو انسان کی سوچوں تک رسائی پا لیں گے۔علاوہ ازیں اسے ہر وقت مانیٹر بھی کیا جا سکے گا۔اس کا خاص ٹارگٹ مسلم امہ ہے ۔یہ انکے ایمان کو نگل لے گی۔سورہ کہف پہ غور کرنے سے مجھے اس سوال کا جواب مل گیا کہ ایسے حالات میں ہم اپنے ایمان کا بچاؤ کیسے کریں؟جبکہ جتنا کرونا کا خوف پھیلایا جا چکا۔۔۔ہر کس و ناکس اس انتظار میں ہے کہ کب ویکسین آۓ اور اس سے جان چھوٹے۔سورہ کہف میں کچھ نوجوانوں کا تزکرہ ملتا ہے جو اپنا ایمان بچانے کے لیے غار میں چھپ جاتے ہیں۔جہاں وہ تین سو سال کے بعد اٹھتے ہیں۔یوں ایک طرف اللہ نے ان کے ایمان کی حفاظت کی تو دوسری طرف اس وقت کے قیامت کےمنکروں کو دکھایا کہ اللہ مردوں کو اسی طرح اٹھا کھڑا کرے گا جیسا کہ اصحاب کہف کو ۔۔۔۔۔
کرونا وائرس ہمارے ایمان پہ حملہ ہے۔ہماری نماز کی کڑی کو توڑ دیا گیا۔حج اور عمرہ روک دیے گئے۔۔۔یہ تو ایک بظاہر نظر آنے والی چیزیں هیں جو هر مسلمان دیکھ سکتا هے۔مگر اصل گیم ابھی پوشیدہ ہے۔اس گیم کا ہدف یقینا کوئی اور نہیں مسلم امت ہے۔بل گیٹس اپنی زبان سے بارہا اپنے ناپاک منصوبے کا زکر کر چکا ہے۔
سورہ کہف ،دجال ، ایمان اور کرونا وائرس یہ سب ایک ترتیب سے دیکھیں جائیں تو پزل گیم حل ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔سورہ کہف کو دجال سے بچاؤ کی سورت کہا جاتا ہے۔اسے پڑھنے والا دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔کیا قرآن صرف پڑھنے کی حد تک مطلوب ہے۔آپ کا جواب یقینا نفی میں ہوگا۔قرآن پر عمل اس کے مقاصد میں شامل ہے۔سورہ کہف کی تعلیمات پر جب تک عمل نہیں ہوگا۔دجال سے بچاؤ ممکن نہیں۔ایمان بچانے کے لیے اس وقت کے اہل ایمان نے غار میں پناه لی تھی۔ہمیں کیا کرنا ہوگا؟
کرونا ویکسین جن کو لگے گی وہی ہوائی سفر کر سکیں گے۔یہاں تک کہ سکولوں میں داخلہ بھی انہی بچوں کو دیا جاۓ گا جو ویکسینشن کروائیں گے؟تو اب بتائیں کیا ہمیں بھی غاروں میں پناہ لینی ہو گی۔۔۔آئسولیشن ،قرنطینہ میں جانا ہوگا۔۔۔۔اصحاب کہف بھی آئسولیشن میں گۓ تھے۔نبی کریم ﷺ شہب ابی طالب میں محصور کر دیے گۓ۔۔۔۔یہ اہل یمان کے لیے نشانیاں ہیں کہ تم اس امتحان میں نۓ نہیں ہو۔۔تم سے پہلی امتیں بھی انہی جیسے امتحانوں سے گزر چکیں۔۔
ہمیں قرآن سے مدد لینی ہوگی۔۔۔دورفتن کی احادیث کا مطالعہ ناگزیر ہے۔۔۔وقت پلٹا کھا رہا۔۔دجال کی آمد کی تیارہاں شروع ہوچکیں ہیں۔اہل ایمان کب جاگیں گے؟کیا اہل ایمان کے لیے اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ جاگ جائیں؟؟؟؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں