شاہین
از قلم عمارہ فہیم
(نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر!)
اک بہت اونچے آسمان کو چھوتے پہاڑ پر کالے سفید پروں والا پرندہ بیٹھا ہوا تھا جس کی گردن کے بال سفید اور چونچ پیلے رنگ کی تھی اور آنکھیں چمک رہی تھیں۔
”امی جی! یہ کیا ہے؟
سعد اپنا اسکول کا کام کرتے ہوئے پانی پینے گیا تو عمر نے بھائی کی شیٹ پر پینٹ ہوئے پرندے کو غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
پاس بیٹھی فاطمہ نے ایک نظر شیٹ کو اور پھر بیٹے کو دیکھا ۔
”یہ تو سعد بھائی بتائیں گے کہ وہ کیا بنا رہے ہیں۔“
فاطمہ نے سعد کو آتے ہوئے دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا ۔
”کیا ہوا امی! آپ مجھے ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں؟“
سعد نے الجھتے ہوئے پوچھا ۔
”بھئی! آپ کے چھوٹے بھائی جاننا چاہ رہے ہیں کہ آپ یہ کیا بنا رہے ہیں، تو اب آپ انھیں بتائیں۔“
فاطمہ نے ڈرائنگ شیٹ آگے کی ۔
”امی جی! یہ پاکستان کا قومی پرندہ ”شاہین “ ہے۔“
”آپ شاہین کی تصویر کیوں بنارہے ہیں ؟“
فاطمہ نے سوال کیا۔
”کل ہمارے اسکول میں اقبال ڈے ہے، مس نے کہا تھا کہ سب کو اچھی سی ڈرائنگ بناکر لانی ہے اور اس پر اقبال کا شعر لکھنا ہے جو تصویر سے مشابہت رکھتا ہو، میں نے سرچ کیا تو یہ تصویر مجھے اچھی لگی، جس میں پرندہ اتنی بلندی پر بیٹھا بہت غور سے سب طرف دیکھ رہا ہے، اس لیے میں نے یہ نکال لی۔“
سعد نے تصویر کے بارے میں تفصیل بتائی ۔
”ماشاءاللہ! آپ نے ڈرائنگ تو اچھی بنائی ہے، مگر آپ اس پر کون سا شعر لکھیں گے یہ بھی تو بتائیں، اور یہ بھی کہ آپ کو یہ تصویر کیوں اچھی لگی؟“
فاطمہ نے سعد کو شاباش دی، اور عمر کی دیکھا جو بہت توجہ سے شیٹ کو دیکھ رہا تھا۔
”میں اس پر اقبال کا یہ والا شعر لکھوں گا۔“
سعد نے اپنی ڈائری کے پیج پر لکھا اک شعر دکھایا ۔
”ارے واہ! تصویر کے ساتھ شعر بھی بہت اچھا نکالا ہے، آپ کو معلوم ہے شاہین پاکستان کا سب سے خوبصورت پرندہ ہے؟”
فاطمہ نے پوچھا ۔
”وہ خوبصورت تو لگتا ہے، مگر مجھے یہ معلوم نہیں تھا ، لیکن ٹیچر نے بتایا تھا کہ یہ بہت اونچا اڑتا ہے اور اس کی نظر بہت تیز ہوتی ہے ۔”
سعد نے معصومیت سے اپنی معلومات بیان کیں
”جی بیٹا! شاہین کی پرواز کی رفتار اور نظر بہت تیز ہوتی ہے ، اور کیا آپ کو معلوم ہے شاہین کیا کھاتا ہے ؟“
فاطمہ نے سعد کی بات کی تصدیق کرتے ہوئے اس سے سوال پوچھا ۔
”نہیں امی جی! یہ تو مجھے نہیں معلوم ، لیکن جس طرح چیل، کوے وغیرہ شکار کرکے گوشت وغیرہ کھاتے ہیں اسی طرح یہ بھی کھاتا ہوگا ۔“
سعد نے اپنی لاعلمی کا اعتراف کرتے ہوئے ذہن پر زور ڈال کر سوچتے ہوئے جواب دیا ۔
”جی بیٹے! آپ نے ٹھیک کہا کہ شاہین بھی شکار کرکے کھاتا ہے مگر شاہین اور دوسرے پرندوں میں بہت فرق ہے ۔“
”اور وہ کیا؟“
فاطمہ خاموش ہوئیں تو سعد نے فورا پوچھا ۔
”شاہین کی صنف یہ ہے کہ وہ بھوک سے مر جاتا ہے لیکن مردار کھانا برداشت نہیں کرتا وہ ہمیشہ خود شکار کرکے کھاتا ہے اس کی فطرت میں فقر و غنا ء کا مادہ پایا جاتا ہے ۔“
فاطمہ نے مسکراتے ہوئے بیٹے کی بے تابی دیکھی اور اس کو تسلی بخش جواب دیا ۔
اوہ مطلب! وہ کبھی بھی کسی دوسرے کا شکار کیا ہوا نہیں کھاتا اور نا ہی مردہ جانور کھاتا ہے بلکہ خود شکار کرتا ہے“
سعد نے حیرت سے منہ کھول کر داد دینے والے انداز میں کہا ۔
”جی بیٹے! لیکن کیا آپ کو معلوم میں اقبال اپنے اشعار میں بار بار شاہین کا کیوں تذکرہ کرتے ہیں اور وہ نوجوانوں کو بھی شاہین کیوں کہتے ہیں۔“
فاطمہ آہستہ سعد کے نکالے ہوئے شعر کی طرف آرہی تھیں تاکہ وہ اس شعر کو صرف چند جملے نا سمجھے بلکہ اس کے اندر چھپی گہرائی کو اچھی طرح سمجھ لے۔
”نہیں امی! یہ تو آپ کے سعد کو معلوم نہیں، کیونکہ سعد تو ابھی بچہ ہے نوجوان نہیں ۔“
سعد نے معصومیت سے ہونٹ باہر نکالتے ہوئے منہ لٹکا کر جواب دیا ۔
”جی! ہمارا سعد ابھی بچہ ہے، مگر کل ان شاءاللہ وہ کامیاب نوجوانوں کی صف میں شامل ہوکر ملک و ملت کا نام روشن کرے گا ، اقبال اپنے اشعار میں ہر جگہ شاہین کا اس لیے ذکر کرتے ہیں، کہ ایک تو شاہین خوددار اور تیز نگاہ رکھنے والا پرندہ ہے تو نوجوانوں کو شاہین سے تشبیہ دے کر یہ سمجھا رہے ہیں کہ اس کی طرح خوددار بنیں اور نگاہ تیز رکھیں تاکہ دوست و دشمن کی پہچان کرسکیں ۔
اور دوسرا وہ چٹانوں میں بسیرا کرکے وقت گزار لیتا ہے لیکن گھونسلہ نہیں بناتا، اس کی پرواز بلند ہوتی ہے یہ نگاہ مثالی رکھتا ہے کے ذریعے یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اپنی سوچ و معیار، کردار و گفتار کو ہمیشہ بلند رکھیں۔“
فاطمہ نے سعد کی سمجھ کے مطابق آسان لفظوں میں ہر بات کو واضح کرنے بھرپور کوشش کی ۔
”واؤ امی! اب تو میں خود کو شاہین محسوس کررہا ہوں اور مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ اقبال اس تصویر و شعر کے ذریعے مجھے مخاطب کرکے کہہ رہے ہیں :
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر!
سعد نے پورے جوش و جذبہ کے ساتھ نا صرف شعر پڑھا اس شعر کو عمل جامہ پہنانے کا بھی ارادہ کیا۔