407

اکتوبر جب بھی آتا ہے

تحریر شئیر کریں

اکتوبر جب بھی آتا ہے

نوین مسکان

“اکتوبر کے آغاز میں جب⁣
پَت جَھڑ کا موسم شروع ہوتا ہے تو⁣
ہر شَجر اُداس نظر آتا ہے⁣
باہر چاہے جتنا شور ہو⁣
فضا میں عجیب سی خاموشی محسوس ہوتی ہے⁣
اور ایسے میں ہوا کی سَرسَراہٹ کیساتھ ⁣
زَرد اور نارنجی پتّے گِرتے ہیں تو⁣
وہ منظر بہت اُداس مگر بہت دلفریب ہوتا ہے⁣
اُن پتّوں کی آواز ایسے محسوس ہوتی ہے جیسے
کوئی بہت دھیمے سے سرگوشیوں میں⁣
باتیں کر رہا ہو ہمیں کچھ سُنا رہا ہو⁣
کوئی اُداس سی دُھن⁣
کوئی درد میں ڈوبا نغمہ⁣
اکتوبر⁣
جب بھی آتا ہے یونہی بِکھرے پتّوں میں چھپی⁣
کئی اَن کہی ادھوری کہانیاں سُناتا ہے”⁣
کچھ بیتے لمحوں کی جو بیت گۓ مگر آنکھ کی پتلیوں پہ امر ہوگۓ
کچھ بہار رتوں کی جو بیت گئیں مگر لبوں پہ مسکان کی صورت ٹھہر گئیں
یہ زرد موسم جب بھی آتا ہے دل کی اتھاہ گیرائیوں سے بہت سے لوگوں کی داستاں چھوڑ جاتا ہے
وہ لوگ جو بچھڑ گۓ کچھ زمیں کے اوپر کچھ زمیں کے نیچے
مگر وچھوڑا تو وچھوڑا ہوتا نا بچھڑے ہوۓ زمیں کے اوپر رہیں یا نیچے کیا فرق پڑتا
کیا فرق پڑتا ہے
وچھوڑا تو وچھوڑا ہوتا
سہنا پڑتا جھیلنا پڑتا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں