اندھیرے کے مکین: قسط 21 211

اندھیرے کے مکین: قسط 20

تحریر شئیر کریں

 اندھیرے کے مکین: قسط 21
قطبی رات کا پچپن واں دن: ایک سنگین صورتحال
الاسکا کی اس طویل رات (Polar Night) کو آج 55 دن مکمل ہو چکے تھے۔ فضا میں آکسیجن کی کمی اور منفی 52 ڈگری کی جان لیوا سردی نے اعصاب کو شل کر دیا تھا۔ باہر Weather Forecast کے مطابق یہ اس صدی کا سرد ترین ہفتہ تھا، جہاں ہوا کی رفتار 80 میل فی گھنٹہ تک پہنچ چکی تھی، جو برف کے گالوں کو چھوٹے چھوٹے نشتروں میں بدل رہی تھی۔
احمد، مایا اور فاطمہ مسجد کے اندر محصور تھے، مگر یہ محصوری کسی قید جیسی نہیں بلکہ ایک قلعے جیسی تھی۔ لکڑی کے قدیم ستونوں سے اٹھنے والی صندل کی ہلکی سی مہک اس منجمد ماحول میں زندگی کا واحد احساس تھی۔

دروازے پر دستک: موت یا معجزہ؟

رات کے پچھلے پہر جب طوفان اپنی پوری قوت سے مسجد کی دیواروں سے ٹکرا رہا تھا، اچانک دروازے پر ایک بھاری دستک ہوئی۔ مایا خوف سے اچھل پڑی، “احمد! اس وقت یہاں کوئی انسان کیسے ہو سکتا ہے؟”
احمد نے خاموشی سے اپنی پستول نکالی اور فاطمہ کو مایا کے ساتھ محراب کے پیچھے چھپنے کا اشارہ کیا۔ جیسے ہی احمد نے بھاری کواڑ کھولے، برف کا ایک ریلا کسی بپھرے ہوئے شیر کی طرح اندر داخل ہوا اور اس کے ساتھ ہی ایک وجود لڑکھڑاتا ہوا اندر گرا۔
وہ ایک مقامی الاسکن (Inupiat) بوڑھا تھا، جس کا چہرہ جھریوں اور برف کی تہوں سے اٹا ہوا تھا۔ اس نے ایک قدیم چمڑے کا لباس پہن رکھا تھا جو شاید صدیوں پرانی روایت کا حصہ تھا۔

قدیم روایت اور امانت کی واپسی

اس شخص کو آگ کے قریب لایا گیا اور فاطمہ نے جلدی سے گرم قہوہ تیار کیا۔ جب اس کے جسم میں کچھ حرارت آئی تو اس نے اپنی کانپتی ہوئی آواز میں انکشاف کیا:
“میں ‘نلوکاٹک’ (Nalukataq) کے اس سلسلے کا آخری محافظ ہوں جس کی وصیت میرے دادا نے کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ جب آسمان پر ‘سبز روشنی’ (Aurora) اور زمین پر ‘ایمانی نور’ ایک ساتھ چمکیں گے، تو سمجھ لینا کہ مشرق کا پیغامبر واپس آگیا ہے۔”
اس نے اپنے لبادے سے ایک چھوٹا سا پتھر کا صندوقچہ نکال کر احمد کے سامنے رکھا۔ “یہ اس مسجد کی اصل چابی ہے، جو گیارہ سو سال سے میرا قبیلہ چھپا کر بیٹھا تھا۔” احمد کی آنکھوں میں حیرت کے آنسو آگئے۔ یہ Ancient Traditions دراصل سچائی کی وہ کڑیاں تھیں جنہیں وقت مٹا نہیں سکا تھا۔

ہلکا پھلکا لمحہ: برفی کی ‘سفارت کاری’

اس سنگین اور روحانی ماحول میں ‘برفی’ (ہسکی کتا) نے اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ وہ دبے پاؤں اس بوڑھے شخص کے قریب گیا اور اس کے برفیلے جوتوں کو سونگھنے کے بعد ایک عجیب سی آواز نکالی، جیسے وہ اس کا پرانا واقف کار ہو۔
فاطمہ نے مسکراتے ہوئے کہا، “احمد، لگتا ہے برفی کو اس صندوقچے سے زیادہ اس بوڑھے دادا کے تھیلے میں موجود منجمد مچھلی میں دلچسپی ہے۔”
مایا نے بھی دبی دبی ہنسی کے ساتھ جواب دیا، “برفی شاید الاسکا کا پہلا کتا ہے جو تاریخ سے زیادہ خوراک کی فکر میں رہتا ہے۔”

جدیدیت کی شکست اور مایا کا فیصلہ

اسی دوران احمد نے دیکھا کہ لائیو ویڈیو پر ڈاکٹر ملر کے خلاف عالمی سطح پر احتجاج شروع ہو چکا ہے۔ اس کا سائنسی تعصب (Scientific Bias) اب ایک عالمی سکینڈل بن چکا تھا۔
مایا نے صندوقچے کو چھوتے ہوئے کہا، “احمد، ڈاکٹر ملر نے ہمیں ‘جدیدیت’ کے نام پر صرف اندھیرا دیا، مگر اس قدیم مسجد نے ہمیں وہ ‘حیا’ اور سکون دیا جس کی قیمت کوئی یونیورسٹی ادا نہیں کر سکتی۔”
اس نے اپنا سر ایک موٹے اونی سکارف سے ڈھانپ لیا۔ یہ اس کا اپنی روح کے ساتھ پہلا سچا عہد تھا۔

اختتام: ایک خوفناک گونج

ابھی وہ بوڑھے شخص سے اس چابی کے بارے میں مزید پوچھنا ہی چاہتے تھے کہ زمین لرزنے لگی۔ یہ زلزلہ نہیں تھا، بلکہ باہر سے آنے والی بھاری مشینوں کی آواز تھی۔ ڈاکٹر ملر نے اپنی علمی شکست کو تسلیم کرنے کے بجائے طاقت کا راستہ چنا تھا۔ وہ مسجد کو زمین بوس کرنے کے لیے ‘سنو کٹر’ مشینیں لے کر پہنچ چکا تھا۔
احمد نے کھڑکی سے دیکھا، طاقتور ہیڈ لائٹس کی روشنیاں برف کے طوفان کو چیرتی ہوئی ان کی طرف بڑھ رہی تھیں۔ “وہ آگئے،” احمد نے سنجیدگی سے کہا، “اب یہ جنگ صرف قلم کی نہیں، بقا کی بھی ہے۔”
اگلی قسط (Episode 20) میں دیکھئے:
کیا احمد اس بھاری مشینری کے سامنے کھڑا ہو پائے گا؟ اس پتھر کے صندوقچے میں کون سا ایسا راز ہے جو مشینوں کو بھی روک سکتا ہے؟ اور کیا الاسکا کےقبائل احمد کی مدد ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں