
کمیونٹی ہال کے پچھلے حصے میں وہ خوفناک قدموں کے نشان دیکھ کر احمد کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو چکے تھے۔ وہ ہانپتا کانپتا دوبارہ ہال کے اندر داخل ہوا تو اس کے چہرے کی زردی دیکھ کر سب خاموش ہو گئے۔
1. قطبی ریچھ یا سادگی کا مذاق؟
“ایلا! کوپاک! باہر… باہر کوئی بلا ہے!” احمد نے لرزتی آواز میں کہا۔ “بہت بڑے قدموں کے نشان ہیں، وہ ہال کی طرف آ رہے ہیں۔”
پہلے تو چند لمحے خاموشی رہی، پھر اچانک پورے ہال میں قہقہوں کا ایک طوفان امڈ آیا۔ کوپاک جو ہمیشہ سنجیدہ رہتے تھے، ہنستے ہنستے دوہرے ہو رہے تھے۔ ایلا نے اپنا سر پکڑ لیا اور مسکراتے ہوئے احمد کو کھڑکی کے پاس لے گئی جہاں دیوار پر ایک بڑا بورڈ لگا تھا جس پر قطبی ریچھ (Polar Bear) کی تصویر بنی تھی اور جلی حروف میں وارننگ لکھی تھی۔
“احمد! میرے بھولے ریسرچر،” ایلا نے ہنستے ہوئے کہا۔ “وہ کوئی ‘اندھیرے کا مکین’ نہیں، صرف ایک قطبی ریچھ تھا جو شاید مچھلی کی بو سونگھ کر یہاں آیا تھا۔”
پاس بیٹھے ایک مقامی شکاری نے اونچی آواز میں کہا، “لگتا ہے پاکستانی واقعی عقل سے تھوڑے پیدل ہوتے ہیں! ریچھ کے نشانات کو جن بھوت سمجھ لیا۔” اس بات پر دوبارہ قہقہہ پڑا۔ احمد شرمندگی سے پانی پانی ہو رہا تھا، اسے احساس ہوا کہ اس کے ‘مافوق الفطرت’ خوف نے اسے سب کی نظروں میں ایک ‘بیوقوف’ بنا دیا تھا۔
2. ماضی کا سایا: نورین کا غرور اور احمد کا کرب
اس مذاق نے احمد کو اندر تک جھنجھوڑ دیا۔ جب وہ اپنے کمرے میں واپس پہنچا تو اسے لگا کہ باہر کی سردی سے زیادہ ٹھنڈک اس کے اپنے اندر ہے۔ اسے لاہور کے وہ دن یاد آنے لگے جب نورین نے اس کی ذہانت اور محنت کا اسی طرح مذاق اڑایا تھا۔
“احمد! تم اس وقت یہاں؟” نورین نے ایک امیر لڑکے کی گاڑی میں بیٹھتے ہوئے حقارت سے پوچھا تھا۔ “تمہارے یہ پروجیکٹس مجھے وہ زندگی نہیں دے سکتے جس کی میں عادی ہوں۔ تمہاری محنت کو برسوں لگیں گے، اور میں اتنا انتظار نہیں کر سکتی۔”
نورین کا وہ غرورِ عشق احمد کی زندگی کا سب سے تاریک لمحہ تھا۔ اسے احساس ہوا کہ لوگ آپ کی روح کی قیمت آپ کے مادی وسائل سے لگاتے ہیں۔ اس نے وہیں فیصلہ کیا تھا کہ وہ ایسی کامیابی تلاش کرے گا جو صرف اس دنیا تک محدود نہ ہو، بلکہ کامیابیِ آخرت کی بنیاد بنے۔
3. دین کی آسانی: موزوں پر مسح کا سبق
اسی ذہنی خلفشار میں احمد مایا کے ساتھ کالج سے واپس آ رہا تھا۔ شدید برف باری میں اسے نمازِ عصر کی فکر ہوئی۔ وضو کے لیے جب اس نے جوتے اتارنے کی کوشش کی تو پاؤں منجمد ہونے لگے۔
مایا نے حیرت سے پوچھا، “احمد، تم اس خودکشی جیسی سردی میں جوتے کیوں اتار رہے ہو؟”
احمد نے جواب دیا، “وضو کے بغیر نماز نہیں ہوتی، مایا۔”
مایا نے ہنس کر کہا، “تمہارے لیے تو تمہارا دین بھی مشکل بن گیا ہے۔”
احمد کو اچانک یاد آیا کہ اسلام ‘تنگی’ کا نہیں ‘آسانی’ کا دین ہے۔ اسے اپنے استاد کا سبق یاد آیا: موزوں پر مسح۔ اگر اس نے گھر سے وضو کر کے موزے پہنے تھے، تو وہ ان پر صرف مسح کر سکتا تھا۔ اس نے فوراً چہرہ اور ہاتھ دھوئے اور گیلے ہاتھوں سے اپنے بھاری موزوں پر مسح کر لیا۔
“میرا دین آسان ہے، مایا،” اس نے ایک پُراعتماد مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ اس نے سمت کا تعین کیا اور نماز ادا کی۔ اسے محسوس ہوا کہ Utqiagvik کی یہ سختیاں اسے دنیاوی کامیابی کے بجائے اللہ کے قریب کر رہی ہیں۔
4. توکل اور اصلی کامیابی: اوکیو کا سبق
شام کو مایا اسے اپنے والد، بوڑھے شکاری اُوکیو (Ukiu) کے پاس لے گئی۔
“بیٹا،” اوکیو نے مچھلی کا جال بنتے ہوئے کہا، “ہم اپنے ایمان کو زندہ نہیں رکھتے، ایمان ہمیں زندہ رکھتا ہے۔ یہاں زندہ وہی بچتا ہے جسے اپنے خالق پر توکل ہو۔”
اوکیو کی باتوں نے احمد کی ڈائری میں ایک نیا باب کھول دیا۔ اس نے لکھا:
> “نورین نے کہا تھا کہ میرا راستہ اندھیرا ہے۔ لیکن میرا دین اس اندھیرے میں بھی سفر کی آسانی سکھاتا ہے۔ موزوں پر مسح صرف ایک رخصت نہیں، بلکہ اللہ کا پیغام ہے کہ وہ اپنے بندے پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ اصلی کامیابی دنیاوی جاہ و جلال نہیں، بلکہ وہ اطمینان ہے جو سجدے میں ملتا ہے۔”
> اندھیرے کے مکین: قسط 5