صبح کا وقت تھا، سورج کی کرنیں کھڑکی سے جھانک رہی تھیں اور پرندے چہچہا کر دن کی ابتدا کا اعلان کر رہے تھے۔ صبا اپنے تین بچوں کے ساتھ ناشتے کی میز پر بیٹھی تھی۔ میز پر عام سا ناشتہ تھا مگر ماحول میں سکون کا ایک عجیب سا احساس تھا۔ صبا نے بچوں سے پوچھا،
“آج کون سی دعا یاد کرنی ہے؟”
سب سے چھوٹے بچے عفان نے جلدی سے کہا،
“امی، وہ دعا جس میں ہم ایمبولینس کے لیے شفا مانگتے ہیں!”
صبا نے مسکراتے ہوئے بچوں کو دعا یاد کروائی اور سمجھایا کہ کیسے دوسروں کے لیے دعا کرنا خود کے دل کو سکون دیتا ہے۔ وہ اکثر اپنے بچوں کو ایسی چھوٹی چھوٹی نیکیاں سکھانے کی کوشش کرتی رہتی تھی۔ یہ نیکیاں ان کے گھر کا ایک اصول بن چکی تھیں۔
ناشتے کے بعد صبا نے بچوں سے کہا،
“تم جانتے ہو، دعا اور الفاظ میں کتنا بڑا جادو ہوتا ہے؟ جب ہم کسی کے لیے دعا کرتے ہیں، چاہے وہ ہمیں جانتا ہو یا نہیں، تو اللہ ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو وہی دعا ہمارے لیے مانگتا ہے۔”
عالیہ نے حیران ہو کر پوچھا،
“امی، واقعی؟ تو پھر ہم ہر وقت دوسروں کے لیے دعا کیوں نہیں کرتے؟”
صبا نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا،
“یہی تو اصل بات ہے، بیٹا۔ جب ہم دوسروں کے لیے اچھے الفاظ بولتے ہیں یا دعا کرتے ہیں، تو ہم خود بھی ان برکتوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہ دعا ایٹم بم سے بھی زیادہ طاقتور ہے کیونکہ یہ دلوں کو بدل سکتی ہے، حالات کو بہتر کر سکتی ہے اور سب سے بڑھ کر ہمیں اللہ کے قریب لے جاتی ہے۔”
کچھ دن پہلے کی بات ہے۔ صبا اپنی بیٹی عالیہ کے ساتھ بازار گئی تھی۔ وہاں ایک دلہن کی گاڑی گزری، جس پر خوبصورت پھولوں کا ہار سجا ہوا تھا۔ عالیہ نے فوراً کہا،
“ماشاءاللہ، اللہ ان کی شادی مبارک کرے اور خوشیوں سے بھر دے!”
صبا نے اپنی بیٹی کی یہ بات سن کر دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس کی تعلیمات اثر کر رہی ہیں۔ اسی وقت اس نے سوچا کہ بچوں کو دعائیں یاد کروانے کا یہ معمول ان کی شخصیت کا حصہ بن چکا ہے۔
ایک دن ان کے پڑوس میں ایک بچہ بیمار ہوگیا۔ ایمبولینس کا سائرن سن کر عفان نے دعا کی،
“اللہ پاک، اس بچے کو شفا دے!”
کچھ دن بعد جب وہ بچہ صحت یاب ہوا تو اس کے والدین نے صبا سے کہا،
“آپ کے بچے واقعی نیک دل ہیں، عفان کی دعا نے ہمیں امید دی۔”
صبا نے یہ بات بچوں کو بتائی اور کہا،
“دیکھا، الفاظ کا کتنا اثر ہوتا ہے؟ کسی کے لیے دعا کرو تو وہ دعا ہماری زندگی میں جادوئی اثر لے آتی ہے۔”
ایک شام صبا کے شوہر کے ساتھ ایک برینڈ نیو گاڑی گزری۔ عفان نے دعا کی،
“اللہ اس گاڑی کے مالک کو خوشیوں سے برتنا نصیب کرے۔”
صبا نے بچوں کو سمجھایا،
“بیٹا، دعا دینے سے حسد دل سے نکل جاتا ہے۔ دوسرے کی خوشی کے لیے دعا کرنے سے ہمارا دل نرم ہوتا ہے اور ہم خود بھی خوش رہتے ہیں۔”
صبا نے بچوں کو ایک اور سبق دیا،
“جب ہم سفر کرتے ہیں، تو سب مل کر کہتے ہیں: ماشاءاللہ، سبحان اللہ، لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔ یہ الفاظ نہ صرف ہماری حفاظت کے لیے دعا بن جاتے ہیں بلکہ ہمیں بھی اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی عادت ڈالتے ہیں۔”
ایک دن، صبا کے بچوں نے اس سے پوچھا،
“امی، ہم کیوں ہر کسی کے لیے دعا کرتے ہیں، چاہے وہ ہمیں جانتا ہو یا نہ ہو؟”
صبا نے مسکرا کر کہا،
“بیٹا، دعا اور الفاظ جادو کی طرح کام کرتے ہیں۔ یہ نہ صرف دوسروں کی زندگی بدلتے ہیں بلکہ ہمیں سکون اور خوشی بھی دیتے ہیں۔ کسی کے لیے دعا کرنا اللہ کو بہت پسند ہے، اور جو فرشتہ ہماری دعا کے بدلے ہمارے لیے وہی دعا کرتا ہے، وہ ہماری زندگی کو روشن کر دیتا ہے۔ دعا ایٹم بم سے زیادہ طاقتور ہے، کیونکہ یہ دلوں کو جوڑتی ہے، محبت بڑھاتی ہے اور ہمیں اللہ کے قریب لے جاتی ہے۔”
یہ سن کر بچوں کے چہرے خوشی سے دمکنے لگے۔ ان کے لبوں پر مسکراہٹ تھی اور دلوں میں دعا کا چراغ روشن ہو چکا تھا۔
الفاظ کا جادو یہ ہے کہ یہ دلوں کو نرم کرتے ہیں، حسد کو مٹاتے ہیں، اور ہمیں اللہ کی رحمتوں میں لپیٹ لیتے ہیں۔
“الفاظ کا جادو” ایک دل کو چھو لینے والی کہانی ہے جو دعاؤں کی طاقت، الفاظ کے مثبت اثرات، اور دوسروں کے لیے دعا کرنے کی خوبصورتی کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ کہانی بچوں کو نیکی، محبت، اور دعا کے جادو سے روشناس کراتی ہے
“الفاظ کا جادو”