کیا امام مہدی کے ظہور کازمانہ قریب ہے؟امام مہدی کون ہیں اور ان کی پہچان کیا ہوگی؟جانیے قلم کتاب پر
امام مہدی کے ظہور کا وقت بہت قریب ہے۔اگر تعلیمات نبوی ﷺ پہ غور فرمائیں تو ان کی جو نشانیاں بتائی گئیں ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ ان کا نام” محمد” اور باپ کا نام “عبداللہ “ہوگا۔اور جب ان کی عمر چالیس سال ہو گی تو یہ ظاہر ہوں گے۔مدینہ منورہ ان کی جاۓ پیدائش ہوگی ۔حضرت فاطمہ ؓ کی نسل سے ہوں گے جہاں تک سوال ہے کہ ان کا ظہور ہو چکا کہ ہونے والا تو اس حوالے سے ڈاکٹر اسرار احمد کہا کرتے تھے کہ وی پیدا ہو چکے ہیں مگر وی ابھی ظاہر نہیں ہوۓ۔
قرآئن و شواہد کے مطابق سعودی حکومت اور شیطانی طاقتیں ان کی آمد روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔مگر اذن ربی کو بھلا کون روک سکتا۔
امام مہدی کی نشانیاں
امام مہدی اللہ کے خلیفہ اور اس کے برگزیدہ بندے ہوں گے۔جو حضرت عیسیؑ کے ساتھ مل کر دجال جو اس زمین کا سب سے بڑا فتنہ ہیں اس کو ختم کر نے میں مدد دیں گے۔
امام مہدی کا ظہور جس سال ہوگا ۔اس سال حج امیر کے بغیر ہوگا۔منی میں کسی بات پر فساد شروع ہو جاۓ گا۔اور جمری عقبہ پر قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوگا۔اس وقت دنیا سے 7 بڑے وقت کے عالم امام مہدی کو ڈھونڈتے ہوۓ مکہ مکرمہ آن پہنچیں گے۔اور
یہ سب بغیر کسی پلاننگ اور تیاری کے ہوگا۔اور امام مہدی کو تلاشنا شروع کر دیں گے۔۔پھر طواف کرتے ہوۓ امام۔مہدی کو پا لیں گے ۔ان اس تلاش میں کوئی مشکل پیش نا آۓ گی کیونکہ امام مہدی کی نشانیاں جو حدیث میں بیان کی گئ ہیں ان کے مطابق آپ حلیے میں نبی کریم ﷺ کے مشابہہ ہوں گے۔جس سے ان کی پہچان مشکل نا ہوگی۔پہچاننے کے بعد یہ علماء ان سے بیعت لینا چاہیں گے۔مگر امام مہدی فوری طور پر تیار نہیں ہوں گے۔علماء کے اصرار پر وہ بالآخر مان جائیں گے۔پھر امام مہدی حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان ان سے بیعت لیں گے۔مزے کی بات یہ کہ سعودی حکومت اس جگہ کو خصوصی طور پر نظر پہ رکھے ہوۓ ہے۔تاکہ اس بیعت کو روکا جا سکے۔الامان
یہ بھی پڑھیے
علماء سے بیعت کے بعد عشاء کی نماز کے بعد عمومی بیعت ہوگی اور پھر امام مہدی خطبہ ارشاد فرمائیں گے۔
امام مہدی کی آمد کے ساتھ ہی حالات بدل جائیں گے۔اور کفارو مشرکین کے ساتھ انکی معرکے شروع ہو جائیں گے۔یہاں تک جنگ قسطنطنیہ سے فارغ ہونے کے بعد سب سے بڑے فتنے دجال کا ظہور ہوگا۔جس کے قتل کے لیے مسیح ؑ کا نازول ہوگا۔اور پھر یہ وہ وقت ہوگا جب امام مہدی اپنی ڈیوٹی پوری کر چکے ہوں گے۔وہ امور سلطنت حضرت عیسی ؑ کے سپرد کرکے ان کی اطاعت قبول کر لیں گے۔جہاں تک ان کی مدت خلافت کی بات ہے سات یا نو سال یو گی۔چالیس سال میں ظہور اور نو سال خلافت کے ڈال کر انچاس سال ہو گی اس کے بعد آپ کا انتقال ہو جاۓ گا۔۔حضرت عیسیؑ نماز جنازہ0 پڑھائیں گے۔اور پھر بیت المقدس میں سپرد خاک کیا جاۓ گا۔
سچے امام مہدی کی نشانی یہ ہوگی کہ وہ اپنی خلافت کا اعلان یا دعوی خود نہیں کریں گے۔