420

صدقہ اور فطر کے احکامات

تحریر شئیر کریں

تحریر : لبنٰی جمشید

صدقہ فطر , زکواة فطر یا فطرانہ کے اصطلاحی معنی اس خیرات کے ہیں جو رمضان کا مہینہ ختم ہونےپر جو روزے کھولنے کی خوشی اور شکریہ کے طور پر ادا کی جاتی ہے۔اس کے ساتھ رمضان المبارک کے دوران سر زد ہونے والی کوتاہیوں اور غلطیوں کا کفارہ ادا کرنا بھی صدقہ فطر کہلاتا ہے ۔

صدقہ و فطر کے احکام

سورة الاعلی کی آیت نمبر 15, 14 کا ترجمعہ یوں ہے ” اس شخص نے فلاح پائی چس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا اور پھر نماز پڑھی۔
صیحیح ابن خزیمہ میں بیان ہے کہ جب نبی پاک ﷺ‎ سے اس آیت میں موجود لفظ ”تزکّٰی‘‘ کے اصطلاچی معنی پوچھے گۓ تو آپ ﷺ‎ نے فرمایا کہ یہ آیت صدقہ و فطر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

فطر کی دلیل احادیث کی کتب میں بھی موجود ہے۔ صیحح بخاری کی جلد سوم میں حدیث ثبت ہے کہ ” صدقہ و فطر ادا کرنا ہر غلام و آذاد , مرد و عورت, چھوٹے یا بڑے مسلمان پر فرض ہے۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ جو بچہ عید کی نماز سے قبل بھی پیداہوتا ہے اس پر صدقہ و فطر واجب ہو جاتا ہے۔

نبی پاک ﷺ‎ کا ارشادہے کہ صدقہ و فطر کی ادائیگی کے بعد روزہ دار اپنے روزے کے دوران کی گئی فضول گوئی اور نازیبا بات سے پاک ہو جاۓ گا۔

معاشرے میں مساواتی نظام کی بنیاد

صدقہ و فطر کے اصل حقدار غریب و نادار افراد ہیں ۔ان کو دینے سے معاشرے میں غربت کاخاتمہ ہو گا اور مساوات کا نظام قائم ہو گا۔ اس طرح دوسری برائیوں کا خاتمہ ہو گا۔ اس رمضان کوشش کریں کہ اپنی ذکواة اور صدقہ و فطر مستحق افرادتک پہنچا کر ایک منفرد معاشرے کی بیاد رکھیں جیسے نبی پاکﷺ‎ نے مدینہ منورہ میں رکھی تھی۔

صدقہ و فطر کی مقدار

بخاری و مسلم شریف دونوں احادیث کی کتب میں حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ ” ہم ایک صاع کھانا یا ایک صاع جو یا ایک صاع کجھور صدقہ فطر میں دیا کرتے تھے۔ صاع ایک ناپنے کاپیمانہ تھا جو اس زمانے میں استعمال ہوتا تھا۔ کسی بالٹی وغیرہ میں چار دفعہ دونوں ہاتھوں کو بھر کر کوئی سامان رکھنے کے پیمانے کو صاع کہتے تھے۔ جدیددور میں اس کا متبادل مختلف ناپ تول کی مشینیں ہیں۔ یہاں پر وڑن کے لیے رائج میٹرک سسٹم کے مطابق ” ایک صاع 2 کلو 750 گرام سے لے کر 2 کلو 830 گرام تک بیان کیا جاتا ہے۔

موجودہ دور میں عموماََ اتنےہی وزن کی چیز کو کرنسی میں کنورٹ کرکے صدقہ و فطر روپوں کی صورت میں نکالتے ہیں۔ جو کہ گندم,جو, کجھور , کشمش وغیرہ پر مختلف طرح اپلائی ہوتا ہے۔ اس رمضان 2020 گندم پر صدقہ 120 روپے پاکستانی ہیں۔ عموماََ سفید پوش طبقہ سارا سال گندم پر ہی گزارا کرتا ہے اس لیے ان پر باقی چیزوں کا فطر نکالنا واجب نہیں ۔۔ باقی صاحب حثیت افراد اپنی استطاعت کے مطابق صدقہ و فطر نکال سکتے ہیں۔

صدقہ و فطر کب ادا کرنا چاہیے؟

نبی پاک ﷺ‎ کے فرمان کے مطابق ”ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر یکم رمضان کی صبح طلوع ہوتے ہی صدقۃ الفطر واجب ہو جاتا ہے اور اس کے ادا کرنے کا آخری وقت نماز عید سے پہلے تک ہے۔“

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ صدقہ و فطر عید کی نماز سے قبل ہی ادا کرنا سنت نبوی بھی ہے اور معاشرتی اعتبار سے بھی اس کی اہمیت ہے تاکہ نادار لوگ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں