733

سورہ کہف ہم سے کیا کہتی ہے؟

تحریر شئیر کریں

سورہ کہف ہم سے کیا کہتی ہے؟جانیے قلم کتاب پر؟

✒️: ماوراء زیب

عالمِ تکوین کی اصطلاح شاید بہت سے لوگوں کے لیے نئی ہو لیکن یہ نظریہ بہت پرانا ہے۔ یہ ایک ایسی دنیا ہے جو ہماری نظروں سے پوشیدہ ہے۔ وہ تمام کام جو ہمیں کبھی اچھے لگتے ہیں اور کبھی برے ان سب کا تعلق اسی عالمِ تکوین سے ہے۔

مفتی تقی عثمانی کی اس سلسلے میں کی گئی تشریح مجھے بہت پسند ہے، وہ کہتے ہیں:

“روزمرہ کی زندگی میں ہمیں بہت سے منظر ایسے نظر آتے ہیں جن پر ہمارا دل دکھتا ہے، بہت سے انسانوں کی مظلومیت کو دیکھ کر بعض اوقات دل میں شکوک و شبہات پیدا ہونے لگتے ہیں۔ حضرت خضر علیہ السلام کے ذریعے عالمِ تکوین کی ایک جھلک دکھا کر ایک مومن کے لیے ایسے شکوک و شبہات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔”

اب یاد کیجیے کہ حضرت خضر علیہ السلام کا ذکر کہاں ہوا ہے؟ سورہ کہف میں۔

وہی سورہ کہف جس کی تاکید ہر جمعۃ المبارک کو پڑھنے کی کِی گئی ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے پڑھنے سے مراد صرف ناظرہ پڑھنا لے لیا ہے۔کبھی سوچا ہی نہیں کہ آخر کیا وجہ ہے جو یہ سورت فتنوں سے بچنے کے لیے اتنی اہم قرار دی گئی ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کا واقعہ صرف پڑھنے میں ہی دلچسپ نہیں ہے بلکہ سمجھنے میں بھی دلچسپ ہے۔ اگر ہم اپنے مفسرین کو دیکھیں تو سب کے خیال میں اب عالمِ تکوین کا راستہ بند ہے کیونکہ اس تک رسائی صرف اور صرف وحی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور ان کے وصال کے بعد سے وحی کی کوئی صورت نہیں اس لیے عالمِ تکوین کا راستہ بھی ہمارے لیے بند ہوچکا ہے۔ اب یہ بات تو واضح ہوگئی کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سے نبوت کا سلسلہ بھی ختم اور وحی کا بھی۔ پھر ہم مسلسل ملحدانہ جملے اپنے ارد گرد گردش کرتے ہوئے کیوں دیکھتے ہیں؟

جیسا کہ آج کل فلسطین کا حال ہے، تقریباً دو سال سے کشمیر ظلم و بربریت کی پابندیوں میں جکڑا ہوا ہے۔ برما، شام، مصر، افغانستان، ایغور، بوسنیا، چچینیا اور نجانے کہاں کہاں مسلمان ظالم کے ہاتھوں بے بس ہیں۔ ایسے میں کچھ درد مند حضرات اٹھتے ہیں اور اللہ عزوجل سے سوال و جواب کرنا شروع کردیتے ہیں، چند ادبی شخصیات نمایاں ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور اللہ عزوجل پر سوال و جواب کی بوچھاڑ شروع ہوجاتی ہے۔ شعرا حضرات شاعری میں اس مالکِ کون و مکاں پر اعتراضات شروع کردیتے ہیں۔ کوئی بے چارہ دین کا سیدھا سیدھا علم رکھنے والا ٹوک دے تو اسے جھڑک دیا جاتا ہے کہ یہ ادب ہے۔ دین والے کیا جانے ادب کی رمز؟؟ ظلم ہورہا ہے لوگوں پر… ہم اللہ عزوجل کو یاد دلا رہے ہیں کہ یہ اس کے بندے ہیں،،،، نعوذباللہ علی ذالک

جبکہ یہ تمام کام عالمِ تکوین سے متعلق ہیں، ہمارا اور آپ کا کام نہیں ہے اس سب میں بولنا۔ وہ ذات جس نے ہمیں تخلیق کیا ہے ستر ماؤں سے بڑھ کر اسے ہماری پرواہ ہے۔ وہ اللہ ہمیں کیسے بھول سکتے ہیں۔
لوگو! کیوں خود کو فتنوں کے بھنور میں الجھاتے ہو؟ سورہ کہف تو فتنوں سے بچانے والی سورت ہے کبھی غور سے پڑھ کر تو دیکھو، حضرت خضر علیہ السلام کو عالمِ تکوین کا علم دیا گیا تھا وہ ہمارے لیے نہیں ہے۔ ہم اس رحمان و رحیم پر سوال نہیں اٹھا سکتے۔ یہی تو سبق دیا جارہا ہے ہمیں جو ہمارے لیے نہیں ہے وہ ہم نہیں لے سکتے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس شریعت کا علم تھا اور وہ ان پر ایمان لانے والوں کے لیے تھا۔

حضرت خضر اور اور موسیٰ علیہما السلام کے قصے میں ہمارے لیے سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ وہ تمام کام جن کا تعلق براہ راست اللہ عزوجل کے فیصلوں سے ہے ہم اس پر بات نہیں کرسکتے، ہم نعوذباللہ ! اللہ تعالیٰ کی ذات کو کسی ناانصافی کے لیے موردِ الزام نہیں ٹھہرا سکتے بلکہ ہمارا کام تو شریعت کی پابندی کرنا ہے کیونکہ وہ ہمارے لیے ہے اور نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہمیں قیامت تک کی شریعت دے دی گئی ہے۔ ہم اگر مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ عزوجل پر اجارہ داری کی سند لے کر اترے ہیں بلکہ ہم تو اس شریعت کے پابند ہیں اور بطور ایک مسلمان گھرانے کے پیدائشی فرد ہونے کے اس بات کے زیادہ ذمہ دار ہیں کہ اس شریعت کو اپنی زندگی کے ہر پہلو پر لاگو کریں۔ پھر چاہے وہ پہلو ادب سے متعلق ہو یا معاملات سے۔

تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
کہ تو گُفتار وہ کردار، تو ثابت وہ سیارا

اب شریعت میں تو جہاد بھی حکم ہے، مگر ہمارے لوگوں کا وہی حال ہے کہ جس بات سے منع کیا جاتا ہے اسی کے ہی پیچھے بھاگتے ہیں۔ شریعت کے حکم کو تو ایک طرف رکھ دیا اور عالمِ تکوین کے نظریے کی بنیاد پر تصوف کا نظریہ بنا لیا اور اسی کے مطابق زندگی گزارنے کا عمل جاری و ساری ہے۔

سورہ کہف کھول کر دیکھو تو سہی، اسے سمجھو تو سہی کہ وہ کیسے ہمیں فتنوں سے بچاتی ہے۔ پڑھنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بس عربی پڑھ لی، نہ پیغام سمجھا نہ سمجھنے کی کوشش کی۔

فلسطین کی موجودہ حالت کے پیشِ نظر سورہ کہف کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ فتنہ صرف فتنۂ دجال نہیں ہے بلکہ لا تعداد فتنے اور بھی ہیں۔ دجال کا فتنہ تو ایک سمندر ہے اور اس سمندر میں گرنے والے وہ ندی نالوں کی طرح بےشمار چھوٹے چھوٹے فتنے ہیں جو ہمیں دجال کے فتنے کی طرف کھینچتے ہیں۔ ہماری سب سے بڑی غلطی یہی ہے کہ ہم ان چھوٹے چھوٹے فتنوں کی پرواہ نہیں کر رہے اور غیر محسوس طریقے سے ایک بڑے فتنے کی طرف بڑھے چلے جا رہے ہیں۔

وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

اللہ عزوجل کے تکونی فیصلوں پر چھوٹے چھوٹے سوالات اٹھانا ہمیں ملحدانہ روش کی طرف لے جاتا ہے لیکن ہم اس کو نجانے کون سا لاڈ سمجھے بیٹھے ہیں۔ ماں باپ کو تو عزت دے دیتے ہیں لیکن خالقِ کائنات کے متعلق ایسے بات کرتے ہیں جیسے تمام حقوق حاصل کر رکھے ہو‌ں۔ شریعت کو ایک طرف رکھ دیا ہے، مسلمان گھرانے میں پیدائش کا زعم ہے، مسلمانوں کے حالات پر دل بے چین ہیں بجائے اس کے کہ ہم قرآنِ پاک کے پیغامات کو سمجھنے کی طرف آئیں، الٹا اس ذات پر سوالات اٹھانا شروع کردیتے ہیں جس کے ہم غلام ہیں، بندے ہیں۔ یہ کہاں کا طریقہ کار ہے، یہ کون سی عبودیت ہے؟؟

ایسے بھی لوگ پائے جاتے ہیں جو دین کی باتوں اور قرآن کی تفسیر کو اپنے ہی رنگ میں رنگنا شروع کردیتے ہیں۔ انہیں اگر کہا جائے کہ آپ کیوں مفسر بن رہے ہیں پہلے کسی مستند مفسر کو پڑھ تو لیں، یہ علم درست طریقے سیکھ لیں۔ تو آگے سے جواب ملتا ہے ہم نہیں مانتے کسی کو۔ سب فرقہ واریت پھیلا رہے ہیں۔ ہم خود سمجھ لیں گے قرآن کو۔ اور پھر قرآن کی ایسی ایسی تفسیر کی جاتی ہے کہ بے ساختہ علامہ اقبال کا یہ شعر ذہن میں آجاتا ہے۔

احکام تیرے حق ہیں مگر اپنے مفسر
تاویل سے قرآں کو بنا سکتے ہیں پاژند

ہم دنیا میں کسی علم کی کوئی کتاب نہیں لکھ سکتے جب تک اس کا مکمل علم نہ حاصل کر لیں لیکن قرآن اور عربی سمجھے بغیر تفسیر کردینا بہت آسان سمجھتے ہیں۔ قرآن تو دور کی بات ہمارے لیے تو سورہ کہف کا پڑھنا اور سمجھنا ہی اتنا مشکل ہوگیا ہے۔ عالمِ تکوین اور شریعت کے سیدھے سیدھے حکم کو نہیں سمجھ پاتے اور پھر بات کرتے ہیں اپنے حقوق کی۔ سنبھل جاؤ لوگو سنبھل جاؤ۔ بہت سے ممالک میں مسلمانوں کو مسلا جارہا ہے، فلسطین اور مسجدِ اقصٰی نشانے پر ہے۔اب تو سنبھل جاؤ۔ سورۂ کہف تم سے کیا کہہ رہی ہے ایک بار رک کر اسے سنو تو سہی۔ صرف ایک بار اس قرآن کے پیغام کو سمجھو تو سہی۔درست طریقے سے اس کا علم حاصل کرنے کی کوشش تو کرو۔ یہ تمہارے تمام شکوک و شبہات کو دور نہ کردے اور تمہارے دل پر مرہم نہ رکھ دے تو کہنا،

بس ایمان والے دل و دماغ سے سمجھو تو سہی!!!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں