اجنبی چہرہ – ایک خوفناک حقیقت
رات کے سائے دبے پاؤں گلیوں میں سرسرانے لگے۔ زبیر تھکے قدموں سے گھر کی دہلیز پر پہنچا تو دروازے پر بیوی کو پریشان کھڑے پایا۔ اس کے چہرے پر خوف کے آثار نمایاں تھے۔
کیا ہوا؟ زبیر نے چونک کر پوچھا۔
بیوی نے لرزتی آواز میں کہا، اندر آ کر دیکھو۔
زبیر تیزی سے گھر میں داخل ہوا اور جیسے ہی کمرے کی طرف بڑھا، اس کے قدم منجمد ہو گئے۔ صوفے پر ایک اجنبی بیٹھا تھا، مگر وہ کوئی عام اجنبی نہ تھا۔
زبیر کی آنکھیں حیرت سے پھٹنے لگیں۔ یہ… یہ کیسے ممکن ہے؟
سامنے بیٹھا شخص ہوبہو زبیر جیسا تھا! ایک ایک نقش، ایک ایک حرکت—سب کچھ!
بیوی نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا، یہ شخص دعویٰ کر رہا ہے کہ یہ تم ہو!
زبیر کا دل دھڑکنا بھول گیا۔ پسینے کے قطرے اس کی پیشانی پر نمودار ہونے لگے۔ وہ بے یقینی سے اجنبی کو گھورنے لگا۔
یہ تم کون ہو؟ زبیر نے ہمت مجتمع کر کے پوچھا۔
اجنبی نے ایک عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، میں وہ ہوں، جسے تم نے سالوں پہلے دفن کر دیا تھا!
زبیر کے ذہن میں پرانی یادیں بجلی کی طرح کوندنے لگیں۔ وہ ایک ایسی حقیقت تھی جسے وہ ہمیشہ کے لیے بھول جانا چاہتا تھا۔
دس سال پہلے، زبیر نے اپنے ہی دوست، طاہر، کے ساتھ دھوکا کیا تھا۔ ایک کاروباری معاہدے میں فراڈ کر کے اس کے لاکھوں ہڑپ کر لیے اور پھر اسے ایک حادثے میں مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ زبیر سمجھا تھا کہ وقت کے ساتھ سب کچھ ختم ہو جائے گا، لیکن آج ماضی ایک زندہ حقیقت بن کر اس کے سامنے بیٹھا تھا۔
میں تمہارا سایہ ہوں، تمہاری بداعمالیوں کا عکس! اجنبی نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
زبیر کا جسم کانپنے لگا۔ یہ سب میرا وہم ہے… یہ ممکن نہیں… وہ بڑبڑایا۔
لیکن میں یہاں ہوں، اور تمہیں اپنے کیے کا حساب دینا ہوگا! اجنبی کی آواز گونجی۔
اچانک کمرے کی کھڑکیاں خود بخود کھلنے لگیں۔ ہوا کے جھونکوں کے ساتھ ماضی کے گناہ زبیر کے کانوں میں سرگوشیاں کرنے لگے۔ بیوی کونے میں سمٹ کر کھڑی ہو گئی۔
زبیر نے خوفزدہ نظروں سے اپنی بیوی کی طرف دیکھا، مگر وہ اسے ایسے گھور رہی تھی جیسے وہ بھی حقیقت جان چکی ہو۔
مجھے معاف کر دو… زبیر گھٹنوں کے بل گر گیا۔
لیکن اجنبی خاموشی سے مسکراتا رہا۔
کمرے کی روشنی مدھم ہونے لگی، دیواروں پر سائے رقص کرنے لگے، اور اچانک…
اگلی صبح
بیوی نے آنکھیں کھولیں تو کمرہ ویران تھا۔ زبیر غائب ہو چکا تھا۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھی اور ہر جگہ تلاش کیا، لیکن کوئی نشان نہیں ملا۔
پھر اس کی نظر آئینے پر پڑی—جہاں اجنبی چہرہ اسے گھور رہا تھا!
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ ماضی کے گناہ ایک نہ ایک دن ہمیں گھیر لیتے ہیں۔ جو لوگ دوسروں کے ساتھ دھوکا کرتے ہیں، وہ دراصل خود کو دھوکا دے رہے ہوتے ہیں۔ سچائی سے بھاگنا ممکن نہیں، کیونکہ ہمارا ضمیر ہمیں ہمیشہ کے لیے قید کر دیتا ہے۔
یہ کہانی کیسی لگی؟ کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں!