356

اخلاق نبوی صل اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے آئینے میں ہماری ذندگی

تحریر شئیر کریں

تحریر بنت احمد
اخلاق نبوی صل اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے آئینے میں ہماری ذندگی۔
نقش قدم نبی کے ہیں جنت کے راستے(صل اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)
اللہ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے:
فتح مکہ کا موقعہ ہے کفار خوفزدہ ہیں کہ ہمارے ساتھ کیا ہوگا ہر۔ شخص خوفزدہ پریشان بڑے بڑے مشرکین کے سردار جنھوں نے کس کسطرح ستایا اس وقت اخلاق نبویّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا وہ روشن پہلو سامنے آیا جس نے قیامت تک کے مسلمانوں کو معافی اور درگزر کی وہ عظیم الشان مثال پیش کی کہ جان کے دشمنوں کو خون کے پیاسوں کو ستانے والوں کو کیسے معاف کیا جاتا ہے ، وہ تو کافر تھے آج خون کے رشتوں کو معاف کرنے کے لیے تیار نہیں۔


آج مسلمان جس اخلاقی گراوٹ کا شکار ہیں اسکی بہت سی وجوہات میں سے ایک وجہ درگزر نہیں رہا ، میرے آقا صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا (مفہوم)جو حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا چھوڑدے اللہ تعالی اس کو وہاں اونچا کر دینگے ، کہاں ہیں وہ اخلاق و کردار غلطی پر ہوتے ہوئے غلطی ماننے کے لیے تیار نہیں۔


بد لحاظی،بد اخلاقی،بدزبانی،ذرا ذرا سی بات پر ایسے مظاہرے دیکھنے میں آتے ہیں کہ شرم سے ڈوب جائیں۔ یقین نہیں آتا کہ اس نبی کے امتی ہیں جنہوں نے بہترین اخلاق پر جنت کی بشارت دی ہے۔ عبادت پر نفلوں پر ضمانت نہیں ہے۔ ہے تو اچھے اخلاق پر بہت وسیع موضوع ہے اسے کیسے احاطۂ تحریر میں لاسکتے ہیں۔ آج گھروں میں آگ لگی ہوئ ہے اس درگزر کی صفت پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہر شخص ایک دوسرے سے بدگمان ہے جھکنے کے لئے تیار نہیں

بے سکونی ہے ہر وقت ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی فکر ایک کے بدلے چار سنانے کے لئے تیار۔
چلو خوبیوں خامیوں کے ساتھ مکمل نہ صحیح کچھ تو آقا کی سیرت کی جھلک ذندگیوں میں نظر آئے۔ آج معاف نہ کرنےُکی اس صفت نے ذندگیوں کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے گھر گھر میں جھگڑے، بد گمانیاں۔ کتنی پیاری دعا ہے کہ کو اپنے مسلمان بہن بھائی کے لیے مغفرت کی دعا کرے اللہ تعالیٰ اس کو (مستجاب الدعوات)بنادیتے ہیں یعنی اسکی دعاؤں کی
برکت سے لوگوں کو رزق ملتا ہے۔

ایک صحابی کا مشہور واقعہ کے روزانہ لوگوں کو معاف کرکے سوتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا کہ جسکو جننتی دیکھنا ہو دیکھ لے تین دن یہ فرمایا پتہ چلا یہ عمل ہے اللہ اکبر کبیرا عبادت پہ نہیں روزوں پہ نہیں تہجّد پر نہیں عمل کیا ہے معاف کرنا اللہ تعالیٰ سب سے پہلے میرے دل میں یہ بات اتار دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں