آستین کا سانپ 5
قسط وار کہانی
از قلم ساجدہ بتول
قسط 5 ( آخری قسط)
”غور سے ساری داستان سنیے گا ۔“ کچھ دیر بعد بادشاہ سلامت سنبھل کر بولے
”ہوا کچھ یوں کہ آصف ہمارا پرانا اور با اعتماد وزیر تھا ۔ پھر ایک روز ہم نے ابرار کو بھی وزیر بنا لیا ۔ تا ہم آصف ہمارے احکامات زیادہ مانتا تھا ۔ ابرار میں اس حوالے سے کچھ کمی پاٸی جاتی تھی ۔ اس لیے فطری طور پہ ہمارا دلی لگاٶ آصف کے ساتھ زیادہ تھا ۔ ۔۔ ابرار سے یہ بات برداشت نہ ہوتی تھی ۔ اور پھر آج سے کچھ روز قبل ہمیں اپنے خفیہ ذراٸع سے اطلاع ملی کہ ابرار نے ایک سانپ کو خاص اس لیے تربیت دی ہے آصف کو ہماری نظروں سے گرا سکے ۔ اس نے تربیت یہ دی ہے کہ سانپ اس کے اشارے پہ ، اشارے کے وقت اپنے قریب لوگوں میں سے اس شخص کو ڈس لیتا ہے جس کو اس وقت وہاں سب سے اونچی جگہ پہ بیٹھے شخص سے باقی لوگوں کی نسبت زیادہ محبت ہوتی ہے ۔
ہمیں اطلاع ملی تھی کہ ابرار اس کے ذریعے کوٸی موقع دیکھ کر آصف کو ختم کرنا چاہتا ہے ۔ ہمیں اب آصف کو بچانا بھی تھا اور اس کی وہ محبت بھی لوگوں کے سامنے لانا تھی جس کی بناء پہ اسے ہماری قربت کا اعزاز حاصل ہے۔ لہٰذہ ہم نے ہیروں والی تھیلی کے چور کے قتل کا دن مقرر کر دیا ۔ “
”مگر آصف نے آپ کے ہیروں کی چوری کی ہے ۔ اسے کہاں کی محبت!“ ابرار نے مداخلت کی ۔
”جی نہیں! آصف نے چوری نہیں کی ۔“ بادشاہ سلامت کہنے لگے ۔ ”ہم نے کہا تھا ، ہماری ”ہیروں والی تھیلی“ گم ہو گٸی ہے ۔ اور واقعی ہماری ایک ہیروں والی تھیلی گم ہو چکی ہے ۔ یعنی ایسی تھیلی جس میں ہم ہیرے رکھتے تھے مگر وہ جب گم ہوٸی تو خالی تھی ۔ ہمارے کوٸی ہیرے گم نہیں ہوٸے ۔ لہٰذہ ہم نے جھوٹ نہیں بولا ۔۔۔۔۔ اور آصف نے بھی جھوٹ نہیں بولا کیونکہ یہ ہمارے ہیروں کی دیکھ بھال کے لیے ان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ رکھتا اٹھاتا رہا ہے ۔ “
ابرار کا سر جھک چکا تھا ۔۔ ادھر بادشاہ سلامت کہہ رہے تھے ”ہم نے قتل کی خواہش کا اظہار کیا اور ہمارا وفادار وزیر فقط ہمارے شوق کی تسکین کے لیے بظاہر ہیروں کا چور بن کر خود تیز دھار چھرا لیے اپنی گردن پیش کرنے کے لیے حاضر ہو گیا ۔
اور ہم جانتے تھے ، ابرار آصف کی موجودگی کے بغیر اہنے سانپ کو استعمال نہیں کرے گا ۔ لہٰذہ ہم نے ایک شخص کو آصف کا بہروپ دے کر اپنے قریب بٹھا لیا تھا ۔
آج کے اس قصے یہ معلوم ہو گیا ہے کہ اگرہم آصف سے زیادہ محبت رکھتے ہیں تو وہ اس محبت کا خراج دینا بھی جانتا ہے ۔ محبت کے لیے گردن کٹوانا جانتا ہے ۔ ہاں مگر سانپ کے عمل سے ابرار کی بھی ہم سے شدید محبت سامنے آٸی ہے مگر محبوب کی موجودگی میں اس کے برابر بیٹھنے کی خواہش رکھنے کی گستاخی کرنے والے اول نمبر کے محب نہیں کہلاتے ۔ ابرار ہمارا وزیر تو رہے گا ۔ اور ہم اس کی سب غلطیاں اس کی محبت کی وجہ سے معاف بھی کرتے ہیں مگر یہ ہمارا راز دان نہیں بن سکتا ۔ کیونکہ یہ اس قصے سے اپنا اعتماد کھو چکا ہے ۔ اور خادم خاص تو وہی ہوتا ہے جو اپنی گردن کٹوانے کے لیے پیش کر دے ۔ “
جی قارٸین! کیا کہا ؟ کہانی ختم ہو گٸی ؟؟
جی نہیں! کہانی تو اب شروع ہو رہی ہے ۔ ۔ میری اور آپ کی کہانی ۔۔۔۔ آٸیے! ہم آج سے عہد کرتے ہیں کہ ہم بھی اللہ جی اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایسی ہی محبت کریں گے جس میں عاجزی ہو ۔ جھکاٶ ہو ۔ برابری کی خواہش نہ ہو ۔محبت جھکنا مانگتی ہے ۔ برابر کی کرسی پہ بیٹھنا نہیں ۔ ہم ایسی محبت کریں گے کہ جب گردن پیش کرنے کا اشارہ پاٸیں ، گردن پیش کر دیں اور کٹوا دیں ، کہ یہ اول درجے کی محبت ہے ۔ نہ کہ ایسی محبت کریں کہ آستین میں سانپ پالتے پھریں ۔ وہ بھی اللہ جی کے پیاروں کو مارنے کے لیے!!!
ختم شد