نبی کریمﷺ کاخواتین کو خراج عقیدت
نبی محترم ﷺ نے اپنی امت کو جو دیا وہ دنیا کی ہر نعمت سے بڑھکر ہے۔آپ کی تعلیمات میں غریبوں مسکینوں اور عورتوں بچوں کے بارے میں خصوصی فرامین ملتے ہیں۔جن سے پتہ چلتا ہے کہ اپ ﷺ معاشرے کے کمزور اور پسے ہوۓ طبقے پر خصوصی نظر رکھتے تھے اور ان کے حقوق کی ادائیگی کے لیے خصوصی تاکید کیا کرتے تھے۔
آج دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔آج کے دن کی مناسبت سے دیکھیں گے نبی کریم ﷺ نے کیسے اور کن الفاظ میں عورت کو ٹرابیوٹ پیش کیا۔
نبی مکرم ﷺ عورت کو سب سے زیادہ عزت دینے والا دین دین اسلام کے پیامبر بن کر اس دنیا میں تشرہف لاۓ۔آپ ﷺ کی تعلیمات میں عورت کی عزت و اکرام کی جو جھلک ملتی ہے وہ کسی اور مذہب میں نہیں ملتی۔
نبی کریم ﷺ نے اپنے قول عمل اور فعل سے ثابت کیا کہ عورت قابل عزت چیز ہے۔اس کو سنبھال کر رکھو۔اسے تحفظ دو۔۔۔۔آپ کا ارشاد کہ عورت نازک آبگینے کی طرح ہے۔آپ ﷺ نے عورت کو کانچ سے تشبہہ دے کر اس کی نزاکت حساسیت اور تحفظ کو محفوظ کر دیا۔کانچ کی چیز ہمیشہ سنبھالی جاتی ہے تاکہ وہ ٹوٹ نا جاۓ۔امت کے مردوں کو بتا دیا کہ عورت کانچ کے جیسی نازک ہے اس کی حفاظت کرو۔۔اسکے جذبات کو ٹھیس مت پہنچاؤ ،اسے محبت دو اس کی قدر کرو۔
آپ ﷺ اپنے عمل سے عورت کی ہمیشہ عزت کی۔آپ ﷺ حضرت فاطمہ جو کہ انکی لاڈلی بیٹی تھی کے لیے کھڑے ہو جاتے ان کے لیے اپنی چادر بچھاتے۔کتنے باپ ہیں جو آج اپنی بیٹی کے لیے چادر بچھاتے اور کھڑے ہوتے ہیں۔
آپ ﷺ نے ابوھریرہ ؓ سے فرمایا میں تم کو عورتوں کے بارے میں بھلائی کی نصیحت کرتا ہوں۔
آپ ﷺ نے خطبہ حجتہ الوداع میں عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرنے کی تلقین فرمائی۔اور صرف اسی پہ بس نا کیا اسے ماں بہن بیوی اور بیٹی کے روپ میں حقوق دے کر ان کی عزت و اکرام پہ مہر لگا دی اور دنیا کو بتا دیا کہ یہ کسی بھی طور مردوں سے کم نہیں ہیں۔مردوں کو ایک درجہ برتری ضرور دی مگر انکے حقوق غضب کرنے اور مارنے پیٹنے سے منع فرمایا۔تعلیم کے دروازے انکے لیے کھلے رکھے۔وراثت میں حصہ رکھا۔خلع کا حق تک دیا۔اور تو اور حضرت خدیجہ کی زندگی سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ عورت بزنس کر سکتی۔اور شادی کے لیے مرد کو پرپوزل بھی بھجوا سکتی ہے۔اتنا خوبصورت دین آپ کو کہاں ملے گا جہاں عورت گھر کی شہزادی اور ملکہ ہے۔اور مرد اس کا نگہبان اور عزت کا محافظ بھی۔