676

چھوٹی چھوٹی نیکیاں

تحریر شئیر کریں

چھوٹی چھوٹی نیکیاں

بڑی نیکیاں کرنے کی حوصلہ شکنی نہیں کی جا رہی ۔ مقصد صرف یہ ہے کہ ہم اپنے نفس کو دن رات، صبح شام کی چھوٹی چھوٹی نیکیوں کا عادی بنائیں۔۔

اور اتنا عادی بنائیں کہ یہ چھوٹی نیکیاں ہماری شخصیت سے پھوٹ نکلیں ، اور ایک آبشار کی مانند بہتی رہیں۔ ۔۔

ابو بکر صدیق رضی الله تعالیٰ عنہ کی طرح۔۔

چھوٹی بڑی شاید ہی کوئی نیکی ایسی ہو جو انہوں نے نہ کی ہو۔۔

تبھی تو ان کو جنت کے آٹھوں دروازوں سے پکارا جائے گا ۔۔ فرشتے ہر جانب سے ان کو صدا دیں گے۔۔

اے ابو بکر ! آپ یہاں سے داخل ہو جائیے ..

اے صدیق اکبر !آپ ہمارے دروازے کو شرف دیجیئے.

اے یار غار! آپ اس چوکھٹ سے جنت میں داخل ہوں۔۔

اے ٹانی اثنین !آپ یہاں سے قدم رنجی فرمائیے ..

اے سب سے پہلے ایمان لانے والے ! ہم آپ کے یہاں منتظر ہیں۔۔

اے خلیفہ اول ! ہم آ پ کو اس دروازے سے خوش آمدید کہتے ہیں۔۔

اے آخری امت کے سب سے زیادہ رحم دل انسان ! ہم آپ کے اس دروازے سے داخلے کی شدید تمنا رکھتے ہیں۔۔

اے وہ عظیم شخص کی جس کو نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنا محسن کہا! دل و جان فرش راہ ہیں ، ادھر سے آ جائیے۔۔۔۔

الله تعالیٰ ان سے خوش ہوئے اور وہ الله تعالیٰ سے۔۔
ہزاروں سلام ان پر ۔۔
اور
کروڑوں ، اربوں سلام ان کے استاد ، مربی اور مرشد آقا صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر۔۔

رہتی دنیا تک۔۔

بات یہ ہے کہ اگر ان نیکیوں کو سمجھے بغیر ، کیے بغیر ہم بڑی نیکیوں کے درجے تک jump کر کے پہنچنا چاہیں گے تو بہت خطرہ ہے ہے کہ بڑی نیکیوں کو بھی سنبھال نہ پائیں ۔۔

جیسے کہ آپ جانتے ہوں گے کہ جہنم کو جب بھڑکایا جائے گا تو سب سے پہلے ایک مجاھد ، ایک سخی اور ایک عالم سے شروعات کی جائے گی۔ جنہوں نے بڑی بڑی نیکیاں تو سر انجام دیں لیکن چونکہ نفس نیکی کا عادی نہ تھا سو وہ اس کو سنبھال نہ سکے۔

اور دوسری جانب جنت میں اس آدمی کو بھی بھیج دیا جائے گا جس نے اپنے رستے سےکانٹے کو ہٹا دیا تاکہ لوگوں کو تکلیف نہ ہو اور اس فاحشہ عورت کو بھی، جس نے رستے میں ایک کتے کو پیاسا دیکھا تو اپنی چمڑے کی جوتی میں کنویں سے پانی نکال کر اس کتے کو پلا دیا اور اس عورت کو بھی جس کو صدقے کے طور پر ایک کھجور ملی تو اس نے وہ آدھی آدھی کر کے اپنی دونوں بیٹیوں میں بانٹ دی۔۔۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی چھوٹی چھوٹی باتوں کو بہت appriciate کیا اور بہت اجر و ثواب کا حامل بتایا۔

جیسے مسکرا کر ملنا

جیسے سلام میں پہل کرنا

جیسے عیادت کے لیے جانا

جیسے کسی مریض کی تیمارداری کرنا اور اس سے امید افزاء گفتگو کرنا

جیسے محض ایک اچھی بات کسی سے کہہ دینا

جیسےراستے میں پڑی کوئی نقصان دہ چیز ہٹا دینا

جیسے کسی کو پانی پلا دینا

جیسے اپنے سالن میں تھوڑا پانی زیادہ کرکے زیادہ شوربا بنا کر کسی پڑوسی کے ساتھ بھی اپنا سالن شیئر کر لینا

جیسے دودھ میں پانی ڈال کر کچی لسی بنا کر دوسروں کو بھی شامل کر لینا

جیسے آنے والے کے لئے جگہ بنا دینا

جیسے کسی کو محض ہاتھ بڑھا کر سواری پر سوار ہونے میں مدد دینا

جیسے اپنے ڈول میں سے کسی کے ڈول میں پانی ڈال دینا۔

جیسے کسی پیاسے جانور کو پانی پلا دینا۔

جیسے دو لوگوں کے کھانے میں کسی تیسرے کو بھی شامل کر لینا ، یا تین لوگ کھانا کھانے لگیں تو کسی چوتھے کو بھی شامل کر لینا۔

چھوٹی چھوٹی نیکیاں

چھوٹی چھوٹی نیکیاں جنھیں آپ اگنور کرتی ہیں۔وہ آپ کو بڑے اعمال تک پہنچا سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں