662

باجی نازو سیپارے والی

تحریر شئیر کریں

پرندوں کو دانہ ڈالتی نازو نے ایک نظر ملگجے آسمان کو دیکھا جہاں دن کا سویر ا ہولے ہولے پھوٹ رہا تھا۔نازو اس سمے کی دیوانی تھی دیوانی۔۔۔۔آپ نے کہیں یہ تو نہیں سمجھ لیا کہ میں ارلی رائزر ہوں۔۔۔نہیں ایسا بالکل نہیں۔یہ موسم تو ہمیشہ صبح کی نماز کے لیے انتظار کرتی نازو کو رمضان میں نصیب ہوتا تھا۔رمضان کا ایک مہینہ اس سمے کا دیدار اس کے اندر عجیب سی تروتازگی بھر دیا کرتا تھا۔پھر وہ باقی کا سارا سال اس پچھتاوے پہ گزرتا کہ کاش دن طلوع ہونے سے پہلے کا منظر دیکھ سکتی۔۔۔۔
زندگی بھاگتی رہی ان دیکھی راہوں پر ،کبھی نا ہاتھ آنے والے نقش پا کی تلاش میں۔اسے کبھی پتہ ہی نہ چل سکا کہ بیداری تو اندر سے اٹھتی ہے۔جب اندر سویا رہے تو جاگ کے بھی کیا کرنا۔بہت سے لوگ جو جاگ رہے ہوتے مگر چونکہ بیدار نہیں ہوتے سو کبھی اللہ کے سامنے نہیں جھکتے۔۔۔۔اس کے برعکس چرند پرند جانور سبھی اپنے وقت پہ بیدار ہوتے اور اپنے وقت پہ سو جاتے ہیں۔

نازو اے نازو اٹھ جا۔۔۔۔دن چڑھے سوتی رہتی ہے۔نحوست ہے نری نحوست دن چڑھے سونا۔نازو نے اماں کی باتیں ایک کان سے سنیں ضرور تھی مگر دوسرے سے نکالنے کا تردد نا کر سکی۔کیونکہ وہ گریجویشن پاس کر چکی تھی اتنا تو جانتی تھی کہ صبح کے لمحات کتنے بابرکت ہوتے ہیں۔جس دن وہ صبح سویرے اٹھ جاتی وقت کاٹے نا کٹتا سارے کام نبٹا کر بھی فالتو بیٹھی رہتی۔اتنا فالتو وقت کہاں سے اجاتا تھا ۔۔۔اماں کہتی یہ سب صبح اٹھنے کی برکت ہے۔واہ اماں تو اور تیری باتیں۔۔۔جا کے بھی نہیں جاتیں تھیں۔نا دل سے اور نا ہی دماغ سے۔۔۔سچ تو یہی تھا ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں پہ عمل کر کے ہی آج وہ اس مقام پہ تھی جو بہت کم لوگوں کا مقدر بنتا ہے۔

باجی نازو سپارے والی کا گھر کہاں ہے۔ایک ادھیڑ عمر عورت جو بچے کی انگلی تھامے باجی نازو کی تلاش میں تھی۔مطلوبہ گھر ملنے پہ اس نے کلمہ شکر کہا اور ساجو پان والے نے ایک نظر اس عورت کو دیکھا جو ابھی باجی نازو جا گھر تلاش کر رہی تھی۔اور سوچنے لگ گیا واہ مولا۔۔۔ طلاق یافتہ ، بے سہارا اور کمزور عورت کو تو نے کیسے اپنی پناہ تلے لے کر مضبوط بنا دیا۔ہر گھر کی ضرورت باجی نازو سیپارے والی تھی۔جسی کو دم کروانا ہو کسی کو کوئی مسئلہ پوچھنا ہو کسی کو قرآن پڑھانا ہو یا سکول کی ٹیویشن پڑھنی ہو یا پھر سلائی سارے کاموں کے لیے ایک ہی نام باجی نازو سیپارے والی۔۔۔

نازو نے میٹرک کیا اور بیاہ کر پیاہ دیس آ گئ۔جہاں بڑی آو بھگت ہوئی ۔ٹھہری نا اکلوتی بہو اوہر سے تھی بھی بڑی من موہنی اورمیٹھی زبان۔۔۔۔پر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا ایک سال خیریت سے گزر گیا۔سب گود ہری ہونے کے منتظر تھے۔جو کہ ابھی تک نا ہوئی تھی۔۔۔۔دبی دبی زبان میں ہونے والی سرگوشیاں اب سر اٹھانے لگیں تھی۔گھر والوں کی مشترکہ راۓ سے نازو کو شہر کے ہسپتال لے جایا گیا۔جہاں سے ٹیسٹ کرواۓ گے۔ٹیسٹ رپورٹ کیا آئی گھر بھر کو سانپ سونگھ گیا۔اکلوتی نرینہ اولاد کے لیے یہ خبر کسی سانحے سے کم نا تھی۔نازو ماں نہیں بن سکتی تھی۔۔۔یہ خبر پورے گاؤں میں پھیل چکی تھی۔نازو دوپٹے میں منہ دیے پھرتی تھی۔۔۔کسی پل چین نا تھا۔اس کا گھر والا اس سے سے بات نہیں کر رہا تھا۔گھر کے باقی افراد بھی اس سے سیدھے منہ بات نا کر رہے تھے۔وہ قصوروار ہوتے ہوۓ بھی قصوروار ٹھہرائی گئ تھی۔

تین ماہ بیت چکے تھے۔ ہر وقت چہکنے والی نازو کو چپ لگ چکی تھی۔ماں نا بننے کا دکھ ایک طرف اور گھر والوں کا رویہ ایک طرف۔۔ایسے میں انسان۔کبھی کبھی وہ کر گزرتا ہے جو اس کے وہم وگما ن میں بھی نا ہو ،وہ جو گھر والے کے نا بولنے کے دکھ پہ ادھموئی ہوۓ جا رہی تھی اس نے اس گھر کو ہمیشہ کے لیے چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔۔۔وہ کیسے بتاتی کہ جدائی کا دکھ جھیلنا زیادہ آسان ہے اس کرب سے کہ کوئی پاس رہ کر کلام تک نا کرے۔وہ ایک سال تک من چاہی بہو تھی۔اس کے لیے بہت مشکل تھا نروٹھے چہرے دیکھنا۔اور وجہ بھی ایسی جس کا کوئی حل نا تھا اس کے پاس۔

چند جوڑے بیگ میں رکھے اور بابل کے گھر چلی آئی جہاں

یہ بھی پڑھیے

شب گزیدہ سحر

کی دیواریں جتنی بھی بوسیدہ تھی پر محبت کی پھوار سے ہمہ وقت تروتازہ رہتی ہیں۔بیٹیوں کے لیے ماں کے آنگن سے زیادہ کشادہ جگہ اور کون سی ہو سکتی تھی۔نازو چپ چاپ اماں کی گود میں لیٹ گئ جواس کی واحد پناہ گاہ تھی۔۔۔۔

اس کے گھر والے نے دوسری شادی کر لی اڑتی اڑتی خبر اس تک بھی پہنچ گئ تھی۔بیٹی کے گھر اجڑنے کا دکھ ماں کو ایک سال میں ہی قبر میں لے گیا۔اب نازو اکیلی رہ گئ۔محلے والے اچھے تھے۔خیال رکھتے تھے۔نازو نے اس ایک سال میں سیکھا کہ زندگی کیسے جی جاتی ہے۔اماں کے سارے کام جن کا وہ مذاق اڑایا کرتی تھی چپ چاپ اپنے ذمے لے لیے۔سیپارہ پڑھا نے سے لے کر کپڑے سلائی اور ٹیویشن تک سارا دن ایسے ہی بیت جاتا پتہ بھی نا چلتا۔مخلوق خدا کی خدمت کر کے اس کے کام آ کر اسے دلی تسکین ملتی تھی جو ہر دولت سے بڑھ کر تھی۔

نازو جب ماں کے گھر آئئ ٹؤ آس پاس والوں نے بہت باتیں کی تھی۔کہ کیسے گزارہ ہوگا۔جوانی نہیں کٹتی ایسے۔۔ ایسے میں جب باپ اور بھائی سر پہ نا ہوں۔وہ چپ چاپ سنے جاتی۔اور بس اللہ وارث کی گردان ہمہ وقت اس کے دل میں رہتی۔بلاشبہ وہی بے وارثوں کا وارث ہے۔

نازو کی صبح تین بجے ہو جایا کرتی تھی۔اللہ سے رازو نیاز کے بعد پاک کلام پڑھتی۔اتنے میں سرمئ سویرا پھیل جاتا تو پرندوں کو دانہ ڈالتی پھربچے قرآن پڑھنے کے لیے جو ق در جوق آتے چلے جاتے۔۔۔۔وہ بڑے شوق سے ان کو سبق پڑھاتی۔یہی اس کا حاصل تھا۔دنیا میں سب سے بہترین وہ لوگ جو اللہ کا مبارک کلام پڑھتے اور پڑھاتے ہیں۔یہ اسی کا فیض تھا وہ طلاق کا دھبہ لگوا کر بھی معتبر تھی۔اولاد نا ہوتے ہوۓ بھی شاگردوں کی صورت میں روحانی اولاد عطا کی گئ تھی۔جو اس کی دنیا ہی نہیں آخرت بھی سنوارنے والے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں