382

اب پچھتائے کیا ہوت

تحریر شئیر کریں

اب پچھتائے کیا ہوت ایک ایسی ہی کہانی جو سوچ کے دریچے وا کر دے گی۔


مہوش کرن

بہت دیر سے وہ دراز قد آئینے کے سامنے کرسی پر بیٹھی سوچ رہی تھی۔ اپنے لمبے گھنے بالوں کو لکڑی کے خوبصورت کنگھے سے کاڑھ رہی تھی۔ کنگھا بار بار اوپر سے نیچے جا رہا تھا۔ کہیں اٹک نہیں رہا تھا۔ سارے بال بالکل سلجھے ہوئے تھے کہیں کچھ الجھا ہوا نہیں تھا لیکن اس کے دل و دماغ میں ہر بات الجھ کر رہ گئی تھی۔ سنگھار میز پر رکھی ہر ایک چیز بے مقصد لگ رہی تھی۔ کانوں کے دلفریب آویزے، جھمکے، شوخ رنگ چوڑیاں، جڑاؤ کڑے، موتیوں سے سجے گلوبند، لڑیوں والے ہار، ہیروں اور نگینوں سے چمکتی انگوٹھیاں، ہر چیز اپنا ہونا یا نہ ہونا ڈھونڈ رہی تھی۔

سوال کر رہی تھی کہ اب کس کے لیے ہوگا یہ ہار سنگھار۔ شیلف میں سلیقے سے سجا سرخی، پاؤڈر، کاجل کہہ رہے تھے کہ اب کس کے لیے کرو گی یہ سجاوٹ۔ اور وہ خود سے پوچھ رہی تھی کہ کیا تھا اگر میں اس وقت چپ رہ جاتی، ہمیشہ جواب دینا ضروری تو نہیں ہوتا۔ اگر میں خاموش رہتی تو آج حالات مختلف ہوتے۔ لیکن دیکھو میں کتنی خوش نصیب ہوں کہ ابھی بھی اسی گھر میں موجود ہوں، اگر نہیں ہے تو بس گھر والا موجود نہیں ہے۔ کیا تھا اگر میں اس کی عزت و احترام میں چپ رہ جاتی۔ کیا یہ کرنے سے میری عزت کم ہو جاتی؟ نہیں بلکہ بہت بڑھ جاتی شوہر کی نظر میں بھی اور اس رب کی نظر میں بھی جس نے میرے لیے میرے شوہر کو قوام بنایا تھا۔

آسان اور خوشگوار زندگی کے راز

وہ رات کو اپنے ماں باپ کے گھر اپنے پرانے کمرے میں کھڑا صبح آفس کے لیے الماری سے شرٹ نکال رہا تھا۔ اب یہ خود ہی استری کرنی تھی کیونکہ اس کے سارے کام کرنے والی اب نہیں تھی۔ کیا تھا اگر اس دن بھی وہ خود ہی کر لیتا، وہ تو ہمیشہ ہی سب کچھ کرتی آئی تھی۔ میں ہی اس کی خدمت کا اعتراف کر لیتا اور اسے کچھ وقت دے دیتا۔ کیا میں یہ کرنے سے چھوٹا ہو جاتا؟ نہیں تو، بلکہ بہت بڑا مقام حاصل کر لیتا اس کی نظر میں بھی اور اس رب کی نظر میں بھی جس نے مجھے بیوی سے حسنِ سلوک کرنے کا حکم دیا تھا۔ اتنا غصہ وہ بھی اس کے اوپر جس کے ساتھ ایک زندگی گزار دی ہو۔ دیکھا نا ایک حرام کام کیسے دوسرے حرام کام کو کھینچ لایا۔ ایک برائی ایسے ہی دوسری برائی کو بلاتی ہے، جیسے غصہ حرام ویسے ہی طلاق ناپسندیدہ۔ ایک ایسی غلطی جس کا کوئی کفارہ نہیں، ایک ایسا بند دروازہ جس کے آگے کوئی راستہ نہیں اور وہاں سے پلٹنا ناممکن۔

••••••••••

تینوں بچے اپنے کمرے میں خاموش تھے۔ نہ کوئی کھلونوں سے کھیل رہا تھا، نہ کتابیں پڑھ رہا تھا، نہ پینٹنگ کا دل چاہا، نہ باتوں کا۔ کمرے کی ہر چیز بچوں کے اداس چہرے دیکھ کر خود بھی اداس ہو چلی تھی۔ ان کی شرارتیں، نِت نئی حرکتیں، ہنسی قہقہے، ماند پڑ گئے تھے۔ روز کے جھگڑوں کا ہیبت ناک انجام بچوں کے بچپنے اور معصومیت پر عفریت بن کر چھا گیا تھا۔ ان کی خاموش آنکھیں سوال کر رہی تھیں کہ کیا تھا اگر وہ دونوں سمجھوتہ کر لیتے۔ آخر کو ہمارے ماں باپ ہیں، اپنے لیے نہ سہی ہمارے لیے ہی برداشت کر جاتے۔

•••••••••••

رات کے کسی پہر دونوں بوڑھے ماں باپ اپنے کمرے میں بستر پر چپ چاپ بیٹھے تھے۔ نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ ہم یہ سب نہ کرتے تو کتنا اچھا تھا۔ بہو کے خلاف بیٹے کو نہ ورغلاتے، چھوٹی چھوٹی باتوں کا تماشہ نہ لگاتے، رائی کا پہاڑ نہ بناتے، اچھی باتوں کو سراہتے، درگزر کرتے، محبت و اپنائیت دیتے تو آج بیٹے کا ہنستا بستا گھر اجڑا ہوا نہ ہوتا۔ اس کے بچے یوں ادھورے نہ رہ جاتے۔ ایک مکان ان کے پاس ہونے سے کیا ہوتا ہے، زندگی کی کڑی دھوپ میں حقیقی چھت تو چھن گئی۔

مگر اب افسوس کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اور ساری زندگی افسوس کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔

••••••••••••

یاد رکھیے !!!
گھر توڑنا کسی ایک کا قصور نہیں اور گھر بچانا کسی ایک کی ذمہ داری نہیں بلکہ گھر بنانا تو سانجھے کا کام ہے۔

سب مل کر کریں تو ہی بنتا
اور پھر بچتا ہے،
سب مل کر کریں تو ہی اچھا لگتا ہے،

اکیلا انسان تھک جاتا ہے،
ٹوٹ جاتا ہے،
ہمت ہار دیتا ہے،

تب سمجھ آتی اب پچھتائے کیا ہوت

اپنے جیسے کسی انسان کو ٹوٹنے سے بچائیے، آئیے ۔۔۔

اب پچھتائے کیا ہوت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں