نمـــاز اور عقیـــدہ تـــوحیـــد جانیے قلم کتاب پر
نماز بندے اور اللہ کے درنیان وہ خوبصورت تعلق ہے جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔نماز کسی صورت معاف نہیں اس کا مطلب یہ کہ اللہ کبھی نہیں چاہتے کہ بندے اور اللہ کے درمیان جو تعلق ہے وہ زرا بھی مدہم نا ہو۔۔اس نزاکت کو محسوس کیجیے وہ بھی محبت کی نگاہ سے
نمازی کے لئے ضرروی ہے کہ وہ اپنا عقیدہ توحید کو مضبوط کرلے جو کہ اصل الاسلام بلکہ عین الاسلام ہے۔نماز اور توحید کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے ۔نماز توحید اِلہٰ العالمین کا درس دیتی ہے ۔پوری کی پوری نماز مضمونِ توحید پر مشتمل ،توحید کی متقاضی ہے۔
اسی لئے ســـورۃ الـــروم میں فرمان باری تعالیٰ ہے۔*
وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ[31]*
نماز کو قائم رکھو اور مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ ۔
معلوم ہوا کہ حفاظت نماز کا عمل انسان کو شرک کی غلاظتوں سے محفوظ کرلیتا ہے۔شرک نمازی کے لئے تکلیف دہ چیزہے۔
نماز وہ ٹول ہے جس کسی غیر کے آگے جھکنے نہیں دیتا۔کسی غلامی سے نجات دیتا ہے۔نماز کے حوالے سے ایک دلچسپ تحقیق کی گی وہ۔یہ کہ جن قوموں میں نماز کی عادت پختہ ہے وہ قومیں کسی کی غلام نہیں رہی۔نماز نےبانھیں کسی کا۔غلام نہیں بننے دیا۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کو حکم فرمایا کہ بیت اللہ کو شرک اور اس قسم کی دوسری آلائشوں اور گندگیوں سے پاک رکھیں تاکہ طواف کرنیوالے،نمازپڑھنےوالوں اور رکوع و سجود کرنیوالوں کو ایذاء کو تکلیف نہ پہنچے۔
وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَنْ لَا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ[26]*
اور جبکہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو کعبہ کے مکان کی جگہ مقرر کر دی اس شرط پر کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور میرے گھر کو طواف قیام رکوع سجده کرنے والوں کے لئے پاک صاف رکھنا [26]
- سورۃ الحج ( 26