451

چیرٹی کا عالمی دن

تحریر شئیر کریں

۔۔۔۔
آج دنیا بھر میں چیرٹی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔دنیا محمدﷺ کی سنت کو دہرا رہی ہے۔اسلام جتنا دوسروں پہ خرچ کرنے کی تلقین کرتا ہے کسی اور مذہب میں اسکی مثال نہیں ملتی۔بہت سے گناہوں کا کفارہ مسکینوں اور ضرورت مندوں کو کھانا کھلانا ہے۔جو بہت بڑی نیکی ہے۔جس سے ہمدردی اور خیرخواہی کے جذبات بیدار ہوتے ہیں۔اور روحانی قوتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔اور اللہ خوش ہوتا ہے اور بدلے میں انسان کے مال و دولت میں اضافہ کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔
چیرٹی میں کیا دیا جاۓ؟
۔۔۔
نبی کریم ﷺ کے فرمان کے مطابق ایک مسکراہٹ بھی صدقہ ہے۔کسی مسلمان کو مسکرا کر ملنا بھی چیرٹی میں شمار ہوتا ہے۔راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹانا بھی صدقہ ہے۔اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرنا جتنا ہو سکے۔اسکی ضرورتوں کا خیال رکھنا۔اگر خود مدد نہ کر سکے تو کسی صاحب حثیت کو اسکی مدد کرنے کو کہنا بھی اسکی مدد کرنے کے برابر ہے۔قرآن کہتا ہے۔وہ لوگ قیامت کے دن کے منکر ہیں “جو نا تو خود دوسروں کو کھانا کھلاتے ہیں نا دوسروں کو ترغیب دیتے ہیں۔”سورہ الفیل
۔۔۔۔۔۔
اسلام کثرت کا قائل نہیں اخلاص اور حسن نیت کاقائل ہے۔ جہاں نیک نیتی سے خرچ کی گئ کھجور بھی مال ودولت کے پہاڑ میں سب سے اوپر جگہ پاتی ہے۔
۔۔۔۔
ایکٹیوٹی
آج کے دن کی مناسبت سے کسی غریب کے گھر اچھا سا کھانا پکا کر بھجوائیں۔اپنے بچوں کو ترغیب دیں کہ وہ اپنے ہاتھ سے خرچ کرنے کی عادت ڈالیں۔انکے ہاتھ سے ان کی پاکٹ منی میں سے کچھ خرچ کروائیں۔

پاکستان کا شمار ان ممالک میں شامل ہے جہاں سالانہ کھربوں روپے کی خیرات ہوتی ہے۔الحمد للی اگر ان چیزوں کو ریکارڈ میں رکھا جاۓ توگنیز بک آف ورلڈ میں شمار ہوسکتا۔

۔۔۔۔۔۔
چیرٹی اور خیرات میں جتنا ہوسکے بے لوث ہو کر کام کیا جاۓ تاکہ اللہ کی رضا حاصل ہو سکے۔اور اللہ کے وہ بے شمار انعامات جس کا اس نے وعدہ کیا ہے اس 30 دنیا اور ستر آخرت میں ،اس کے اصل حق دار بن سکیں
۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں