حمزہ خاں
زندگی کو جینے کا مزہ لیں اور حساسیت کو اپنا فخر بنائی (مگر کیسے ؟جانیے میری اس تحریر میں
میں اکثر اپنی تحاریر میں لکھا کرتا ہوں کہ آج بھی ہمارے اندر وه معصوم بچہ زندہ ہے جو کہ غلطی کر کے فوری مان جایا کرتا تھا اور ہر فکر سے آزاد ہو کر جیا کرتا تھا ،اپنے اندر کے اس معصوم بچے کو زندہ کیجیے ۔میں آپ کو خود سے ایک مثال دیتا ہوں ۔مثال کچھ یوں ہے کہ ہمیں جب کہا جاتا کہ فلاں کام کرو تو ہم کہتے ہیں کہ وه کام کل کریں گے اور ہمارا وه کل کبھی اتا ہی نہیں تو کیونکہ ناں ہم اپنے غموں اور دکھوں کو اس کل پر چھوڑ کر زندگی کو جینے کا مزہ لیں جو کہ کبھی آۓ ہی ناں ؟میں کسی سے پوچھتا ہوں کہ کیسے ہیں آپ ؟تو مجھے اکثر یہ جواب ملتا ہے کہ بس زندگی گزر رہی ہے ۔میں آپ سے اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ زندگی کو گزارنا نہیں بلکہ اسے بسر کرنا ہے ،زندگی کی رعنائیوں میں گھل مل جانا ہے ۔اتنی چھوٹی سی عمر میں آپ نے خود سے زیادہ اور بڑے دکھ کیوں پال لیے ؟آپ کو اگر رونا آتا ہے تو جی بھر کر رویئے اور دل کا بوجھ ہلکا کیجیے ۔مجھے جب رونا آتا ہے تو کئی بار اتنا روتا ہوں کہ میری ہیچکیاں بندھ جاتی ہیں ۔آنسووں کو اپنی طاقت بنائیں،انہیں رائیگاں مت جانے دیں اور اللہ پاک کے سامنے بہائیں ،دعا کریں یقین کیجیے وه ضرور سنے گا ۔ میرا ایسا ماننا ہے کہ جو انسان روتا نہیں وه دنیا کا سب سے کمزور انسان ہے اور پتا نہیں کیوں مجھے کمزور لوگ پسند نہیں بس اب انہیں بدلنا ہے ۔کچھ نہ کچھ ضرور لکھا کریں اور اپنے دل کی بھڑاس الفاظ کے زریعے نکالیں ۔خود کے ساتھ دوستی کریں اور اپنی زندگی میں ایک دوست ضرور بنائیں جس کے ساتھ کہ اپنی ہر بات شیئر کریں ۔اگر کوئی دوست نہیں تو اللہ پاک کو اپنا دوست بنائیں وه ہمیشہ آپ کے ساتھ رہے گا ۔خود کے ساتھ ڈیٹ پر جائیں اور اپنی خوشی کا اظہار کریں ،خود کی جی بھر کے خدمت و خیال کریں ۔کیوں آپ اپنی ہزار حامیوں کو دیکھ کر دلبرداشتہ ہو جاتے ہیں ؟ہزار حامیوں کو بھلا کر اپنے اندر کی ایک خوبی کو ڈھونڈیئے اور اسے اپنایئے۔ اگر آپ حساس ہیں تو حساسیت کو اپنا فخر بنائیں یقین کیجیے حساسیت آپ کو فاخر بناۓ گئی ۔میں اتنا حساس ہوں کہ اگر کوئی مجھ سے اونچی آواز سے بولے تو میں رو پڑتا ہوں مگر مجھے اپنے حساس ہونے پر فخر ہے جانتے ہیں کیوں ؟کیوں کہ جب میں کوئی غلط کام کرنے لگوں تو میری حساسیت آڑے آ جاتی ہے اور مجھے اچھے کام کرنے پر ابھارتی ہے ۔آپ گڈ نہیں آپ بیسٹ ہیں ،آپ ہر ایک کام کر سکتے ہیں لیکن پلیز کوشش تو کریں ۔اگر آپ ناکامی سے خوف زدہ ہیں تو مت خوف زدہ ہوں ،ہر بار ناکام ہونے کے بعد پھر بھی کوشش کرتے رہیں یقین کیجیے آپ ہار کو بھی ہرا دیں گے ،اسے آزمائیے یہ آزمودہ نسخہ ہے ۔اگر عشق میں ناکام ہو چکے ہیں تو پریشان مت ہوں ،ایک اور بار عشق کیجیے مگر اس پر اللہ سے کیجیے وہاں سے آپ کبھی ناکام نہیں لوٹیں گے ۔ اگر زندگی سے نفرت ہے اور مرنا چاہتے ہیں تو ہسپتال میں جا کر ان مریضوں سے ملیں جو کہ اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہے ہیں،ان سے پوچھیں تو بس وه یہی کہیں گے کہ ہم جینا چاہتے ہیں خدا کی قسم ان سے ملنے کے بعد آپ زندگی سے محبت کرنے لگیں گے ۔میرا ایسا ماننا ہے کہ ہر انسان موٹیویشنل سپیکر ہوتا ہے اور ہر انسان میں کوئی نا کوئی موٹیویشنل کریکٹر ضرور ہوتا ہے ،بس اپنے اس موٹیویشنل کریکٹر کو خود میں تلاش کریں اور دوسروں کے لیے موٹیویشن بنیں۔ہر حال میں اللہ پاک کا شکر ادا کریں ،خوش رہیں اور اٹھتے ،بیٹھتے غرضیکہ اپنا ہر کام اسلام کے بتاۓ ہوے طریقے کے مطابق کریں زندگی خود بدل جاۓ گئی ۔زندگی بہت پیاری ہے اس سے پیار کیجیے اور محبت کیجیے ۔چلیں وعدہ کرتے ہیں کہ ہم خود کو بدلنے کی کوشش کریں گے (باقی اللہ پر چھوڑ دیں )۔آپ خود کو بدلنے کی کوشش کریں گے ناں ؟