429

مسائل میراث اور ہمارےرویے

تحریر شئیر کریں

مسائل میراث اور ہمارے رویے

وراثت قانونی اور شرعی حق ہے جس سے کوئی صاحب ایمان انکار نہیں کر سکتا مگر ہمارے معاشرے میں جو رویہ چل نکلا ہے وہ بہت بھیانک ہے یہاں جہیز کا مقام وراثت کی طرح ہے اور وراثت ہر ایک نے اپنی مٹھی میں لے رکھی ہے۔جس کو چاہو دو جس کو چاہے عاق کر دو جس کو چاہے سب کچھ دے دو،ایک اور طریقہ کہ باپ بیٹوں کو زندگی میں ہی ساری جائیداد ان کے نام کر دیتا ہے تاکہ کل کو بیٹیاں کیس نا کر سکیں،یہ سب ناجائز مال ہتھیانے کے ہتھکنڈے ہیں۔


دین اسلام اس طریقے کا نام ہے جس نے نہ صرف زندگی کے ہر پہلو بلکہ موت کے بعد پیش آنے والے معاملات پربھی نہایت تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔مسائل وراثت ان اہم مسائل میں سے ہے جو حدود اللہ میں شمار ہوتے ہی اور جن کے توڑنے پر اللہ کا غضب نازل ہوتا ہے۔معاشرے کے دو کمزور طبقے جن میں عورتیں اور بچے شامل ہیں اس کے استحصال کا باعث بنتے ہیں۔جس سے قطع رحمی جیسے گناہ سے لے کر مال ناجائز طریقے سے ہڑپ کر جانے جیسے گناہ بھی لازم آتے ہیں۔جیسے ناجاءز طریقے سے کسی کا مال ہتھیانا چوری ڈاکہ جرم ہے ایسے ہی وراثت کا مال ہڑپ کر جانا بھی جرم ہے
*۔ علم میراث ہر گھر کی ضرورت ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : “جن علوم کا سیکھنا ضروری ہے وہ تین طرح کے ہیں۔ ان میں سے ایک علم لفرائض یعنی وراثت کا علم جو سارے کا سارا حق پر مبنی ہے ،(ابوداؤد،جلددوم،حدیث:1118)۔


سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “فرائض سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ، یقیناًیہ آدھا علم ہے اور یہ بھلا دیا جائے گا، اور یہ پہلا علم ہوگا جو میری امت سے اٹھا لیا جائے گا، (ابن ماجہ ، جلد دوم، حدیث:878)۔” علم الفرائض سیکھنا اور سیکھانا بہت بڑی نیکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں سورۃ النساء کی آیت نمبر7تا14 اور آیت نمبر176میں واضح کر دیا کہ کس کس وارث کو کتنا کتنا حصہ ملنا ہے۔اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ جب کوئی شخص فوت ہوجائے تو اس کے ترکے یعنی چھوڑے ہوئے مال میں سے اس کفن دفن کا انتظام پھر قرض ہوتو اس کی ادائیگی اور پھر وصیت جو 3/1کی ہوگی۔یاد رکھیں وصیت کسی ناجائز کام کی بھی نہیں ہو سکتی اور کسی وارث کے لیے بھی نہیں کی جا سکتی۔اس کے بعد قرآن کی سورہ نساء کے مطابق تمام حصہ داروں کو حصہ دے دیا جائے گا۔

رویے تبدیل کیے جا سکتے

اد رکھیں جس طرح وقت پر نمازپڑھنا، روزہ رکھنا اور حج ادا کرنا ضروری ہے۔جب کوئی شخص فوت ہوجائے تو اس کا حساب کتاب لٹکا رہتا ہے جب تک میراث تقسیم نا ہو،لہذا وراثت کی تقسیم میں جلدی کریں۔دیر کرنا کئی مسائل کا سببب بنتا ہے۔اہم بات یہ کہ قاتل کو مقتول کی جائیداد سے حصہ نہیں ملے گا،اسلام نے یہ شق رکھ کر ہمیشہ کے لئے ایک ایسا در بند کر دیا جس سے احتمال تھا کہ لوگ وراثت پانے کے لئے قتل تک سے گریز نہیں کریں گے۔یہی اسلام کی خوبصورتی ہے کہ وہ کام ہونے سے پہلے اس کے احتمال کو بھی روکتا ہے تاکہ چانس صفر رہ جائے۔وراثت وہی ہوتی جو مردہ شخص چھوڑ جائے اگر زندہ تقسیم کرے گا تو وہ سب کو برابر تقسیم کرے گا،جیسا کہ بیٹی کا حصہ بیٹے سے آدھا ہے،وارث زندہ ہوتو دونوں کو برابر ملے گا۔اسلام میں عاق کی کوئی گنجاءش نہیں ہے بیٹا بیٹی،لائق نالائق سب کو حصہ ملے گا جیسا کہ قرآن میں بتا دیا گیا ہے۔اسی طرح مسلمان مسلمان کا وارث ہے کسی مسلمان کو کافر کی جائیداد کافر کو مسلمان کی جائیداد سے کچھ نہیں ملے گا،اسلام کا قانون وراثت مسلم پر اپلائی ہوتا ہے


بہنیں اکثررشتہ داریاں ٹوٹنے کے ڈر سے کہہ دیتی ہے کہ بھائی میرا حق بھی آپ ہی رکھ لیں۔ تم اس کے اتنے ہی ہمدرد ہو تو اپنے مال میں سے اسے دو کہ بہن، مجھے تم سے ڈبل ملا ہے لہذا میرا کچھ مال آپ رکھ لیں۔ اگر کوئی شخص ساری زندگی نمازیں پڑھے، روزے رکھے،زکوۃ اور حج ادا کرے لیکن میراث کا مال حصہ داروں کو نہ دے تو وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ مسائل میراث کے حوالے سے ہمارا رویہ دوغلا ہی نہیں دوہرا تہرا معیار کا حامل ہے۔اس پہ بہت کام کی ضرورت ہے بہت دین دار گھرانوں میں بھی اس حوالے سے شدید خرابی دیکھنے میں آئی ہے۔جسے سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے۔ وراثت کی تقسیم اللہ رب العزت کا فیصلہ ہے جو کر دیا گیا ہے وراثت کی تقسیم اور ہمارے رویے


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں