377

لوگوں کے رویے دل دکھائیں تو

تحریر شئیر کریں

لوگوں کے رویے دل دکھائیں تو

….پہلی بات تو یہ کہ ..” لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم” .. اس سچ کو جان لو اور مان.لو.. سارے جھگڑے یہیں ختم ہو جائیں گے.. ہم اگر کسی کے ساتھ بھلائ کرتے ہیں تو .. اس میں ہمارا ذاتی کوئ کمال نہیں .. ہر نیکی کی توفیق ہر خیر اللہ کی توفیق سے ہے. اللہ کو یہ بات پسند نہیں کہ ہم احسان کر کے جتائیں. بہتر ہے وہ نیکی نہ کرو جس کے بعد تم احسان جتا کر اذیت دو. دوسری بات دوسرے اگر ہمارے ساتھ برائ کریں..تو دو باتیں یاد رکھیں .. اللہ انسان اور اسکے دل کے بیچ حائل ہے. اور کوئ خیر تم تک نہیں پہنچ سکتی اگر اللہ نہ چاہے تو اور کوئ شر تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا اگر اللہ چاہے تو.. سو لوگ درحقیقت تو بس آزمائش ہوتے ہیں ہمارے رب اور اسکی بھیجی گئی آزمائش کی پہچان کا ذریعہ.. دوسری بات… ہم پر کوئ مصیبت ہمارے اعمال کی وجہ سے آتی ہے بہتر ہے تزکیہء نفس کر لیں رجوع الی اللہ کر لیں..یا پھر کوئ اللہ کی.بھیجی گئی آزمائش ہے.. تو یاد رکھیں مومن کے لئے تو ہر معاملے میں خیر ہے ..کہ اسکا رخ تو یکسو ہو کر رب کی ہی جانب رہتا ہے.

رہی بات ہمارے عیوب کی تشہیر .. تو یہ انکی ذاتی خسارے کی کمائ ہے اور انکا خود اپنی ذات پر ظلم ہے آپ اسکی سزا خود کو کیوں دیں؟. آپ اپنے سچ سے آگاہ ہیں .. اللہ غفورالرحیم ستارالعیوب کی محبت سے آگاہ ہیں. .. آپ اللہ پر یقین رکھیں آپکی عزت آپکی ذلت اللہ کے ہاتھ ہے. ایک مومن پر ایسی آزمائش آتی ہے تو وہ اللہ کے لئے لوگوں کے سامنے اور صبر اختیار کر لیتا ہے کہ وہ اپنے سچ میں اپنے رب کے ساتھ جتنا مطمئن ہوتا ہے …مخلوق کی ججمنٹ کے خوف سے اتنا آزاد ہوتا ہے.. الٹا یہ آزمائشیں تو اللہ کے اور قریب کر دیتی ہیں… خود کو اور نکھارنے میں مدد دیتی ہیں.. . غم کیسا..!

اور دکھ…. ہمم دکھ تو ہوتا ہے جب آپ پر ایسی آزمائشیں آپکے اپنوں کے ہاتھ آتی ہیں.. مگر شاید یہی بہانہ ہے کہ دل دھیرے دھیرے ہر شے سے خالی ہوتا بس اللہ کے سچ اسکے مان کے ساتھ جینے لگتا ہے..اس واحد مہربان اپنے باوفا ستارالعیوب غفار الذنوب پر اور ٹوٹ کر پیار آتا ہے..
زندگی کے تجربات میں “باطل الہ” پر یقین و اعتبار کی ایسی اموات سے گزرتے آپکا دل موت تک “الا” کے لئے خالی ہو جاتا ہے .. پھر آپ دنیا میں رہتے تو ہو مگر دنیا آپ میں نہیں رہتی..
سب “لا” ہو جاتا ہے بجز “اللہ” کے..! یہ سب آزمائشیں مقصد کے تحت آتی ہیں. مگر ہاں آپ مخلوق سے بغض نہ پالنا. کینہ نہ رکھنا.. غصہ یا انتقام نہ رکھنا.. انکی ہدایت کی دعا کرنا.. رحم مانگنا.. کیونکہ تم پر اصل رحم اس کے بعد ہو گا.. دل کو عجز اور رب سے وصل کی چاہ و توفیق ایسی ہی آزمائشیں نصیب کرتی ہیں.. خالص اللہ سے وصل ایسی ہی تکالیف میں ہوتا ہے. جب آپ بس اہنے رب کی پاکی بیان کرتے ہو.. خود کو ہر شے سے الا اللہ کے لا تعلق کر کے..!

تو پھر ایسے میں صبر کرنا چاہیے. ہاں مان لینا چاہیے کہ دل تنگ ہوتا ہے. دل دُکھتا ہے..خامشی میں کئی آنسو بہتے ہیں جب کانوں میں جھوٹے الزامات گونجتے ہیں.. مگر آپ بس یہ دیکھو ان کو تحمل.سے اپنی بات بتا سکتے ہو بتا دو. ورنہ بہتر ہے مصلحتا خامشی اختیار کر لو.. پھر پتہ ہے صبر جتنا سچا اور خالص ہو اللہ اُتنا اچھا جواب دیتا ہے..!

آپ اس دنیا میں رہ جانے ہی نہیں.واپس جانے آئے ہیں. سو لوگ نہ تو قبر میں ساتھ جائیں گے تو انکے رویوں سے زندگی کو قبر کیوں بنایا جائے. اللہ کے لئے خود کو خالص کریں!
بس اللہ کی آزمائش سے بھاگو نہیں .. گھبراؤ نہیں.. واویلے نہ کرو.. سجدہ کرو.. جھک جاؤ.. اللہ کے سامنے اور عجز سے .. اور محبت سے… اسے اپنے ددر کا محرم کر لو.. اسے اپنے زخم کا مرہم کر لو ..

بس اپنے رب کی پاکی بیان کرتے ہو .. کیونکہ پاک بس رب ہے …ہم سب عیب دار ہیں..
اللہ کے سوا کوئ خوشی کوئ غمی قابل عبادت نہیں کہ ہم سے مقصد حیات یعنی رب سے محبت اور اسکی عبادت سے اس سے رجوع سے غافل کر دیں. آپکا اخلاص اللہ کے لئے ہے! اور یہ اسی طرح کی آزمائشوں سے گزر کر کندن ہو گا.. جب آپ اللہ کے لئے سب سے خالص ہو جاؤ گے.. نہ مخلوق سے صلے کی چاہ رہے گی نہ گِلے کی آہ رہے گی.. تاآنکہ تم اپنے رب کی جانب یعنی پاک کی جانب پاک ہو کر لوٹ جاؤ.. اور تبھی تو اللہ کہے گا اے راضی ہونے والی روح .. اہنے رب کی جانب لوٹ چل.. تو اللہ سے راضی.. اللہ تجھ سے راضی..!
ان شاءاللہ العزیز!

لوگوں کے رویے دل دکھائیں تو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں