330

یقین والوں کا قصہ

تحریر شئیر کریں

یقین والوں کا قصہ

میرے پھوپھا ایک بات بتایا کرتے تھے کہ ایک۔مسلمان کے پڑوس میں ہندو رہتا تھا اس نے مسلمان۔سے پوچھا یہ جو تم لوگ)نماز)اٹھک بیٹھک کرتے ہو یہ کیوں کرتے ہو اس نے کہا یہ ہماری عبادت ہے جو ہمیں بہت سی پریشانیوں مصیبتوں سے بچاتی ہے

کچھ دن گزرے اس ہندو کے مالی حالات خراب ہو گئے آسے مسلمان کی بات یاد آئی اس نے بھی رکوع اور سجدہ شروع کر دیا دیکھتے دیکھتے ہی مالی حالات دردست ہوگئے

آس طرح کے واقعات نماز اور قرآن کے بارے میں سنتے اور پڑھنے کو ملتے ہیں جن سے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اسی طرح کا ایک واقعہ پڑھا جس میں ایک سکھ نے سورہ آل عمرآن کی آیت سے انساپریشن لی تھی۔۔اس سکھ کا کہنا تھا کہ ہوا کچھ یوں کہ پنتیس سال پہلے میرا بزنس تبااہی کے دہانے پر تھا اور مجھے کسی ایسی چیز کی تلاش تھی جس سے میں اس بحران سے نکل آوں

اسی دوران مجھے سوبھا گروپ کے بانی چِئر پرسن کی طرف سے قرآن گفٹ ملا اور سورہ آل عمراں کی آیت ایک سو ساٹھ نمبر جس کا ترجمہ ہے “اگراللہ تمہاری مدد کرے گا تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا اور اگر اس نے تمہاری مدد چھوڑ دی تو پھر ایسا کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کر سکے اور مسلمانوں کو اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے


مجھے درج بالا آیت کو گھر کے باہر لگانے کو کہا گیا مینن کا کہنا ہے اس سے مجھے حیرت انگیز فوائد ملے اور دیکھتے ہی دیکھتے میرے تمام مسائل حل ہوگئےان کا کہنا ہے تب سے اس آیت پر ان کا یقین بیٹھ گیا اور میں نے اپنے بیٹے بیٹیوں کے گھروں کے باہر اس کو لگا رکھا ہے”


بلاشبہ یقین ام الیقین ہے یقین ہماری کامیابی اور ناکامی کی وجہ بنتا ہے آج ہم سب اپنے دل سے یہ سوال کریں کہ ہمیں خود پر اللہ پر اس کی کتاب پر کتنا یقین ہے جتنا بھی ہے آج سے ایک کام کریں اپنے یقین پہ کام کریں اور اس کو بڑھاتے چلے جاِئیں۔آپ اگر بے یقینی دل میں لیے عبادات اور دعائیں کرتے رہیں گے تو کچھ حاصل نا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں