220

اذان کو نظر انداز کرنا زوال کی علامت

تحریر شئیر کریں

اذان اسلام کا شعار اور دین کی دعوت کا پہلا اعلان ہے۔ جب کسی قوم یا فرد کی زندگی میں اذان کو معمولی سمجھا جانے لگے، تو وہ زوال اور انحطاط کا شکار ہونے لگتا ہے۔ احادیثِ نبوی اور علمائے کرام کے اقوال اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں۔

1. احادیث کی روشنی میں

(الف) اذان کی فضیلت:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“اگر لوگ اذان اور پہلی صف کی فضیلت کو جان لیں اور پھر قرعہ اندازی کے بغیر نہ پائیں، تو ضرور قرعہ ڈالیں۔”
(صحیح بخاری، حدیث: 615)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اذان دین کے شعائر میں سے ہے، جس کی فضیلت کو نظرانداز کرنا نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

(ب) اذان دینے والوں کا مقام:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“موذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے، وہاں تک ہر جاندار اُس کے لیے گواہی دیتا ہے، اور قیامت کے دن یہ گواہی اس کے حق میں ہوگی۔”
(مسند احمد، حدیث: 8492)

2. اذان کو ترک کرنا زوال کی نشانی

کسی بھی قوم کا دین سے دور ہونا اس کے زوال کی پہلی علامت ہے۔ اذان کو نظرانداز کرنا گویا نماز اور جماعت کو چھوڑنے کی طرف ایک قدم ہے، اور نماز کو ترک کرنا تو کھلا کفر ہے جیسا کہ حدیث میں ہے:

“آدمی اور کفر و شرک کے درمیان فرق نماز کا ترک کرنا ہے۔”
(صحیح مسلم، حدیث: 82)

3. علمائے کرام کے اقوال

امام غزالیؒ لکھتے ہیں:
“جب کسی بستی سے اذان کی آواز ختم ہو جائے، تو وہاں سے برکت اٹھ جاتی ہے۔”

شیخ ابن بازؒ فرماتے ہیں:
“اذان دین کا شعار ہے، اور اس کو ترک کرنا اسلامی شناخت کو مٹانے کے مترادف ہے۔”

مولانا مودودیؒ کہتے ہیں:
“جب مسلمان اذان کی آواز کو سن کر حرکت میں نہ آئیں، تو سمجھ لو کہ ان کے دلوں سے دین کی حرارت ختم ہو چکی ہے۔”

اذان کو معمولی سمجھنا، اس کی آواز کو نظر انداز کرنا یا جان بوجھ کر اس سے اعراض کرنا محض ایک عمل نہیں بلکہ دین سے بے حسی کی علامت ہے۔ قوموں کے زوال کی داستانیں اسی غفلت سے شروع ہوتی ہیں۔ اذان کو زندہ رکھنا، نہ صرف نماز کو بلکہ دین کو زندہ رکھنے کے مترادف ہے۔

اذان کو نظر انداز کرنا زوال کی علامت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں