553

سور چربی کی تاریخ

تحریر شئیر کریں

سور چربی کی تاریخ
ڈاکٹر ایم امجد خان

ہر امتی پہ لازم ہے کہ وہ اسے جانے تحقیق کرے۔
جہاں تک سور کی بات ہے تو یہ بہےرین گوشت کے طور پر امریکہ سمیت یورپی ممالک کا پہلا انتخاب ہے۔اس ناپاک جانور کو باقاعدہ فارم کی صورت میں پالا جاتا ہے۔اور لاتعداد فارمز اس مقصد کے لیے بنائے گئے ہیں۔صرف فرانس میں۔42 ہزار پگ فارمز موجود ہیں۔

سور کی چربی واحد چربی ہے جس میں۔ سب سے زیادہ فیٹ پایا جاتا ہے۔ اس سے بچنے کی کی یورپین کوشش کرتے ہیں۔ اس چربی کو ٹھکانے لگانے کے لیےباقاعدہ پلاننگ کی جاتی ہے۔ محکمہ خوراک اس چربی کو جلانے کا۔ ذمہ دار تھا۔ ساٹھ سال بعد یورپین نے ایک منصوبے کےتحت اسکی پروڈکٹس بنائیں گئیں اور اسلامک ممالک کو ترسیل شروع ہو گی۔ سور کی چربی سےصابن کا ترجمہ خاصا کامیاب رہا۔

شروع میں سور کی چربی سے بنی مصنوعات پر contents کی تفصیل میں pig fat واضح طور پر مصنوعات کے لیبل پر درج کیا جاتا تھا۔جس کی وجہ اسلامک ممالک نے بائکاٹ کیا۔
، جس کے نتیجے میں ان کو تجارتی خسارہ ہوا۔

وقت کے ساتھ اگر آپ 1857 میں چلے جائیں تو معلوم ہوگا کہ اس وقت رائفل کی یورپ میں بنی گولیوں کو برصغیر میں سمندر کے راستے پہنچایا گیا۔سفر لمبا ہونے کی وجہ سے سمندر کی۔ نمی سے گن پاوڈر خراب ہوگیا۔ جس کا حل یہ نکالا گیا کہ گن بندوق پر سور کی چربی کی پرت لگائی گئ۔ جسے اتارنے کے لیے دانتوں سے کھرچا جاتا تھا۔جب یی بات کھلی تو فوجیوں بائیکاٹ کر دیا۔ اس کے بعد یورپ نے پینترا بدلا اور کوڈنگ کی صورت میں لیبل لگانے شروع کر دیے۔ جس کا ہر کسی کو پتہ نہیں چلتا۔

وہ اور سمندر کی نمی کی وجہ سے اس میں موجودگن پاؤڈر خراب ہوگیا اور گولیاں ضایع ہو گئیں۔
اس کے بعد گولیوں کو محفوظ کرنے کے لئے سور کی چربی کی پرت گولیاں پر لگانے لگے ۔ گولیوں کو استعمال کرنے سے پہلے ان کو کھرچنا پڑتا تھا جب یہ بات پھیلی تو فوجیوں۔ نے بغاوت کر دی۔ ایک بار پھر بائیکاٹ ہوا اور بھاری نقصان یورپ کے حصے میں آیا۔

1970 کے بعد سے یورپ میں رہنے والے تمام لوگ اس حقیقت کو جانتے ہیں کہ جب ان کمپنیوں سے مسلمان ممالک کے حکام نے پوچھا کہ یہ کیا ان اشیا کی تیاری میں جانوروں کی چربی استعمال کی گئی ھے اور اگر ھے تو کون سی ہے تو ، ان کو بتایا گیا کہ ان میں گائے اور بھیڑ کی چربی ہے۔ یہاں پھر ایک اور سوال اٹھایا گیا ، کہ اگر یہ گائے یا بھیڑ کی چربی ہے تو پھر بھی یہ مسلمانوں کے لئے حرام ہے ، کیونکہ ان جانوروں کو اسلامی قانون کے مطابق حلال طریقہ سے زبح نہیں کیا گیا تھا۔

انتہاپسندی کے اسباب اور سدباب

اس طرح ، ان پر دوبارہ پابندی عائد کردی گئی۔ اب ان کثیر القومی کمپنیوں کو ایک بار پھر کا نقصان کاسامنا کرنا پڑا کیونکہ ان کی آمدنی کا بڑا حصہ مسلم ممالک کو اپنا سامان بیچنے سے حاصل ہوتا تھا۔
آخر کار انہوں نے کوڈڈ زبان استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ، تاکہ صرف ان کے اپنےمحکمہ فوڈ کی ایڈمنسٹریشن کو ہی پتہ چل سکے کہ وہ کیا استعمال کر رہے ہیں ، اور عام آدمی اندھیرے میں ہی رہے۔ اس طرح انہوں نے ای کوڈز کا آغاز کیا۔ یوں اجکل یہ E-INGREDIENTS کی شکل میں کثیر القومی کمپنیوں کی مصنوعات پر لیبل کے اوپر لکھی جاتی ہیں ،
ان مصنوعات میں
دانتوں کی پیسٹ، ببل گم، چاکلیٹ، ہر قسم کی سوئٹس ، بسکٹ،کارن فلاکس،ٹافیاں
کینڈیڈ فوڈز
ملٹی وٹامنز اور بہت سی روائیاں شامل ہیں چونکہ یہ سارا سامان تمام مسلمان ممالک میں اندھا دھند استعمال کیا جارہا ہے
سور کے اجزاء کے استعمال سے ہمارے معاشرے میں بے شرمی ، بے رحمی اور جنسی استحصال کے رحجان میں بے پناہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ھے

لہذا تمام مسلمانوں اور ل سور کے گوشت سے اجتناب کرنے والوں سے درخواست ھے کہ وہ روزانہ استعمال ہونے والے ITEMS کی خریداری کرتے وقت ان کے content کی فہرست کو لازمی چیک کرلیا کریں اور ای کوڈز کی مندرجہ ذیل فہرست کے ساتھ ملائیں۔ اگر نیچے دیئے گئے اجزاء میں سے کوئی بھی پایا جاتا ہھو تو ، پھر اس سے یقینی طور پر بچیں ، کیونکہ اس میں سور کی چربی کسی نہ کسی حالت میں شامل ہے۔

  • E100 ، E110 ، E120 ، E140 ، E141 ، E153 ، E210 ، E213 ، E214 ، E216 ، E234 ، E252 ، E270 ، E280 ، E325 ، E326 ، E 327 ، E334 ، E335 ، E336 ، E337 ، E422 ، E41 ، E431 ، E432 ، E433 ، E434 ، E435 ، E436 ، E440 ، E470 ، E471 ، E472 ، E473 ، E474 ، E475 ، E476 ، E477 ، E478 ، E481 ، E482 ، E483 ، E491 ، E492 ، E493 ، E494 ، E549 ، E542 E572 ، E621 ، E631 ، E635 ، E904 *

ڈاکٹر ایم امجد خان
میڈیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ، ریاستہائے متحدہ امریکہ

سور چربی کی تاریخ آپ نے پڑھی۔ہر ایک پی لازم ہے جہاں تک ہو سکے ان اشیاء سے بچنے کی کوشش کرے۔

یاد رھے کہ شیئرنگ صدقة جاريه میں گردانی جا سکتی ھے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں