707

وقت اور موسم کو برا بھلا کہنا منع کیوں ہے؟

تحریر شئیر کریں

وقت اور موسم کو برا بھلا کہنا کیوں منع ہے؟جانیئے قلم کتاب پر

ہمارے ہاں بغیر سوچے سمجھے  بولنے کی عادت ہے۔کچھ بھی کہہ دیا جاتا ہے۔ایسے ایسے کلمات کہ بات کفروشرک تک جا پہنچتی ہے اور ہم عذاب الہی کے مستحق ٹھہرتے ہیں اپنی  کچھ الفا؎ظ کے سببجو بے دھیانی میں زبان سے کہہ دیئے جاتے ہیں۔مثلا   زمانہ ہی خراب ہے۔یہ بھی کوئی وقت تھا بار ش کا۔بیچارہ جوانی میں ہی مر گیا۔ابھی عرم ہی کیا تھی؟وغیرہ وغیرہ اگر ان الفاظ کی معنویت پہ غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ معمولی الفاظ اپنے اندر کتنے اہم ہیں اور ان کو بولنا کتنا برا جرم ہے۔

وقت کیا ہے؟

حدیث قدسی کے مطابق اللہ رب العزت خود فرماتا ہے کہ زمانے کو برا بھلا مت کہویونکہ زمانہ میں خود ہوں۔اور ہم لوگ کتنی آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ زمانہ ہی خراب ہے نعوذباللہ اس حدیث کی رو سےوقت کو گالی دینا معاذاللہ اللہ کو گالی دینا ہے ۔اور یہ کفروشرک میں آتا ہے لہذا ن الفاظ  کی ماہیت کو سمجھیں،اور اگر کہہ چکیں تو سچے دل سے توبہ کریں اور آئندہ پرہیز کریں۔

یہ بھی پڑھیئے

موثر تدریس کیسے ممکن ہے؟

موسموں کو برا بھلا کہنا

وقت اور موسم کو برا بھلا کہنا کیوں منع ہے؟

موسم بدلنا قانون قدرت ہے اور اس کے پیچھے بڑی حکمتیں پوشیدہ ہیں جو انسان کو دکھائی نہیں دیتیں۔ابن خلدون لکھتے ہیں کہ موسم سرما کے بعد جب موسم بدلتا ہے تو بہت سے کیڑے مکوڑے پیدا ہوجاتے ہیں۔اگر آندھیاں نا چلیں تو انسانوں کو کھا جائیں۔کیڑے مکوڑے ہی نہیں بہت سے جراثیم اور بیماریاں بھی اڑا لے جاتیں ہیں۔اس لیئے ان پہ اعتراض کرنا کم عقلی کی انشانی ہے وہ اللہ جوساری کائنات کا مالک ہے بہترین منظم و مدبر ہے وہ بہتر جانتا کہ کب موسم بدلنے ہیں کب بارش لانی اور کب نہیں۔

۔کہا جاتا ہے کہ ایک بزرگ فوت ہوگے ۔کافی نیک تھے۔کسی کو خواب میں ملے تو اس نے پوچھا کہ آپ کا اللہ سے کیا معاملہ رہا؟کہنے لگے مت پوچھو بہت برا پھنسا ہوں۔پوچھنے والے کے اصرار پہ بتایا کہ ایک دن بیٹھا ہوا تھا کہ بارش ہونے لگی،بے ساختہ ہی کہہ بیٹھا کہ یہ بھی کوئی وقت ہے بارش کا۔۔۔اب اللہ ہر روز اپنے دربار میں بلاتا ہے اور پوچھتا ہے کہ بتاؤ بارش کا صحیح وقت کون سا ہے؟

اس واقع سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کو بولنے میں کس قدر احتاط برتنی چاہیئے۔ہمارے الفاظ ہمارے گلے کا پھندا بن سکتے ہیں۔ان کو ادا کرنے کا فن سیکھیں۔کون سالفظ بولنا اور کونسا نہیں،یہ سب آپ پہ منحصر ہے۔

کیا کریں؟

آج ہی توبہ کریں۔سچے دل سے توبہ معافی مانگیں۔اللہ سے کہیں کہ وہ آپ کو الفاظ ادا کرنے کی صلاحیت دے کہ کون سا لفظ کب بولنا ہے۔رب الشرح لی صدری والی دعا ہر نماز کے بعد اس نیت سے پڑھیں کہ اللہ ہمیں کمیونکیشن سکل سکھا دے،حضرت موسی کی یہ دعا بہت پر اثر ہے اور نصیحت بھی کہ ایک نبی کو بھی حاجت ہے اور وہ بھی اللہ سے مانگ رہا ہے تو ہم تو بہت معمولی انسان ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں