437

فتنوں کی لڑیاں

تحریر شئیر کریں

فتنوں کی لڑیاں ٹوٹ کے بکھر رہی ہے

بہت تواتر سے غلیظ سے غلیظ تر واقعات وقوع پزیر ہو رہے ہیں۔

ہر واقعے کو مرچ مصالحہ لگا کر ہوا میں اچھال دیا جاتا ہے۔

پھر ہر خاص و عام تجزیہ نگار بن جاتا ہے۔ تبصروں پر تبصروں کے ڈھیر لگ جاتے ہیں اور یہ اندھیرے روشنی کی رفتار سے چہار جانب پھیل جاتے ہیں۔
ہر بندہ ان اندھیروں میں غلاظت کے اس ڈھیر میں سے کچھ نہ کچھ چننے میں لگ جاتا ہے،،، الاماشااللہ

گندگی کو جس زوایے سے بھی دیکھیں گندگی ہی رہے گی اس میں سے پاکیزگی تو شاید ہی برآمد ہو مگر آپ اپنے مقاصد پر فوکس سے ضرور ہٹ جاتے ہیں۔

ایک واقعے سے متعلق فیس بک، واٹس ایپ اور یوٹیوب وغیرہ کو کھنگالنا ، پھر ان کو بِنا تحقیق فاورڈ اور شٸیر کرنا، پھر اس پر تجزیہ تبصرہ کرنا اور پھر ذہن کا مسلسل اسی خبر پر جمے رہنے سے دل پر ہاتھ رکھ کر کہیے آپ کو آپ کے مقصد سے ہٹا دیتا ہے کہ نہیں؟

طلباء، ملازمت پیشہ افراد، کاروبای حضرات، حتی کہ گھریلو خواتین ان فتنہ پرور واقعات کے ایسے زیر اثر آتے ہیں کہ فرائض جن میں ہم پہلے ہی کوئی خاص مستعد نہیں ہوتے، مزید غفلت کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اپنے سب سے بڑے دشمن ابلیس کی چال کو سمجھیے۔ ہر روز ہر نئی گندگی کے ڈھیر پر ادھر ادھر بھٹکنے کے بجائے
اپنے مقصد پر نظر رکھیں۔
اپنے ہر لمحے میں اپنے مقصدِ حیات پر ڈٹے رہیں۔

ان بے ہودہ واقعات کے تسلسل سے اپنے خیالات و اعمال کو پراگندہ ہونے سے بچائیں۔ جس خبر کو آپ قطعیت سے نہیں جانتے۔ جس معاملے کو سلجھانے کا کوئی سرا آپ کے دائرہ اختیار میں نہیں، اس میں خود کو نہ کھپائیں۔

آپ جتنا اس برائی میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کریں گے اتنی اس کی تشہیر میں کمی ہو گی، اور آپ جتنا اپنی مثبت سرگرمیوں کو وقت دیں گے اس کے اتنے ہی مثبت اثرات معاشرے پر نظر آٸیں گے۔ ان شاءاللہ

اسلام اور پاکستان کا نام دنیا میں سربلند کرنے والے آئے روز کے واقعات کو کیوں نمایاں نہیں کیا جاتا؟
لہٰذا میڈیا کی ففتھ جنریشن وار (دجالی فتنوں) کی زد میں آنے سے بچیں،
روشن مثالوں کو زندہ کیجیے۔
روشن مثال بن جائیے۔

فتنوں کی لڑیاں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں