423

شکریہ اور شکرگزاری

تحریر شئیر کریں

سورہ رحمن شکرسکھانے اور اس پر ہر دم آمادہ رکھنے والی سورت
۔۔۔۔۔
زندگی بہت قیمتی ہو جاتی ہے اگر شکر کے احساسات سے لبریز ہو۔اللہ رب العزت نے یہ دنیا اور اسکی رنگینیاں بے وجہ تخلیق نہیں فرمائیں۔وہ جاننا چاہتا تھا کہ اس کے بندے اللہ کی نعمتوں پر کتنے شکرگزار ہیں؟قرآن کہتا ہے۔بندوں میں سے تھوڑے ہیں جو شکر کرتے ہیں۔انسانوں کی زیادہ تعداد ناشکرے پن میں مبتلا ہے۔انھیں اندازہ ہی نہیں کہ وہ ناشکری کر کے اصل میں کفر کے مرتکب ہو رہے ہیں۔دعاۓ قنوت کے الفاظ۔۔اللھم انا نشکرک ولا نکفرک۔۔اے اللہ ہم تیرا شکر کرتے ہیں اور ناشکری نہیں کرتے۔۔۔۔یہاں ناشکری کے لیے کفر کا لفظ آیا ہے جو قابل غور ہے۔
سورہ رحمن شکر گزاری سکھانے اور اس پہ ہر دم آمادہ رکھنے والی سورت ہے۔اس میں ایک ہی آیت متعدد بار زکر کر کے اللہ نے اپنی نعمتوں کا احساس دلایا ہے۔سورہ رحمن کا فلسفہ ہی شکرگزاری ہے۔تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
شکرگزاری اصل دولت ہے۔جو یہ راز جان جاتا ہے۔دنیا سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔زرا سوچیے۔۔جن آنکھوں سےآپ یہ تحرہر پڑھ رہے اگر یہ نا رہے تو کیا ہوگا؟سوچیے تصور کیجے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ ہم تو شکر کرتے ہیں پر۔۔۔اصل میں وہ کلمہ شکر کہتے ہیں۔۔جب کہ ان کا حال چیخ چیخ کر ناشکری بیان کر رہا ہوتا ہے۔شکر گزار ہونے اور کلمہ شکر کہنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
۔۔۔
ایکٹیوٹی
۔۔۔۔۔۔
ہر نماز کے بعد جاۓ نماز پر بیٹھے بیٹھے یہ معمول بنا لیں کہ اللہ کا شکر ادا کرنا ہے۔
دل کی اتھاہ گہرائیوں سے کہیں ۔۔۔۔اے اللہ تیرا لاکھ کروڑ شکران نعمتوں پر جو تو نے بن مانگے عطا کیں۔اے اللہ تیرا لاکھ کروڑ شکر ان نعمتوں پر جو تونے مانگنے پر عطا کیں۔اے اللہ تیرا لاکھ کروڑ شکر ان نعمتوں پر جو تو نے دے کر واپس لے لیں۔۔۔اے اللہ تیرا لاکھ کروڑ شکر ان نعمتوں پرجو تو نے چھین کر واپس کیں.اے اللہ تیرا لاکھ کروڑ شکر ان نعمتوں پر جو میرے ادراک میں اور وہ بھی جو ادراک سے باہر ہیں۔۔۔
ان الفاظ کو چاہیں تو لکھ لیں اور چاہیں تو زبان سے ادا کر لیں۔۔آپ دیکھیں کے کچھ ہی عرصے بعد زبان کےساتھ ساتھ آپ کا دل بھی اس تکرار کا عادی ہو جاۓ گا۔۔۔
آنکھیں بند کر کے سورہ رحمن سنیے اور اللہ کی نعمتوں کو محسوس کیجے۔۔۔۔
سوچیے۔۔۔اب تک کی زندگی میں کوئی ایسی رات آئی جب آپ خالی پیٹ سوۓ ۔۔اگر نہیں آئی تو ہقین رکھیے آئندہ بھی نہی آۓ گی۔۔۔۔
اللہ نے گھر کی چھت نصیب کی۔۔۔سوچیے کوئی ایسی رات جو آسمان تلے گزاری ہو۔۔نہیں گزاری تو شکر کیجے کہ اللہ آئندہ بھی یہ چھت میسر کرے گا۔گھر کا کرایہ،بجلی گیس کے بل اگر آج سے پہلے ادا ہوتے آۓ ہیں تو آگے بھی ہو جائیں گے۔۔۔پریشانی کس بات کی۔۔۔
مجھے جب بھی کوئی بڑی مصیبت کا سامنا ہوتا ہے۔۔میں یہی سوچتی کہ اس سے سےپہلے آنے والے مصائب باقی نہیں رہے تو یہ کیسے رہے گا۔۔اور آنافانا موڈ ٹھیک ہوجاتا۔۔یاد رکھیے یہ شیطان ہے جو فکر سے ڈراتا ہے۔رحمن تو نوازتا ہے۔اسکی نوازشیں پیدائش سے پہلے سے لے کر مرنے کے بعد تک جاری رہتیں ہیں۔انسان گننے پہ آۓ تو تھک جاۓ پر اس کی نوازشیں ختم هونےمیں نهیں آئیں گیں۔۔۔
شکر کب نصیب ہوتا ہے؟
کہا جاتا ہے کہ یہ ایک لمبے صبر کے بعد نصیب ہوتا ہے اور بڑی قسمت والوں کو ملتا ہے۔انسان جب مصائب کی بھٹی میں جل جل کر راکھ ہوجاتا ہے تو پھر سونا بنتا ہے۔سونا مت ڈھونڈیں سونے جیسے بن جائیں۔شکرگزاری سیکھ جائیے یہ آپ کو سونے سے بھی قیمتی بنا دے گی۔۔۔۔صبح وشام پڑھیے۔۔
رضیت باللہ ربا و بمحمد انبیا و بالاسلام دینا
اے اللہ میں راضی ہوا اللہ کے رب ہونے پر،محمد ﷺ کے نبی ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں