اسیر حروف کہانی ہے ان لوگوں کی جو لفظوں کے پیچھے بھاگتے ہیں
ماوراء زیب
نم آلود صبح نے پورے شہر کی فضا کو تراوٹ بخش دی تھی۔ ایسے میں جامعہ کے سبزہ زار پر ننگے پاؤں چلنا ایک الگ ہی لطف دیتا تھا۔ شبنمی گھاس پر بیٹھ کر سکون کا سانس خارج کرتے اس نے وقت دیکھا تو کلاس شروع ہونے میں ابھی 40 منٹ باقی تھے۔ سورۂ کہف کی تلاوت بآسانی کی جاسکتی تھی۔ چھوٹے سائز کا مصحف ہر وقت پاس ہوتا تھا۔ ابھی تلاوت شروع کرتے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ لڑکیوں کا ایک ٹولہ اس کے پاس آکر بیٹھ گیا۔ ان میں سے کسی لڑکی نے اسے سورۂ کہف کی تلاوت کرتے دیکھ کر مخاطب کیا۔
”ایکسکیوزمی! کیا آپ مجھے بتا سکتی ہیں کہ آپ سورۂ کہف کی تلاوت کیوں کر رہی ہیں۔“
تلاوت کو درمیان میں روک کر جواب دینا اس کے لیے ہمیشہ سے ایک ناگوار عمل رہا ہے۔ اپنی طرف سے وہ تنہائی میں آکر بیٹھی تھی لیکن شاید اس کے جواب دینے سے کوئی اور تلاوت کرنے لگ جائے۔ یہی سوچ کر اس نے جواب دیا۔
”سورۂ کہف کی تلاوت کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلقین کی ہے۔ یہ سورت فتنوں سے بچاؤ کی سورت ہے۔“
”ہاں! ہاں! سنا ہے ہم نے فتنہ دجال آئے گا کوئی، اس سےبچنے کے لیے ہے۔ پر جب تک اس فتنے نے آنا ہے ہم سب اس وقت تک مرجائیں گے پھر کیا ضرورت ہے تلاوت کرنے کی۔ آپ ذرا سے دین والے اپنی طرف سے سختیاں کیوں قائم کر لیتے ہیں۔“
ابھی وہ اس بات پر پوری طرح حیران بھی نہیں ہوپائی تھی کہ وہ لڑکی کھڑی ہوگئی۔
”اوہ پلیز! مجھے لیکچر دینے کی کوشش مت کیجیے گا۔ پہلے ہی مجھے لگ رہا ہے یہاں بیٹھ کر میں نے غلطی کردی۔ آپ کے اس فتنہ دجال والے جواب نے مجھے گھٹن میں مبتلا کردیا۔“
وہ لڑکی تیز تیز بولتی صرف اپنی سناتی اور بنا کچھ سنے اپنی سہیلیوں کو ساتھ لے کر چلی گئی۔ اس نے قرآن کی طرف دیکھا اور کہنے لگی،
”دوست! دیکھا تم نے اس نے میری پوری بات نہیں سنی میں نے فتنہ دجال تو کہا ہی نہیں فتنہ کی جمع استعمال کی تھی۔ پر وہ لڑکی تو اسیرِ حروف نکلی۔ لفظ اسے الجھا گئے۔“
لفظ بظاہر لفظ ہے‘ لیکن باطن میں اک چہرہ ہے
چہرے کیا پہچانیں جن کو لفظوں کی پہچان نہیں
وہ پھولتے سانسوں کے ساتھ اس کے سامنے کھڑی تھی۔
”میم، میم پلیز! ایک سوال ہے۔“
”جی بیٹا پوچھیں۔”
”میم وہ ایک حدیث ہے ناں، جس میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مجھے سورۂ ہود اور اس جیسی دوسری سورتوں نے بوڑھا کر دیا ہے۔ میم ان سورتوں میں کیا بڑھاپے کی علامات موجود ہیں۔“
میم جھٹکے سے اس کی طرف مڑیں۔
”بیٹا کیا آپ نے ان سورتوں کے ترجمے نہیں پڑھے؟ “
”نہیں میم کبھی ضرورت ہی نہیں پڑی۔“
اور میم کو لگ رہا تھا کہ ضبط کا پیمانہ اب چھلکا کہ تب چھلکا۔
”بیٹا! قرآن کی ضرورت تو ہمیں ہمیشہ رہتی ہے۔ یہ ہمارے لیے ہی تو ہے۔ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ کو اب تک کی زندگی میں قرآن کی ضرورت محسوس ہی نہ ہوئی ہو۔ اس کا مطلب ہے آپ نے کبھی قرآن کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ آپ قرآن ترجمے سے پڑھ کر تو دیکھیں پھر آپ کا دل کہے گا عربی بھی سیکھتے ہیں۔“
” لیکن میم! ماما کہتی ہیں ابھی میں چھوٹی ہوں جب دادی ماں کی عمر کو ہوجاؤں گی تو قرآن پڑھوں گی۔ ابھی تو اسائنمنٹ بنانی ہے اسی دوران وہ حدیث دیکھی پھر آپ سے سوال پوچھ لیا۔ آپ اتنی نمازیں پڑھتی ہیں اور قرآن کی باتیں بھی بتاتی ہیں اسی لیے تو آپ زندگی کے مزے نہیں لے سکتیں۔ سب آپ کا مذاق اڑاتے ہیں۔ مجھے خود کو مذاق نہیں بنوانا۔“
صرف اپنی رائے سے نوازنا تو اس نسل کا مشغلہ ہوچکا ہے۔ ان کے لیے زندگی اتنی مصروف ہوگئی ہے کہ دو منٹ رک کر کسی کی پوری بات سننا ہی محال ہے۔ اس نے سر جھٹکا اور اپنی چیزیں سمیٹنے لگ گئی۔ اکیڈمی سے گھر جاتے ہوئے بھی بیس منٹ لگ جاتے تھے اور اسے عصر تک گھر پہنچنا تھا۔ اب ان لفظوں کے قیدیوں پر افسوس کرنے بیٹھ جاتی تو کچھ حاصل نہ ہوتا کم از کم دعا تو کر ہی سکتی تھی ان کے لیے۔
لفظ و معنی میں جو نسبت ہے تن و روح کی ہے
ورنہ معنی ہیں کہاں اور کہاں ہیں الفاظ
درس شروع ہونے میں ابھی دس منٹ تھے۔ اس کی ماما مدرسے میں پڑھاتی تھیں، آج اسے بھی ساتھ لے آئیں۔ جب وہ اپنی ماں کو ماما کہتی تھی تو خواتین اسے عجیب نظروں سے دیکھتی تھیں۔ آخر ایک خاتون سے رہا نہ گیا اور وہ اسے مخاطب کر کے کہنے لگیں،
”بیٹا آپ ماما کیوں کہہ رہی ہیں۔ آپ ایک مذہبی خاتون ہیں تو ماما کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔“
اس نے شدید حیرت سے ان خاتون کی طرف دیکھا۔
”ماما کہنے سے میرے مذہب کو کیا نقصان پہنچ رہا ہے۔“
”بیٹا! یہ غیروں کا لفظ ہے ہمیں اس کے استعمال سے بچنا چاہیے۔ آپ امی یا اماں کہہ لیں وہ مسلمانوں کا لفظ ہے۔“
اس نے ضبط کی انتہا پر پہنچ کر خود پر قابو رکھ کر نہایت شائستگی سے کہا۔
”آنٹی جی! امی تو اصلاً پراکرت کا لفظ ہے اسی طرح ماں بھی پراکرت کا لفظ ہے، اور اماں تو خالص سنسکرت سے آیا ہے۔ یہ دونوں زبانیں تو مشرکین کی ہیں۔ زیادہ خطرہ تو ان سے ہونا چاہیے۔“
ان خاتون کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔
”ہائے بیٹی! یہ کیا کہہ رہی ہو۔ ہم تو یہ الفاظ بچپن سے اردو کے سنتے آئے ہیں۔“
”یہی تو مسئلہ ہے آنٹی! ہم غور کرنے والی باتوں پر غور نہیں کرتے۔ اپنے فضول کے واہموں کو لے کر چلتے ہیں، اسیرِ حروف ہوگئے ہیں۔ اس وجہ سے ہی آج دینِ اسلام ہماری دسترس سے دور جارہا ہے۔“
”بیٹی پتہ نہیں کیا کہے جارہی ہو۔مجھے تو ایک بات بری لگی سو کہہ دی۔ سب منہ پر کہہ دیتی ہوں۔ غیبت کرنے کی عادت جو نہیں۔“
یہ کہہ کر وہ دوسری طرف متوجہ ہوگئیں۔
اس نے گہرا سانس بھرا اور خاموشی سے اٹھ کر ایک کونے میں بیٹھ گئی۔ اگر وہ سنتیں تو کچھ سناتی بھی۔ پر بڑھاپے میں بھی شاید لوگ صرف اپنی سنانا پسند کرتے ہیں۔ اور جو خود کو صحیح سمجھے اس سے زبردستی بحث کر بھی لی جائے تو کیا حاصل۔
تمام لفظ بھی اپنا حساب مانگتے ہیں
مٹا کے حرفِ غلط شہر کی دعا لیجئے!
اس نے میز پر سر رکھ لیا رات کا وقت اس کے لیے بہت سکون کا وقت ہوتا ہے۔ سب نیند کی آغوش میں ہوتے ہیں اور وہ اکیلی مختلف رازوں سے الجھ رہی ہوتی ہے۔ اچانک اس کے سامنے مختلف لفظ بکھر گئے۔ کچھ اداس، کچھ ہنستے ہوئے، کچھ اس کا مذاق اڑاتے ہوئے۔ وہ خالی نظروں سے ان لفظوں کو دیکھتی رہی جو کسی فاتح کی صورت اس کے اردگرد تھے۔ جو سب کو اپنا اسیر بناتے جارہے تھے۔ جن کے قیدی بن کر لوگ ان کا اصل مطلب کھو بیٹھے تھے۔ وہیں کچھ لفظ اداس بھی تھے جو چاہتے تھے ہمیں کھوجا جائے مگر اس بھاگتی دوڑتی زندگی میں ان کے لیے کون رکے۔ سمجھنا سب چاہتے ہیں پر کوشش کسی سے نہیں ہوتی۔
اسیر حلقۂ گرداب کوشش کی ضرورت ہے
بہ آسانی کسی کو دامنِ ساحل نہیں ملتا
اسیر حروف افسانہ ہے ایک کہانی ہے جو لفظوں کے اسیر لوگوں کا پتہ دیتی ہے۔لفظ لفظ ہوتے ہیں جزبات و احساسات سے عاری۔۔صرف لفظ