مسئلہ کشمیر اور جماعت اسلامی
5 فروری 2021 کشمیر ڈے کے موقع پر لاہور بھر میں بڑے بڑے بینرز آویزاں کر دیے گۓ ہیں۔یہ کام ہر سال جماعت اسلامی بڑے جوش و خروش سے کرتی ہے۔ہر بینر کشمیر کی اہمیت اجاگر کرتا دکھائی دیتا ہے۔صرف بینرز ہی نہیں جماعت اسلامی کے حلقوں میں خواتین مرد اور بچوں کی نمایاں تعداد ان سمینارز میں موجود ہوتے ہیں جو جماعت اسلامی کی طرف سے منعقد کیے جاتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ آج اگر کشمیر کا نام کانوں میں گونجتا ہے تو جماعت اسلامی کے دم قدم سے ہے۔جماعت اسلامی نے اسے ہر محاذ پر زندہ رکھا ہے۔اسے مشرف تک کے دور میں بھی مصلحتوں کے پیچھے چھپنے نہیں دیا۔
جماعت اسلامی سید مودودی کا لگایا ہوا وہ پودہ ہے جو ایک تناور درخت بنا اس ملک کو نظریاتی طور مضبوط بنانے میں کوشاں ہے۔جماعت اسلامی ایک سیاسی جماعت ہے۔اگرچہ سیاست میں کوئی نمایاں کامیابی ان کا مقدر نہیں بن سکی۔۔۔مگر اس جماعت کے لوگ اپنی سوچ اور فکر سے اپنا حصہ ڈال کر اسے عظیم سے عظیم تر بنانے میں مصروف عمل ہیں۔
دین کے نام پر کوئی مفاہمت نہیں ہوگی یہ جماعت اسلامی کا نمایاں منشور رہا ہے۔کوئی بھی مسئلہ ہو چاہے کشمیر ہو یا اسرائیل کو قبول کرنے کا معاملہ دفاعی سرحدوں پہ حملہ ہو یا نظریاتی سرحدوں پہ۔۔۔زلزلہ آیا ہو یا سیلاب جماعت اسلامی ہر موقع پر ماں کی طرح بانہیں پھیلاۓ پیش پیش ہوتی ہے۔
مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں سب سے زیادہ ہاتھ جماعت اسلامی کا ہے۔جماعت اسلامی نے ہر دور میں کشمیرہوں کے حق میں آواز اٹھائی ہے اور مظلوموں کا ساتھ دیا ہے۔
حق کے لیے آواز بلند کرنا جہاد سے کم نہیں ہے اگرچہ آج تک اس کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوسکا۔کشمیری آج بھی کسی معجزے کے منتظر ہیں۔
بدلتی ہوئی دنیا کے بدلتے ہوۓ تقاضے کچھ کہتے سنائی دے رہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمت عملی کو بدلا جاۓ۔اور ایسے اقدامات اٹھائیں جائیں جو کشمیری عوام کو ان کا پیدائشی حق دلاکر ہندوستان کے جبرواستبداد سے نجات دلا سکیں۔اور وہ دن دور نہیں جب ظالم اپنے ظلم کا بدلہ پائیں گے اور کشمیری اپنے دھرتی پہ آزادی کی سانس لے سکیں گے۔ انشاء اللہ