کن سے فیکون کا سفر
کرب کا ایک لامتناہی سمندر عبور کر کے پھر وہ سجدہ نصیب ہوتا ہے جسے تہجد کہتے ہیں۔اور وہ سجدہ بارگاہ الہی میں محبوب ٹھہرتا ہے اتنا محبوب کہ اس کے کرنے والے کو بھی محبوب بنا دیتا ہے۔
جس کی ملاقات کے لیے وہ خود انتظام کرتا ہے ،
رشک آتا ہے مجھے اس شخص کے مقدر پر جس کی ایک پکار سننے کے لیے اس نے ساری مخلوق کے لبوں پہ چپ کی مہر لگا دی۔
جس کے دیدار کے لیے وہ آسمان کو سیاہی سے بھر دیتا ہے،
اور چاروں طرف اندھیرا کر دیتا ہے،
تاکے اسکے بندے کے آنسو کوئی تیسری ذات نہ دیکھ سکے،
تاکے اسکے بندے کے جذبات کی خوداری پر پردہ پڑا رہے،
سب کو بے فکری کی نیند سلا کر وہ اپنے اس خاص بندے کو اپنی جستجو کی فکر میں لگا دیتا ہے،
طاق راتوں کا انتظار کرنے کی ضرورت کہاں پڑتی ہے،
نم آنکھیں اور سسکتا ہوا دل اس کو تہجد میں ڈھونڈ لیتا ہے،
وہ جو دو جہانوں میں سما نہیں پاتا
اس بکھرے ہوۓ ہوۓ دل میں جا سماتا ہے۔
تم سوچتے ہو آزمائش کا وقت بہت لمبا ہو گیا ہے،
مگر درحقیقت ملاقات کا وقت بڑھا دیتا ہے،
اللہ کو بہت پسند ہے جب ساری مخلوق نیند کے مزے اٹھاؤ اور تہجد گزار اس کے قرب کا مزہ لے۔
جب تم بےبسی کا رونا کائنات کے سامنے نہیں اسکے سامنے روتے ہو
یہ بھی پڑھیے
،
جب تم سب ختم ہونے کے بعد بھی اس یقین کے ساتھ دعا کرتے ہو،
کہ اسکے سوا کوئی تمہیں کچھ نہیں دے سکتا
جب تم سجدے پہ سجدہ کرتے ہو،
جب تم سانس لۓ بغیر بے ساختہ اسکا نام پکارنے لگتے ہو،
تب وہ تمہیں دیکھ کر مسکراتا ہے،
تب وہ تمہارے یقین کا بھرم رکھ لیتا ہے،
اور تمہارا مان نہیں توڑتا تمھیں اس چیز سے نوازتا ہے جسے اطمینان کہتے ہیں۔
سارے وسوسوں کو ختم کر دیتا ہے،
اسکی مسکراہٹ دکھائی نہیں دیتی مگر محسوس کرو تو
رگوں میں اسکی محبت کا رنگ خون کی مانند دوڑنے لگتا ہے،
اس سے بہترین لکھاری تو کوئی ہو ہی نہیں سکتا،
جو اختیار رکھنے کے باوجود نصیب کے پنوں کو اپنی چاہت سے تمہاری چاہت میں بدل دیتا ہے،
وہ بادشاہوں کا بادشاہ ہے پھر بھی تیری پکار سننے کے لیے آسمان دنیا سے زمین پہ تشریف لاتا ہے
اور ایک تم ہو کے فرض ہونے کے باوجود اسکی پکار کا جواب نہیں دیتے،
کبھی اسکی محبت میں رنگ کرکے تو دیکھو!
کائنات کے سارے رنگ پھیکے لگیں گے،
کبھی اس کو سن کر تو دیکھو!
کائنات کی ساری آوازیں بےمعنی لگیں گی،
وہ جس کو چاہتا ہے اپنی جانب موڑلیتا ہے،
چپ چاپ اور کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی
بس پھر وہ ایک حکم دیتا ہے اور کائنات کی ساری طاقتیں متحد ہوتی جاتی ہیں
کن اسکے گرد طواف کرنے لگتا ہے،
اور ساری باتیں فیکون پر ختم ہو جاتی ہیں،
یوں سبھی کہانیاں مکمل ہو جاتی ہیں ❤
کن سے فیکون کا سفر