افسانہ آخری دعا
روبینہ شاہین
۔۔۔۔۔۔
ہوا میں بارود کی بو رچی ہوئی تھی۔ آسمان پر دھوئیں کے بادل اس طرح چھائے ہوئے تھے جیسے کسی نے سورج کو غم کے کفن میں لپیٹ دیا ہو۔ گلیوں میں ہوا بھی دبے پاؤں چلتی تھی، جیسے وہ خود بھی اس ویرانی سے خوفزدہ ہو۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، صرف شام میں خانہ جنگی کے دوران پانچ لاکھ سے زائد جانیں ضائع ہو چکی تھیں۔ علی نے اپنی چھوٹی بہن زینب کو اپنے گھٹنوں سے چمٹا لیا۔ دونوں ایک ویران گلی کے شکستہ کونے میں دبکے بیٹھے تھے۔ زینب کے لب کپکپا رہے تھے، اور آنکھوں میں وہ سوال تھا جو اکثر بچوں کے پاس الفاظ نہیں ہوتے سمجھانے کو۔
“بھیا، یہ گڑگڑاہٹ کیوں ہے؟ کیا ہم بھی عراق اور غزہ کی طرح بن جائیں گے؟”
علی نے زینب کے سر پر آہستگی سے ہاتھ پھیرا۔ اس کے دل میں ایک خالی پن اتر آیا۔ اس نے ذہن میں وہ تصویریں گھمائیں جو وہ کبھی اپنے ابو کے ساتھ ٹی وی پر دیکھا کرتا تھا—عراق میں لاکھوں بے گھر افراد، غزہ کے بچے جن کے جسم بمبوں سے چھلنی ہو چکے تھے، اور وہ مائیں جو ہر رات آسمان کی طرف دیکھ کر خاموش چیخ مارتی تھیں۔
کبھی ان گلیوں میں زندگی ہوا کرتی تھی۔ بچے اسکول سے آتے وقت دیواروں پر اپنی گلیوں کے نام لکھا کرتے، چھوٹے کھلونے بکھرتے، اور شاموں کو چائے کی خوشبو گلیوں میں گھلتی تھی۔
مگر اب؟ علی کی کتابیں، جن پر لکھا تھا “امن کا سبق”، اب راکھ بن چکی تھیں۔ وہ اسکول جو کبھی علم بانٹتا تھا، اب کھنڈر میں بدل چکا تھا۔
“جنگ صرف عمارتیں نہیں گراتی، یہ مستقبل بھی جلا دیتی ہے،”
علی نے سوچا۔ اس کے ذہن میں ہیروشیما اور ناگاساکی کے وہ بچے آئے جو ایٹم بم کے بعد پیدا ہوئے تھے اور جنہوں نے معذوری کو اپنی فطرت سمجھ کر زندگی گزارنا سیکھا تھا۔
رات ہوئی تو گولہ باری کچھ تھمی۔ چاند سہم کر بادلوں کے پیچھے جا چھپا۔ زینب بھوک سے نڈھال ہو چکی تھی۔ علی نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا، ایک سوکھا ہوا بسکٹ نکالا جو کئی دنوں سے رکھا ہوا تھا۔ وہ اسے زینب کے ہاتھ میں دیتے ہوئے بولا:
“کل انکل جمال کے گھر شاید کچھ آٹا بچ گیا تھا… میں صبح جلدی نکلوں گا۔”
زینب نے بسکٹ چبایا، مگر آنکھیں علی پر جمی رہیں۔
“بھیا، کیا ہم بھی ان اعداد و شمار کا حصہ بن جائیں گے؟”
علی نے جواب نہ دیا، صرف سر جھکا کر سوچنے لگا۔ پہلی جنگ عظیم نے ایک کروڑ ساٹھ لاکھ جانیں لی تھیں۔ دوسری جنگ میں سات کروڑ۔ اور اب؟ جدید ہتھیاروں کے ہوتے ہوئے، انسان کی قیمت صرف ایک خبر بن چکی تھی
کئی سال گزر گئے۔ جنگ نے جب قافلہ آگے بڑھا دیا تو جو بچے رہ گئے، وہ یا تو یتیم تھے یا خاموش گواہ۔ علی نے اپنے ہاتھوں سے قبریں بنائیں، ملبوں کے نیچے سے وہ یادیں نکالیں جنہوں نے رونے کا سلیقہ چھین لیا تھا۔
زینب اب جوان ہو چکی تھی۔ وہ راتوں کو چیخ اٹھتی تھی۔ ڈاکٹر کہتا تھا یہ جنگی صدمہ ہے، جو نسلاً منتقل ہوتا ہے۔
ایک دن علی پرانے اسکول کے ملبے میں گیا۔ وہ وہیں کھڑا رہا جہاں وہ کبھی جماعت چہارم میں بیٹھا کرتا تھا۔ گرد میں لپٹا ایک صفحہ ملا، جس پر بچپن کی تحریر تھی:
“جنگ کبھی مذاق نہیں ہوتی۔ یہ صرف موت بانٹتی ہے – اور جو بچ جاتے ہیں، وہ زندگی بھر اس موت کو اٹھائے پھرتے ہیں۔”
ایک مقامی تنظیم کے ذریعے زینب کو ایک اسکالرشپ ملی۔ اس نے نفسیات میں تعلیم حاصل کی تاکہ وہ ان بچوں کی مدد کر سکے جو علی اور اس جیسے ہزاروں کے جیسے زخم لیے پھرتے ہیں۔
علی نے ایک چھوٹی سی لائبریری بنائی، جہاں وہ بچ جانے والی کتابیں سنوار کر رکھتا۔ اس نے لائبریری کے دروازے پر لکھا:
“یہاں صرف وہ علم پڑھایا جاتا ہے جو انسان بچاتا ہے۔”
زینب نے ایک دن علی سے کہا:
“بھیا، اگر ہم نے سب کچھ کھو دیا، تو بھی ہم نے اپنے درد سے سبق سیکھا۔ یہ کافی ہے؟”
علی نے تھوڑے توقف کے بعد کہا:
“اگر دنیا نے سیکھا ہوتا، تو یہ سوال نہ ہوتا، زینب۔”
آج بھی جب کہیں دور توپوں کی گرج سنائی دیتی ہے، زینب چونک کر علی کے پاس آ جاتی ہے۔
“بھیا، کیا دنیا والوں نے ہیروشیما، عراق، شام اور غزہ سے کچھ نہیں سیکھا؟”
علی خاموشی سے آنکھیں بند کر لیتا ہے اور زیرِ لب دعا مانگتا ہے:
“یا اللہ! ہمیں جنگ جیسے عذاب سے بچا۔ ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ ہمیں امن کی زندگی عطا فرما۔ آمین۔”
تبصرے بند ہیں