455

سُچا سودا

تحریر شئیر کریں

سُچا سودا کر کے تو دیکھیں تقدیر نا بدل جاۓ تو کہنا

وہ غور کر رہی تھی کہ بلی بڑی للچائی ہوئی نظروں سے اسے گوشت دھوتے ہوۓ دیکھ رہی تھی پہلے تو اس نے دھیان نا دیا۔بس اسی میں خوش تھی کہ آج پورے دو ماہ بعد ان کے گھر گوشت آیا تھا۔لہذا اچھا کھانے کا سوچ کر ہی دل نہال ہوگیا تھا۔اس۔نے دو تین بوٹیاں بلی کے آگے بھی پھینک دیں۔

بلی کی آنکھیں گوشت کی بوٹیاں دیکھ کر کھل اٹھیں تھیں۔یکلخت وہ آگے بڑھی اور گوشت کھانا شروع کردیا۔سارہ دیکھ کر پریشان ہوگی کہ نجانے کب کی بھوکی ہے جو ایسے کھا رہی جیسے برسوں سے کچھ نا کھایا ہو۔

شام حسن گھر آیا تو اس کے ہاتھ میںں پھلوں کا شاہر تھا۔اور پھل تو اس غریب گھر کی وہ عیاشی تھی جو بڑی اچھی دیہاڑی لگنے پر ہی نصیب ہوا کرتی تھی۔کیا بات ہے آج بڑے خوش دکھائی دے رہے۔سارہ نے حسن کے ہاتھ سے پھلوں کا شاپر پکڑتے ہوۓ پوچھا۔جانتی تھی پر پوچھے بغیر رہ نا سکی۔ہاں لگتا آج تم نے دل سے دعا کی ہے جو اللہ نے پورے پچیس سو کی دیہاڑی لگا دی۔نل کے نیچےہاتھ دھوتے حسن نے جواب دیا جس کا لہجہ ہی نہیں آنکھوں سے بھی خوشی چھلک چھلک کر باہر آ رہی تھی۔سارہ نے اللہ کا شکر ادا کیا۔جو آج اتنے عرصے بعد کام ملنا شروع ہوا تھا۔

بلی اب مقرره وقت پر روز آنے لگی تھی اسے اپنی یہ نئ مالکن بڑی مہربا ن لگی تھی۔جو اس کی آمد کی منتظر ہوتی جیسے ہی وہ آتی دودھ سے بھرا کٹورہ رکھ دیتی جسے وہ غٹاغٹ پی جاتی۔سارہ ایک مہربان عورت تھی۔شادی کو تین سال ہو گۓ پر ابھی گود ہری نا ہوئی تھی۔اکیلے پن کو دور کرنے کے لیے وہ کبھی مرغیاں رکھ کر ان کی آو بھگت میں مصروف رہتی۔اور اب یہ بلی اس کی توجہ کا مرکز تھی۔جو اب اس سے کافی مانوس ہونے لگی تھی۔پیٹ بھرنے کے بعد اس کے پاؤں میں لپٹ کر اپنی چاہت کا اظہار کرتی اور احسان مندی سے دیکھتی رہتی۔

سارہ نے اس بلی پر خصوصی شفقت کی اور اسے گھر میں ہی رکھ لیا۔اب وہ گھر کا ایک فرد تھی۔وہ سب سے مانوس ہو چکی تھی۔سارہ نے نوٹس کیا کہ جس دن سے بلی گھر آئی ہے اس کے شوہر حسن کو جو کہ ایک رکشہ ڈرائیور تھا وہ معمول سے ہٹ کر سواریاں ملنے لگیں تھیں۔ورنہ کرونا اور لاک ڈاون کی وجہ سے کوئی اکا دکا سواری ہی ملتی جس سے گھر کی دال روٹی چلانا مشکل ہو رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

دانتوں کی بیماریاں اور انکے عمومی صحت پر اثرات

بلی کچھ دنوں سے بیمار لگ رہی تھی۔سارہ نےاسے گرم جگہ پہ رکھا، ہیٹ دی۔۔گرم گرم دودھ پلایا مگر وہ ٹس سے مس نا ہوئی۔۔۔لگتا اس کی طبیعت زیادہ خراب ہے۔حسن نے دیکھتے ہی کہا۔سارہ اسے صبح ہی کسی ڈاکٹر کو دکھائیں گے۔اور سارہ بڑی بے چینی سے صبح ہونے کا انتظار کرنے لگی۔۔۔

چیک اپ کے بعد ڈاکٹر نے دوائی ء لکھ دی تھی۔حسن جھٹ سے دوائی لے آیا۔دوائی کی پہلی خوراک سے ہی بلی اٹھ کھڑی ہوئی تو سارہ نے سکھ کا سانس لیا۔سچ تو یی تھا اسے بھی بلی سے خاص انسییت ہوگی تھی۔بلی کی بیماری نے اسے پریشان کر دیا تھا۔اب قدرے بہتر ہوئی تو اس نے بھ سکھ کا سانس لیا۔وہ بلی پہ ہاتھ پھیرتے ہوۓ سوچ رہی تھی کہ غربت کم کرنے کا رب نے کتنا سوہنا طریقہ بتا دیا کہ تو میری غریب اور لاچار مخلوق کی دیکھ بھال کر میں تیری دیکھ بھال کروں گا۔سُچا سودا “تو میرے کام لگ جا میں تیرے کام میں لگ جاؤں گا۔”بلی کی دیکھ بھال کیا کرنا شروع کی تھی کہ ان کے تو وارے نہارے ہوگۓ۔حسن گھر میں سارے خرچے نکال کر بچت بھی کرنے لگ گیا تھاجو کہ ایک خواب تھا۔اب اتنے پسیے جمع ہوگۓ تھے کہ حسن اپنا رکشہ لینے کا سوچ رہا تھا۔سچ ہے اگر پاکستان کا ہر غریب اپنے سے نیچے والے کا رزق اپنے ذمے لے لے تو ان کی غربت کم ہو سکتی ہے۔سُچا سودا اگر اوپر والے سے ہو تو پھر کیا سوچنا۔بسم اللہ کیجیے۔
کرو مہربانی تو اہل زمیں پر
خد امہربان ہوگا عرش بریں پر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں