ایمان کیا ہے ؟
از قلم ساجدہ بتول
جو اللّٰہ سے جتنی گہری چوٹ لے کر آیا ہے اس کا ایمان اتنا گہرا ہے ۔
جیسا کہ یقین کے تین درجات ہیں ۔ علمُ الیقین ، حقُّ الیقین اور عینُ الیقین ۔
یہی درجات ایمان کے سنگِ مِیل ہیں ، ایمانِ مفصّل میں ایمان کے جِن سات حصوں کا ذکر ہے وہ یہ ہیں ، اللہ پہ ایمان ۔ فرشتوں پہ ایمان ۔ آسمانی کتب پہ ایمان ۔ تمام رسولوں پہ ایمان ۔ قیامت کے دن پہ ایمان ۔ اچھی و بری تقدیر کے اللّٰہ کی طرف سے ہونے پہ ایمان ۔اور موت کے بعد اُٹھاٸے جانے پہ ایمان
یہی سات حصے مکمل ایمان پہ دلالت کرتے ہیں ، اور انہی کا قلب میں ہونا ضروری ہے ۔
اب یہاں پہ یقین کے درجات اس طرح سامنے آتے ہیں کہ علم ُالیقین انسان کے قلب کی سطح پہ کھڑا ہوتا ہے ، حقُّ الیقین درمیان میں ہوتا ہے اور عینُ الیقین پیندے میں ہوتا ہے
ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ جب بُراٸی کو دیکھے تو اپنی طاقت سے روکے ۔ یہ نہ کر سکے تو زبان سے منع کرے ۔ اگر یہ بھی نہ کر سکے تو اُسے اپنے دل میں برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے ۔
غور کیجیے! یہاں بھی ایمان کے تین ہی درجات بتاٸے گٸے ہیں ، اب جِس کے پاس جتنا ایمان ہو گا ، وہ براٸی کو دیکھ کر اتنا ہی ری ایکٹ کرے گا ۔ عینُ الیقین ہے تو اپنی طاقت سے یعنی پورے رعب اور جلال سے اس کو روکے گا ، حق الیقین ہے تو زبان سے منع کرے گا اور علمُ الیقین ہے تو بس اس کو دل میں برا جانے گا
آپ اگر اپنے ایمان کا جاٸزہ لینا چاہتے ہیں ، کسی بھی براٸی کی جگہ پہ چلے جاٸیں ، آپ کا ری ایکٹ آپ کو بتا دے گا کہ آپ ایمان کے کس درجے پہ ہیں ؟
لیکن ٹھہریے!
اِس سے قبل ایک پیمانہ اور بھی آپ استعمال کر سکتے ہیں ، وہ پیمانہ ہے نفس اور روح ۔ یہ ایسے استعمال ہو گا کہ کسی بھی فرض و واجب کام کے وقت آپ دیکھ لیں آپ کا ری ایکٹ کیا ہوتا ہے ؟ بِالفرض جب فرض نماز کا وقت آ جاٸے ، اور آپ کہیں مصروف ہیں ، تو آپ کیا کرتے ہیں ، نماز کو آپ جتنا جلدی ادا کریں گے ، آپ کے پاس اتنا ہی گہرا ایمان موجود ہے جلد اداٸی کی صُورت میں روح جیت گٸی اور دیر سے اداٸی کی صورت نفس جیت گیا ۔ درمیانے وقت میں ادا کی تو اس کا مطلب ہے آپ کے پاس حقُّ الیقین ہے یعنی آپ کا نفس اور آپ کی روح برابر کی طاقتیں رکھتے ہیں ۔
یہاں ایک بہت گہرا اشکال پیدا ہوتا ہے ۔ یہ اشکال ہر کسی کے ذہن میں پیدا نہیں ہو سکتا ۔ خال خال ہوں گے جو یہ سوال اٹھاٸیں گے ۔ فقط وہ اس پہ غور کریں گے جو عین الیقین کے مطلب پہ غور کر لین لیکن بہرحال اس کا جواب ضروری ہے
سوال یہ ہے کہ عینُ الیقین کا مطلب ہے دیکھ کر یقین کرنا اور ظاہر ہے ان سات حصّوں میں سے سواٸے آسمانی کتب کے ہم اس دنیا میں اپنی آنکھوں سے اور کچھ نہیں دیکھ سکتے ۔ پھر عینُ الیقین کیسے نصیب ہو گا
اس کا جواب یہ ہے کہ عینُ الیقین کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ اِتنا زیادہ یقین ہو ، گویا کہ آپ نے دیکھا ہے ۔
اور باطنی مطلب یہ ہے کہ آپ کی رُوح کی آنکھ کھلی ہوٸی ہو وہ یہ سب چیزیں دیکھ رہی ہو ۔ اب یہ آنکھ کیسے کھلے گی ؟
یہ آنکھ اپنی ظاہری آنکھوں کو بند کرنے سے کھلے گی
جی ہاں ، آپ کو اپنی نظر دنیوی فواٸد سے ہٹانا پڑے گی ۔ پھر ہی آپ ایمان کے کمال درجے پہ پہنچ پاٸیں گے ۔
اس کے لیے کرنا کیا ہے ؟
اس کے لیے آپ کو کسی ایسے انسان کے پاس جانا پڑے گا جس کی باطِن کی آنکھ کھلی ہوٸی ہو ۔ اور اس کے سامنے زانوٸے تلمّذ بچھانے سے قبل آپ کو اپنی ظاہری آنکھ بند کرنا ہو گی ۔ دنیوی فواٸد سے نظر ہٹانا ہو گی ۔ کیا ، کیُوں کو خدا حافظ کہنا ہو گا ۔ پھر وہ جو کہتا جاٸے آپ آنکھ بند کیے کرتے چلے جاٸیں ۔ ایک دن آٸے گا کہ آپ کے باطن کی آنکھ کھل جاٸے گی اور عینُ الیقین جیسے شاندار مرتبے پہ پہنچ جاٸیں گے ۔
ایمان کو سمجھنے کے لیے ایک دوسرے زاویے پہ آٸیں ۔
آپ اس زاویے کو چوٹ کا زاویہ کہہ سکتے ہیں ۔
جیسا کہ شروع میں عرض کیا ہے کہ جو اللہ سے جتنی گہری چوٹ لے کر آیا ، اُس کے پاس اتنا ہی گہرا ایمان ہے ۔
یہ وہ چوٹ ہے جو عالمِ ارواح میں لگاٸی گٸی تھی ۔ جب اللّٰہ نے تمام رُوحوں کو مُخاطب کر کے فرمایا تھا ”اَلَستُ بِرَبّکُم“ ۔ اور روحوں نے جواب دیا ”بَلیٰ“
یہ روحیں کیا تھیں ، یہ میرے اور آپ کے دل کے مقام پہ رکھے ہوٸے یہ قلُوب ہی تو تھے
جب ”اَلَست“ُ فرمایا ، تو قلُوب کے اوپر اپنا ہاتھ پھیرا ۔ غور کیجیے! ”اَلَست“ کے لفظ میں کتنی نرمی ہے یونہی نرمی سے ہاتھ پھیرا ۔ پھر فرمایا ”بِرَبّ“ ۔ اب جو تشدید سے ”بِرَبّ“ فرمایا زور سے لگاٸی چوٹ جس سے قلب میں خلا پیدا ہو گیا اور پھر ”کُم“ کے ساتھ میرے اور آپ کے قلب کے اندر اس خالی جگہ میں ایک چیز فٹ کر دی
”کُم“ پہ غور کیجیے انداز ایسا ہے جیسے کوٸی چیز کسی چیز کے اندر جا کر گم ہو جاٸے ۔
وہ چیز کیا تھی ؟ ولایتِ عامہ تھی یعنی ایمان تھا ۔ وہی ایمان جس کے تین درجات ہیں ، اس کے بعد تمام روحیں خوشی سے کھل اُٹھیں اور پکار اٹھیں ”بلیٰ“
اب بلیٰ کا انداز دیکھیں جیسے کوٸی چیز کھل رہی ہو ۔ یہ قلب کا منہ تھا جو کھل اٹھا ۔
آپ کبھی تنہاٸی میں اللہ کا نام لیں تو آپ کو مزہ آتا ہے ناں ، کوٸی مُسلمان خواه کِتنا ہی گناہگار ہو ، اللّٰہ کے نام پہ یا اللہ سے متعلق کسی بھی حکم پہ نرم ضرور پڑتا ہے وجہ وہ قلب کے اوپر رکھی گٸی ”اَلَست“ کی نرمی ہے ۔ مگر یہ سطحی ایمان یعنی کمزور درجہ ہے علم الیقین ۔ یہی اُس چوٹ کا اشارہ ہے جو عالمِ ارواح میں لگی تھی ۔
اب جو” ِبرَبّ“ کی چوٹ کی ساتھ قلب کو اندر سے کھولا تھا تو اس چیز کے اندر داخل ہونے کا راستہ بن گیا جس کا اوپر ذکر کیا اور کم کے ساتھ وہ چیز اندر فٹ ہو گٸی ۔
یہ ایمان ایک چمکدار ہیرے کی شکل میں تھا جو میرے اور آپ کے سینے میں موجود ہے ۔ اِس موقع پہ ہر کسی کی چوٹ مختلف تھی کسی کی گہری کسی کی کم گہری ۔ اب ایمان ہر کسی کے پاس اسی حساب سے ہے ۔ ہر کِسی کا ہیرا اسی حساب سے کیفیت و چمک رکھتا ہے ۔
اِنسان جب گُناہ کرتا ہے اس کے دل پہ ایک سیاہ نکتہ لگ جاتا ہے ۔ ہر گناہ پہ ایک نکتے کے اضافے کی وجہ سے جب گناہ بڑھتے ہیں یہ ہیرا اس سیاہی کے نیچے چھپ جاتا ہے ۔ اب ضرورت ہوتی ہے ایک بار پھر چوٹ لگوانے کی جب آپ باطن کی کھلی آنکھ والے انسان یعنی کسی اللہ والے کے پاس جاٸیں گے وہ پہلے آپ کے قلب پہ بعین عالمِ ارواح کے انداز م نرمی سے ہاتھ پھیریں گے ۔ اور آپ سے شگُفتگی سے پیش آٸیں گے ۔آپ کو عزّت دیں گے اور باطنی طور پہ بھی بلند کریں گے ۔ آپ کو ایک بار ایمان کی سطح پہ اُٹھا کر آپ کو ریلیکس کر دیں گے ۔ اِس کے بعد جب دیکھیں گے ، آپ نرم پڑ گٸے تو یکدم ”رَب“ّ کی چوٹ لگاٸیں گے ۔ یہ چوٹ وہ اپنی توجہ کے ساتھ لگاٸیں گے ، اور اِس چوٹ کے ساتھ ساتھ آپ کی اصلاح کے لیے آپ سے ڈانٹ ڈپٹ کا رویہ اپناٸیں گے ۔ یعنی جیسا باطن ویسا ظاہر ۔ وُسعتِ قلبی اِسی چوٹ سے بنتی ہے ۔ آپ اندر سے کُشادہ ہو جاتے ہیں اور تحمّل و بردباری کی صفات آپ میں پیدا ہو جاتی ہیں ، غصہ بدگمانی نفرت عداوت اور کِینہ جیسے امراض باقی نہیں رہتے ، کیُونکہ آپ کا سینہ وسیع ہو جاتا ہے ، جو لوگوں کی دی گٸی نفرتیں اپنے اندر بآسانی سمو لیتا ہے ۔ آپ تنگ دل نہیں رہتے ۔
یاد رہے! آپ جتنی گہری چوٹ عالمِ ارواح سے لے کے آٸے ہیں ، یہاں اُس چوٹ کی شِدّت اتنی ہی زیادہ ہو گی اور دورانیہ بھی اُسی حساب سے ہو گا ۔ آپ میں ،تحمّل بردباری بھی اتنی ہی ہو گی اور آپ کا ظَرف اُتنا ہی وسیع ہو گا ۔ ان چوٹوں سے وہ سیاہی بھی صاف ہوتی چلی جاٸے گی ، جو گناہوں کی وجہ سے لگی تھی ۔ اِس موقع پہ مشاٸخ ذِکر کی تلقین اسی لیے فرماتے ہیں کہ آپ کے حالیہ گناہوں کا اندھیرا بھی ذِکر کی برکت سے ساتھ ساتھ ہی صاف ہوتا چلا جاٸے اور ان کی چوٹ کو راستہ ملتا رہے ۔ بصُورتِ دیگر یہ سیاہی اِس چوٹ کے راستے کی رکاوٹ بھی بن جاتی ہے ۔
جیسا کہ علم ایک نور ہے اور ایمان بھی ایک نور ہے ۔ اب علم کا نور ایمان کے نور کے بغیر حاصل نہیں ہوتا ۔ علم سے مُراد دین کا علم ۔۔ کیونکہ ایمان دراصل آنکھ ہے ۔ جِس طرح ظاہری آنکھوں کی روشنی کے بغیر انسان دیکھ نہیں سکتا چاہے اس کے چاروں طرف روشنی ہو ، وہ اس روشنی کو قبول نہیں کر سکتا اسی طرح ایمان کے نور کے بغیر علم کا نور حاصل نہیں ہوتا ۔دین کے علم کی بھی دو قسمیں ہیں ،
1 ظاہری یعنی قرآن و حدیث کا علم
2 باطنی ۔ یعنی عرفان ۔ اس علم کو عام لوگ نہیں سمجھ سکتے ۔ ظاہری عِلم کے حصُول کے لیے بھی ایمان کی آنکھ ضروری ہے ورنہ فقط الفاظ مل پاٸیں گے ۔ نور نہیں ، جیسے ظاہری آنکھوں کے ہوتے ہوٸے بھی اِنسان بعض اوقات نہیں دیکھ سکتا یعنی وہ اندھا ہوتا ہے اِسی طرح علم کے الفاظ آنکھیں ہیں ، اور علم کا نور باطنی طور پہ ایمان کی شرط کے ساتھ ملتا ہے
دوسرا علم ہے عرفان ۔ یہ باطنی علم ہے ۔ قلب اس کی آنکھ ہے یہ بھی اندھی ہوتی ہے اگر کھلی نہ ہو ۔ اور اس کے حصول کے لیے جو نور آتا ہے ۔ اِسے فیضان کہتے ہیں جو شیخ کے دل سے آتا ہے ۔ جُوں جُوں قلب پہ لگنے والی چوٹ گہری ہوتی ہے ۔ قلب اندر سے وسیع ہونے کے ساتھ عرفان کو کھینچنا شروع کر دیتا ہے جس سے اللّٰہ تعالیٰ کے عشق و محبّت کے مضامین دل پہ اترنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ یعنی حقُّ الیقین باطنی طور پہ حاصل ہو جاٸے گا ۔ یہ اندر کی کھلی ہوٸی جگہ کو دیکھ کر خود بخود آ جاٸے گا ۔ لیکن
یاد رہے! جب چوٹ لگنا شروع ہو گی ، آپ اندر سے گہرے ہونے لگیں گے پھر آپ ایمان کی سطح پہ نہ رہیں گے اور ظاہری طور پہ بھی پہلے جیسا معاملہ نہ رہے گا اب فنا کا سفر ہو گا جو ظاہر کے ساتھ آپ کے باطِن کو بھی اندر ہی اندر لے جاٸے گا ۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا یہاں ڈانٹ ڈپٹ بھی ہو گی اور مشقّتیں اور مُجاہدات بھی ۔ ہر اگلا قدم آپ کے لیے مقامِ فناٸیت کو بڑھا دے گا ۔ اور مشقّت بھی اُسی حساب سے بڑھے گی ۔ اِسے حق کا سفر اسی لیے کہا جاتا ہے کہ آپ حقُّ الیقین کی طرف جا رہے ہیں ۔ اِصلاح کے سفر میں ایک اِصطلاح مِٹ جانے کی اِستعمال ہوتی ہے ۔ وہ یہی ہے ۔ آپ اندر سے اِسی طرح مٹتے ہیں کہ آپ کا رابطہ اپنے قلب کے اندرونی حصے سے ہونے لگتا ہے ، جو اندر ہی اندر جاتا ہے اور بظاہر بھی ڈانٹ ڈپٹ کر مرید کو خاک میں مِلایا جاتا ہے ۔ یہ فنا کا یعنی گہراٸی کا راستہ ہے اس لیے عاجزی خود بخُود طبیعیت میں آ جاتی ہے ۔ ان ساری چیزوں سے ابتداٸی مقصد دل کا نرم کرنا ہے جیسے کسان پہلے زمین نرم کرتا ہے پھر بیج بوتا ہے ۔ اس لیے اللّٰہ کی جانب سے جب کِسی کا اِس راستے کے لیے چناٶ ہوتا ہے ، اُس پر مشکلات آتی ہیں ۔ جِس کا ہِیرا جِتنا چمکدار ہوتا ہے اور اُس حساب سے اتنی چوٹ اور گہراٸی درکار ہوتی ہے ، دل کی نرمی بھی اُسی قدر درکار ہوتی ہے لہٰذہ مُشکلات اُسی حساب سے آتی ہیں ، یہ مُشکلات ابتداء سے ہی آنا شروع ہو جاتی ہیں ۔ اللہ اپنے پیارے نبی صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم کی سنّت مبارکہ پہ غیر اختیاری طور پہ عمل کرواتے ہیں کہ ابتداء میں مکّی دور جیسے حالات آتے ہیں ، جب بندہ ثابت قدم رہتا ہے ۔ بلکہ رہتا کیا ہے! ثابت قدم رکھا جاتا ہے تو آخر ایک دن مدنی دور تک پہنچ جاتا ہےپھر آخر ایک دن وہ عِلمُ الیقین سے حقُّ الیقین تک جا پہنچتا ہے ۔
جب سینہ پاک ہو گیا ، چوٹ مکمّل لگ گٸی ۔ آپ کا ایمان گہرا ہو گیا اور ہِیرا صاف ہو کر سامنے آ گیا ۔ تو اللّٰہ کے نُور کی تجلّی کُم کے انداز میں آپ کے قلب میں اِس ہِیرے پہ پڑے گی ۔ اِس پہ خُوشی کی وجہ سے آپ کا یہ ہِیرا بَلیٰ کے انداز میں کھل جاٸے گا اور یہی وہ باطن کی آنکھ ہے جو کھل کر آپ کو عَینُ الیَقین کے درجے پہ فاٸز کر دے گی ۔ آسمانی کُتب پہ ایمان کے عِلاوہ ایمان کے وہ چھ حصّے جن پہ ایمان بالغیب ہے ، آپ اِس آنکھ سے دیکھنے کے قابِل ہو جاٸیں گے ۔ ولایتِ خاصّہ اِسی کو کہتے ہیں ۔ ایک بات اور بھی سمجھنے کی ہے ۔ آسمانی کتابوں پہ ایمان بھی دراصل بالغیب ہے ۔ کیونکہ ایمانِ مُفصّل میں ان پہ ایمان لانے کا جو ذکر ہے وہ دراصل ان میں دی گٸی غَیب کی خبروں پہ ایمان لانے کے متعلق ہے ۔ ہاں اِن کتب کو ہم اس دنیا میں دیکھ سکتے ہیں ، یا باقی کُتب کو نہیں دیکھ سکتے تو قُرآن پاک کو تو دیکھ ہی سکتے ہیں ، اِس لیے اِن کا کُچھ اطلاق ظاہر پہ بھی ہوتا ہے ۔
جُوں جوں چوٹ لگے گی آپ کے اندر عاجزی بڑھے گی ۔ سیاہی کم ہونے سے نفس کی قوت کمزور ہو گی ۔ نفس مضمحل ہوتا جاٸے گا اور براٸی کی طرف تیزی سے نہ جا پاٸے گا اور ذکر کی وجہ سے روح کی طاقت بڑھے گی ۔ جو اطاعت و عبادات پہ زور دے گی
”اَلَستُ“ سارا کا سارا محبّت ہے
اظہارِ محبّت فرمایا ”کیا نہیں ہوں میں!“ انداز بھی محبت والا ۔ مطلب بھی محبت والا
جب دل کی دنیا نرم پڑتی دیکھی تو اب تربیت فرماٸی ”بِرَبّ“ ۔ یہاں انداز بھی تربیّت کا ۔ کہ چوٹ لگاٸی ہے ۔ مطلب بھی تربیت والا ہے
جی ہاں! ”اَلَست“ محبّت ہے ، اور ”بِرَبّ“ تربیت ۔ معانی سے بھی یہی تشریح نکلتی ہے ۔ رب کا مطلب ہے پالنے والا ۔ یہاں صرف پالنے والا مُراد نہیں بلکہ بچپن سے جوانی تک پرورش تعلیم اور تربیت اور نیک عادات سب کو نُکتہِ کمال تک پہنچانے والا مراد ہے ۔ جیسا کہ قرآن نے والدین کے لیے دُعا سکھاٸی ”و قُل رَّبّ ارحَمهُما کما رَبَّیانی صغِیرا ۔“
یہاں ربیانی اسی لیے تو فرمایا ہے ۔ کہ پرورش اور تربیّت دونوں مراد ہیں ۔ کیونکہ اس میں والدین کی طرف سے بچپن میں پرورش کا ذکر ہے ۔ اور ظاہر ہے والدین پرورش اور تربیت دونوں کرتے ہیں ۔
یعنی رب وہ ہوتا ہے جو جسمانی و روحانی دونوں قسم کی تربیت کرے اب اس میں فکر ، توجّہ ، ڈانٹ ڈپٹ سبھی کچھ ہو گا ۔ اس لیے شیخ کو بھی مُرّبی کہا جاتا ہے
یہی مطلب یہاں ”بِرَبّ“ کا تھا ۔ اس سے پتہ چلا یہ قانونِ الہی ہے کہ پہلے محبّت دیں گے پھر تربیت فرماٸیں گے ۔
اور نبی علیہِ السّلام کی سنّت مبارکہ بھی یہی ہے ۔ یوں تو ہر صحابی کے قبُولِ اسلام کا واقعہ اس کا نمونہ ہے مگر میں یہاں صرف ایک واقعے کا مختصر ذکر کروں گی جِس میں محبّت کا انداز جب بھی یاد آتا ہے ، دل کے تاروں کو چھیڑ جاتا ہے
حضرت ثمامہ رضی اللّٰہ عنہ کا یہ واقعہ ہمیشہ رلاتا ہے مسجدِ نبوی شریف میں ستُون سے بندھے ہُوٸے ہیں ، کٸی گھنٹے سے بندھے ہیں اور اِس باندھنے میں محبّت ہی محبّت ہے ۔ پیارے نبی علیہِ السّلام بار بار اُن کی طرف محبّت کی نظر سے دیکھتے ہیں ، قبُولِ اسلام کی دعوت بھی دی ہے اور ایسے مان سے دی ہے کہ کیا بتاٶں ۔ لیکن ابھی اُن کی باطن کی آنکھ پہ پردہ پڑا ہے ۔ جلوہِ نبوّت کو دیکھنے سے قاصر ہیں ، مُسلسل اِنکار کر رہے ہیں ، شدید غصّے میں ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود پیار سے فرماتے ہیں ، ہماری طرف دیکھو ۔ اللّٰہ اکبر
مگر وہ دیکھنے سے بھی انکار کر دیتے ہیں ، آخر رہا کر دیا جاتا ہے ۔ رسیاں کھول دی جاتی ہیں اور وہ وہاں سے جانے لگتے ہیں ، چند قدم چل کر خیال آتا ہے ایک بار دیکھیں تو سہی محمّد (صلّی اللّٰہ علیہ وسلم ) کیسے ہیں!
رخ موڑتے ہیں ، نظر اٹھاتے ہیں ، جونہی نظر چہرہِ نبوّت پہ پڑتی ہے حُسنِ کاٸنات قلب میں جاگزیں ہو جاتا ہے ۔ دل کی دنیا میں بھونچال آ جاتا ہے اب واپس آتے ہیں ، اور اِسلام قبول کر لیتے ہیں
یہ تھی محبّت جس سے ابتداء ہوٸی ۔ تربیّت کا نمبر یہاں بھی دوسرا ہے ۔
مَیں اپنی بات کی طرف واپس جاتی ہوں ، اگلا لفظ ہے ”کُم“ ۔ یہاں خطاب کی بھی انتہا ، تعلق کی بھی انتہا ، اور انعام کی بھی انتہا ،
خِطاب کی انتہا اس طرح کہ یہ آخری لفظ ہے ۔ تعلّق یعنی قُرب کی اِنتہا مطلب کے حساب سے ہے کہ اللّٰہ روحوں کو مخاطب فرما کے پوری توجہ سے فرما رہے ہیں ”تمہارا“ آج آپ کا کوٸی دوست یا سہیلی آپ سے کہہ دے میں تمہارا ’ تمہاری ہوں تو اُس میں کتنی توجہ اور محبّت ہوتی ہے!!! اس سے اندازہ لگا لیں کہ اللہ پورے کے پورے روحوں کی طرف متوجّہ ہیں ۔ اور انعام کی اِنتہا ایسے کہ پہلے محبّت دی پھر تربیّت دی اور پھر پوری کاٸنات سے قیمتی دولت دے دی یعنی ایمان دے دیا ۔
جتنا چمکدار آپ کا ہیرا ہے اتنی زیادہ آپ کو چوٹ لگے گی آپ کا قلب اتنا ہی کشادہ ہو گا آپ میں تحمّل اتنا ہی زیادہ ہو گا ۔ آپ کا ہیرا یعنی باطن کی آنکھ اتنی ہی زیادہ کھلے گی آپ کو ایمان کے باطنی احوال اتنے زیادہ نظر آٸیں گے ۔ اسی وُسعت کے حِساب سے عرفان کا نزول آپ کے دل پہ ہو گا اور آپ کو لوگوں کے اندرونی حالات اتنے ہی زیادہ نظر آٸیں گے ۔ مگر اُسی حساب سے تحمّل کی وجہ سے آپ پہ لوگوں کے عیوب کا ایسا اثر نہیں ہو گا کہ آپ بدگمان ہوں ۔ اور آپ ایمان کے سات حصوں کو بھی دیکھنے کے قابل ہو جاٸیں گے ۔
اب آپ کے کھلے ہوٸے ایمان کے ہیرے میں ایسا راستہ بن جاٸے گا کہ آپ جتنا چاہیں ، اللہ کا نور اور قرب اللہ سے لے لیں ، یہ آپ کی اپنی ذکر کی محنت پہ منحصر ہو گا ۔
مگر اِن ساری نعمتوں کے حصُول کے لیے شراٸط دو ہی ہیں کسی شیخ کے سامنے زانوٸے تلمّذ اور ظاہری آنکھوں کو بند کرنا
حالات بتاتے ہیں ، خروجِ دجّال کا زمانہ قریب ہے جس میں ایمان بے پناہ خطرے میں ہو گا اس لیے مناسب لگا کہ ایمان میں اضافے کی ترتیب عرض کر دی جاٸے
اللہ ہم سب کو ایمان کے کمال درجے پہ پہنچاٸے آمین ثم آمین
از قلم
عاجز بندی ساجدہ بتول