250

افسانہ روشنی کی رات

تحریر شئیر کریں

گلیوں میں روشنیوں کی جھلملاہٹ تھی، گھروں میں دیے جل رہے تھے، اور مسجدوں میں محفلیں سج چکی تھیں۔ ہر طرف شبِ برات کی برکتوں کا چرچا تھا۔ بچے گھروں کے باہر پٹاخے جلا رہے تھے، عورتیں خصوصی عبادات میں مصروف تھیں، اور مرد قبرستان کی طرف جا رہے تھے تاکہ اپنے مرحومین کے لیے فاتحہ پڑھ سکیں۔

سارہ اپنی دادی کے ساتھ بیٹھی دیکھ رہی تھی کہ اس کی ماں شبِ برات کے خاص پکوان تیار کر رہی تھی۔ اس نے ہلکی آواز میں پوچھا، “دادی، کیا واقعی آج کی رات ہمارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں؟ اور کیا آج رات اللہ ہماری تقدیر لکھتا ہے؟”

دادی نے محبت بھری مسکراہٹ کے ساتھ کہا”ہاں بیٹا، یہ بہت مبارک رات ہے۔ آج اللہ تمہاری قسمت لکھتا ہے اور پچھلے گناہ معاف کر دیتا ہے، بس دل سے معافی مانگنی چاہیے۔”

سارہ نے اثبات میں سر ہلایا مگر دل میں ایک عجیب سی بےچینی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، مگر کیا واقعی تقدیر کے فیصلے اس رات میں ہوتے ہیں؟

اسی کشمکش میں اس نے اپنی دوست مریم کو فون کیا، جو دینی تعلیم حاصل کر رہی تھی”مریم، کیا واقعی شبِ برات میں تقدیر لکھی جاتی ہے؟

مریم نے تھوڑی دیر خاموشی کے بعد کہا،”سارہ، تم نے کبھی قرآن کو غور سے پڑھا ہے؟ اللہ نے تقدیر کے فیصلوں کے بارے میں ایک نہیں، بلکہ دو جگہ واضح الفاظ میں بیان کیا ہے کہ یہ سب کچھ شبِ قدر میں ہوتا ہے، نہ کہ شبِ برات میں۔”

سارہ حیران رہ گئی”مگر دادی کہتی ہیں کہ یہ رات بہت خاص ہے!

مریم مسکرائی، “ہاں، ہر رات خاص ہو سکتی ہے اگر ہم اس میں عبادت کریں، مگر تقدیر کے فیصلے اللہ نے شبِ قدر میں لکھنے کا ذکر کیا ہے۔ قرآن کہتا ہے:
‘إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ… فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ’
(ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں اتارا، اسی رات ہر حکمت والا معاملہ طے کیا جاتا ہے۔ – سورۃ الدخان 3-4)۔
یہ بابرکت رات رمضان میں آتی ہے، شعبان میں نہیں۔”

سارہ کو ایک جھٹکا لگا۔ “مطلب شبِ برات میں فیصلے ہونے کا کوئی ذکر نہیں؟”

مریم نے نرمی سے کہا، “نہیں سارہ، اور اس کا کوئی مستند حدیثی ثبوت بھی نہیں۔”

سارہ نے فون بند کر دیا اور وہی آیت دوبارہ پڑھی۔ مسجد میں امام صاحب شبِ برات کے بجائے شبِ قدر کے فضائل بیان کر رہے تھے، اور سارہ کی آنکھوں کے سامنے ایک نیا دروازہ کھل گیا تھا—سچائی کا دروازہ۔

اسی لمحے اس نے فیصلہ کیا کہ وہ سنی سنائی باتوں پر یقین نہیں کرے گی، بلکہ دین کو تحقیق سے سمجھے گی۔ اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے:
“یا اللہ، مجھے سچ کو پہچاننے کی توفیق دے، مجھے اس رات کی برکت عطا کر جسے تُو نے ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا۔”

وہ رات سارہ کے لیے روشنی کی رات تھی—جہالت کے اندھیروں سے نکلنے کی رات۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں