فائزہ شاہد
میرے اللہ میرے حامی و ناصر
میرے آفاق و انفس کے محاصر
نہیں رکھتی میں استحقاقِ رحمت
میرے احوال پر پھر بھی رحم کر
کدھر جاوُں کہاں ہے کون میرا
میری حدِّ نظر میں تو ہے ناظر
تیرے در پر ہے عالم کا گرارہ
جھکا ہے میرا سر تیرے ہی در پر
تو ہے شاہِ دوعالم میرے مولا
تیرے در پر ہوں میں ادنٰی گداگر
سلیقہ بھی نہیں ہے مانگنے کا
عطا کر میرے حق میں جو ہو بہتر
مجھے توفیق دے تیرا رہوں میں
طلب تیری رہے مجھ کو عمر بھر
میرا اک سانس بھی غافل نہ گزرے
حضوری میں رہوں ہر حال حاضر
میرے دل میں تیری جلوہ گری ہو
تیرے انوار سے ہو دل منوّر
میرا ویران گھر آباد کر دے
کہ یہ گھر ہو تیرے جلووں کا مظہر
نہ کوئی آرزو ہے نہ کوئی تقاضا
فقط ہو تُو ہو تُو مجھ کو میسّر
نزع کے وقت لب پر ہو فائز
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ قولِ آخر
. . . . . . .