افسانہ نگار:روبینہ شاہءن
نیلم کی ندی کنارے جی کی کٹیا میں ہوا کے جھونکے نے چراغ کی لو کو ہلکا سا جھلکایا۔ وہ اپنے بستر پر لیٹی تھی، آنکھیں کھلی ہوئی تھیں مگر دیکھ کچھ اور رہی تھی۔ چارپائی کے پاس لٹکی تسبیح کے دانے اس کی انگلیوں میں پھسل گئے۔ ہر دانے پر ایک نام تھا جو اس کے دل میں زندہ تھے۔ شوہر۔ دو بیٹے۔ ماں۔ باپ۔ بہن۔
کمرے کی دیوار پر لگی پرانی گھڑی کی ٹک ٹک نے خاموشی توڑی۔ جی نے آنکھیں بند کیں تو اس کے سامنے وہ منظر پھر زندہ ہو گیا۔ کشمیر کی وہ رات جب اس کی دنیا خاکستر ہو گئی تھی۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ دو بیٹوں کو لیے کوٹھے پر چھپی تھی۔ نیچے اس کے والدین گھٹنوں کے بل گرے دعائیں مانگ رہے تھے۔
“اللہ! ہم بے گناہ ہیں…”
پھر ایک دھماکا۔
کچھ دیر بعد جی ہوش میں آئی تو اس کے ہاتھ میں شوہر کی انگوٹھی تھی، اور سامنے دو چھوٹی لاشیں… اس کے بیٹے۔ باہر والدہ کا دوپٹہ ہوا میں لہرا رہا تھا، جیسے کسی نے اسے بے دردی سے کھینچ کر پھینک دیا ہو۔ وہ چلّائی، مگر آواز گم ہو گئی۔ اس کے منہ سے نکلا: “جی… جی…” یہ لفظ اس کی روح میں اتر گیا۔ بعد میں لوگوں نے اسی نام سے پکارا۔
وادئ نیلم میں جی کو پاکستان لانے والے مجاہدین نے اسے گود میں لیے روتے دیکھا تو کہا تھا: “بیٹی، یہاں تمہارا نیا گھر ہے۔ یہ زمین تمہارے آنسو پونچھے گی۔” مگر جی جانتے تھے، کوئی زمین زخموں کا مرہم نہیں ہوتی۔ وہ نیلم کے کنارے ایک کچے مکان میں رہنے لگی۔ گملوں میں پودے لگائے، جنہیں وہ اپنے بیٹوں کا نام دیتی۔ راتوں کو وہ ندی کے پاس بیٹھ کر کشمیر کی طرف دیکھتی۔ کبھی کبھی ہوا کے جھونکے میں اسے لگتا جیسے کوئی پکار رہا ہو: “ماں…”
گاؤں کی عورتیں جی کے پاس اپنے دکھ لے کر آتیں۔ ایک دن فاطمہ، جس کا بیٹا لائن آف کنٹرول پر شہید ہوا تھا، روتی ہوئی آئی۔ جی نے اس کے آنسو پونچھے اور کہا: “ہر شہید کی روح زندہ ہوتی ہے۔ تمہارا بیٹا اب ہوا میں ہے، تمہاری سانسوں میں، نیلم کے پانیوں میں۔” فاطمہ نے پوچھا: “کیا کشمیر آزاد ہوگا؟” جی نے دریچے سے باہر دیکھا، جہاں پہاڑوں کے پیچھے کشمیر تھا۔ “ہاں… مگر ہمیں صبر کی فصل کاٹنی ہوگی۔”
جی کی نیندیں ٹوٹ گئی تھیں۔ ایک رات اس نے خواب دیکھا: وہ غزہ کی ایک تباہ شدہ گلی میں کھڑی ہے۔ ایک بچہ، جس کے ہاتھ میں کھلونا توپ ہے، اسے دیکھ کر رونے لگا۔ جی نے اسے گلے لگایا تو اس کے کپڑوں سے خون رسنے لگا۔ بچہ بولا: “ہماری ماں کہتی ہیں، اللہ ہمارا مددگار ہے۔” جی کی آنکھ کھلی تو تکیہ گیلے تھے۔ اگلے دن اس نے اپنی الماری میں ایک نیلا غبارہ رکھا، جس پر لکھا: “غزہ کی آزادی تک۔”
28 مئی 1998 کو جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے، جی چھت پر چڑھ کر زور زور سے روئی۔ اس نے کہا: “اب کوئی ہمارے بچوں کو نہیں مارے گا۔” مگر 2009 میں مظفرآباد کی مسجد پر حملے نے اس کا یقین توڑ دیا۔ اس رات وہ ندی کنارے بیٹھی رہی۔ پانی میں اسے اپنا عکس دکھائی دیا — بوڑھا، ٹوٹا ہوا۔ اس نے پانی میں ایک پتھر پھینکا: “کیا ہم محفوظ نہیں؟ کیا یہ بم ہماری عزت نہیں بچا سکا؟”
جی کے مرنے کے بعد گاؤں والوں نے اس کی سوکھی ٹہنی کو ہرا پایا۔ بچے کہتے ہیں کہ راتوں کو جی کی روح نیلم کے پانیوں پر چلتی ہے۔ کبھی وہ کشمیر کی طرف دیکھتی ہے، کبھی غزہ کی طرف۔ اس کی آواز ہوا میں گونجتی ہے:
“جنگ مت مانگو… مگر ظلم کے آگے جھکنا مت۔”
اور پھر نیلم کی لہروں میں ایک اور آواز مل جاتی ہے جیسے کوئی دور سے جواب دے رہا ہو: “جی… جی…”
افسانہ جی دوسرا حصہ
تبصرے بند ہیں