418

امت کی کہانی

تحریر شئیر کریں

امت کی کہانی

امت کی کہانی جو چودہ سو سال سے خواب خرگوش سے جاگی تھی،ابھی تو اسے بیدار ہونا تھا،ایسی بیداری جو تاریخ میں لکھی جائے گی،جانیے قلم کتاب پر

کیک  ڈیکوریٹ کا فائنل ٹچ دے کر وہ  تنقیدی نظروں سے کیک کودیکھ رہی تھی کیک خلاف توقع بہت اچھا بنا تھا،ایک دم پرفیکٹ ایسا کبھی کبھار ہی ہوتا ہے کہ کبھی کبھی بیکنگ کرنے والوں کی کوئی چیز پرفیکٹ بنے وگرنہ کوئی کمی بیشی رہ ہی جاتی ہے۔علینہ آج بہت خوش تھی اتنی خوش کہ لگتا کوئی ہفت اقلیم ہاتھ آئی ہو،شاید اس سے بھی زیادہ بڑی  وکٹری جو چودہ سو سال کی تاریخ میں پہلی بار مسلمانوں کے ہاتھ آئی تھی،فتح مبین  جس نے فتح مکہ کی یاد تازہ کر دی تھی،اسی خوشی میں آج کیک بنایا تھا،بچے حیران تھے کہ ماما چودہ اگست کے بعد بھی اتنی خوش کیوں ہیں؟ان کی یہ حیرانی دور ہونے میں کچھ ہی دیر باقی تھی۔

علینہ نے بچوں کو کیک پیس دیے اور پھر اپنی خوشی کا راز بھی بتا دیا اس کی نظریں بڑے سارے نقشے پہ تھی،جنوبی ایشیا ء کا نقشہ  جہاں افغانستان کا چھوٹا سا ملک ایستادہ تھا اْجس کے ایک سائیڈ پہ انڈیا دوسری پہ پاکستان اور تیسری کونے پہ روس تھا۔بچے ہمہ تن گوش تھے’،ماما کسی مفکر کا روپ دھارے بچوں کو افغان ہسٹری بتا رہی تھی کہ کیسے روس کو نکالا اور اب امریکہ کو اور مٹھی بھر لوگ کیسے پوری دنیا کے ساتھ ٹکر لی،نا بک سکے اور نا جھک سکے،بیس سال کی طویل جنگ کے بعد 15 اگست 2021 کو بالآخر وہ اپنے ملک سے اغیار کو نکال باہر پھینکا۔آج ان کی آزادی کا دن تھا جس کا نام افغانستان ہے۔ساری دنیا انگثت بداں تھی کہ یہ سب کیسے ہوگیا اور کچھ تو یہاں تک بھی کہہ رہے تھے کہ کیوں ہوگیا؟

کیا ہو رہا ہے؟

بچے بڑی توجہ سے یہ سب سن رہے تھے،انھیں  ط ا ل ب ا ن سے یکدم انسیت سی محسوس ہونے لگی،علی جس کی عمر گیارہ سال تھی نے سوال کیا،مما مگر افغانستان پاکستان کا ھصہ نہیں تو پھر آپ اتنی خوش کیوں؟ہمیں تو اپنے ملک سے کنسرن ہونا چاہیے،علی نے بڑی دانشمندی سے نقط اٹھایا،مما اسے کیا بتاتی کہ بچوں جن باونڈریز میں تم پیدا ہوئے ہو  تمھیں کیا معلوم کہ امت کسے کہتےَ؟

بچوں آپ نے وہ حدیث سنی ہے کہ مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں اگر کسی ایک حصے کو تکلیف ہوتی ہے تو سب کو ہوتی،اسی طرح اگر ایک حصے میں خوشی کا سماں ہے تو سب خوش،اور پھر وہ ہمارا ہمسایہ ملک بھی تو ہے اور ہمسایوں کے بھی تو حقوق ہوتے ہیں۔بات علی کی سمجھ میں آ گئی تھی،سو اس نے سر ہلا کر تائید کی۔

بچے اٹھ کر جا چکے تھے،علینہ نے کیک کھایا اور بڑے جذب سے کھایا ،اور اٹھ کر ٹیرس میں آن کھڑی ہوئی ،آج امت کا دن تھا اور امت خاموش تھی،بالکل اس شیر کی طرح جو گیدڑوں میں رہ رہ کر گیدڑ بن گیا تھا،،علینہ چاہتی تھی کہ امت بھی خوش ہو،سبھی جشن منائے،مگر کوئی ہلچل نا تھی۔شاید اللہ چاہتا ہی نا تھا کہ غلامی کے اندھیروں بند یہ لوگ خوش ہوں  خشک لکڑیوں میں ایک چنگاری جلی تو تھی اب اسے بھانبڑ بننا تھا،ایسا  بھانبر جس کی  روشنی  اور حدت سارے عالم میں پھیلنے والی تھی،علینہ نے ایک جذب سے سوچا اور  انشاء اللہ کہا ایسا ضرورہوگا۔

امت کی کہانی

  
ّ
ّ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں