آئینے کے پیچھے
بارش کی ہلکی پھوار نے اسپتال کی
کھڑکیوں کو دھندلا سا کر دیا تھا۔ اندھیری شام، زرد روشنیوں کے سائے اور میرے سینے پر سجے دو ننھے وجود — میرے جڑواں بیٹے۔ ایک خاموش سی خوشی میرے اندر پھیل رہی تھی، جیسے کائنات کے سارے سوالوں کا جواب اب میرے آغوش میں تھا۔ مگر وہ لمحہ… وہ لمحہ جیسے کسی دوسری دنیا سے آیا ہو—میرے شوہر نے خاموشی سے ایک بیٹے کو اٹھایا، اور بنا کچھ کہے اپنی ماں کی گود میں رکھ دیا۔
“یہ ہمارا وارث ہے، ماشاءاللّٰہ!” ان کی ماں نے کہا۔ میں نے چونک کر دیکھا۔ وہ وارث؟ تو دوسرا بیٹا کیا ہے؟ میرا سینہ یکدم بھاری ہو گیا۔
ماں ہونا آسان ہے، پر دو بچوں میں فرق محسوس کرنا؟ یہ تکلیف دہ تھا۔
دوسرے دن نرس نے مجھے کمرے کے کونے میں بلایا۔ اس کی آواز دھیمی تھی، جیسے وہ کوئی جرم بتا رہی ہو۔
“میم، بچوں کی پیٹی پر دو مختلف کوڈز تھے… کسی نے ان میں ردوبدل کیا ہے۔”
“کیا؟” میری دھڑکن رک گئی۔
“ایک کوڈ کا تعلق کسی اور نومولود سے ہے، ہم نے ویریفائی کر لیا ہے۔”
“کس نے یہ کیا؟”
“ایک مرد تھا… شاید آپ کے شوہر؟”
میرے قدموں تلے زمین کھسک گئی۔ میں نے اپنے دونوں بچوں کو دیکھا—ایک کے چہرے پر سچائی، دوسرے پر… سوال؟
گھر آنے پر میری ساس نے ایک بیٹے کو سینے سے لگا لیا، جیسے برسوں سے اسی کی تلاش ہو۔ وہ لوریاں دے رہی تھیں، دعائیں پڑھ رہی تھیں۔ میرا دل ایک انجانے خوف سے لرز رہا تھا۔
میرے شوہر خاموش تھے، آنکھیں چرائے ہوئے۔ میں نے ان سے پوچھا:
“ہم دونوں کے بیٹے ہیں نا؟”
وہ خاموش رہے۔ بس اتنا کہا:
“سب ٹھیک ہے، تم تھکی ہوئی ہو، آرام کرو۔”
مگر ماں کی چھٹی حس کبھی جھوٹ نہیں بولتی۔
میں نے اسپتال سے ڈی این اے ٹیسٹ کروایا—خفیہ طور پر۔ چند دن بعد رپورٹ آئی۔ ایک بیٹا میرا اور میرے شوہر کا تھا۔ دوسرا… میرا تھا، مگر شوہر سے نہیں۔
میری روح کانپ گئی۔
“یہ کیا معنی رکھتا ہے؟”
پھر مجھے ایک پرانا خط ملا، میرے سسر کے کمرے کی دراز سے—ایک عورت کا لکھا ہوا، جس میں لکھا تھا:
“میں تمھارے بیٹے سے حاملہ ہوں، مگر وہ مجھ سے شادی نہیں کر سکتا۔ یہ بچہ میں خود پالوں گی۔”
یہ خط پرانا تھا، مگر میرے شوہر کے ماضی کا دروازہ کھول گیا۔
میرے شوہر کا ایک ناجائز بیٹا تھا۔ اور وہ بچہ… اسپتال میں میرے ساتھ بدلا گیا۔
میرے شوہر نے یہ راز چھپایا۔ انہوں نے وہ بچہ اپنی ماں کی خواہش پر میرے بچوں کے ساتھ بدل دیا، تاکہ خاندان کا “خون” زندہ رہے، وراثت بچی رہے، اور ماضی کی لغزش چھپی رہے۔
“تمھیں پتا بھی ہے تم نے کیا کیا؟” میں چیخی۔
“میں نے اپنے باپ کی غلطی کو درست کیا ہے!” ان کا لہجہ سخت تھا۔
“ایک ماں کے دل کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے تم نے!” میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
میں نے فیصلہ کر لیا—میں سچ کے ساتھ رہوں گی۔
میں عدالت گئی، پورے ثبوت کے ساتھ۔ یہ قانونی نہیں، اخلاقی مقدمہ تھا۔ مگر میں جانتی تھی: ماں کی مامتا اور سچ کی بنیاد سب پر بھاری ہوتی ہے۔
عدالت نے دونوں بچوں کو میرے سپرد کر دیا، اور میرے شوہر کو مشاورت کے لیے بھیجا گیا۔ ساس خاموش ہو گئیں، ان کی آنکھوں میں شکست کے آنسو تھے۔
میں دونوں بچوں کی ماں تھی۔ ایک جسم سے، ایک دل سے۔
اور یہی میرا سب سے بڑا فخر تھا۔