461

بلاعنوان

تحریر شئیر کریں

بلاعنوان ایک لاجواب کہانی جو آپ۔کو برسوں یاد رہے گی

  

ام محمد عبداللہ

رات دوران نیند آنکھ کھلی تو یہ آیت مبارکہ زبان پر تھی۔
 كُلُّ نَفْسٍ ذَآٸقَةُ الْمَوْتِ:
“ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے۔”

کچھ خوف محسوس ہوا اور فوراً دھیان ادھر ادھر گھومنے لگا۔ ابا جان بہت ضیعف ہو گئے ہیں۔ بیمار بھی رہتے ہیں۔ اللہ خیر کرے۔ ان کا سایہ تا دیر ہمارے سروں پر سلامت رہے۔ آمین.
میں پھر سو گئی۔
کچھ دیر بعد کروٹ لی تو پھر آنکھ کھل گئی۔
زبان پر پھر یہی آیت مبارکہ تھی۔

موت کا تعلق عمر سے تو نہیں ہے۔ کل کیسے پیارے چھوٹے سے بچے کی کفنانے دفنانے کی ویڈیو دیکھی تھی۔
اللہ نہ کرے۔ اللہ نہ کرے۔ اللہ میرے بچوں کو سلامت رکھے۔ گھبرا کر پہلو میں لیٹی ننھی منی گڑیا کو دیکھا۔ ناک کے قریب ہاتھ کر کے سانس محسوس کی۔ ہاں ہل بھی رہی ہے۔ دل کو کچھ تسلی ہوئی۔ آیت الکرسی پڑھ کر اس پر دم کیا۔
دن بھر کی تھکی ہوئی تھی۔ جلد ہی دوبارہ سو گئی۔

کمرے سے باہر کچھ شور سا ہوا تھا۔ آنکھ کھل گئی۔
 كُلُّ نَفْسٍ ذَآٸقَةُ الْمَوْتِ:
“ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے۔”
زبان پھر وہی آیت دہرا رہی تھی۔ اس مرتبہ تو میری گھبراہٹ سوا ہو گئی۔ اللہ پاک ہر طرف خیریت رکھنا، آمین. گرم بستر چھوڑ کر باہر نکلی۔ ہر طرف خاموشی اور اندھیرے کا راج تھا۔ بے چین طبیعت لیے کمرے میں واپس آئی اور بچوں کے والد صاحب کے سرہانے آن کھڑی ہوئی۔ یہ بھی تو شام کے وقت کہہ رہے تھے سر میں درد ہے۔
”ہائے اللہ ! ان کے بغیر تو زندگی بہت مشکل ہو جائے گی۔
اللہ پاک میرے سرتاج کو سلامت رکھنا۔ آمین.“
چہرے سے کمبل ہٹایا۔
ان کے خراٹے جن سے چڑ تھی۔ آج کانوں کو بہت بھلے محسوس ہوئے۔
مزید تسلی کے لیے پیشانی کو چھوا۔ ”شکر ہے۔“ بے اختیار منہ سے نکلا۔
ارے بیگم آپ اس وقت یہاں۔ وہ حیرت اور خوشی سے مسکرائے۔
”جی نہیں، میری گڑیا رو رہی ہے۔“  میں نے ہڑبڑا کر کہا۔
تو پھر میرا طواف کیوں کر رہی ہیں، اس کو دیکھیں جا کر۔ انہوں نے مجھے گھورا اور چہرہ کمبل میں چھپا لیا۔
میں نے گہری سانس لی۔
اور بستر میں گھس کر ایک بار پھر سونے کی کوشش کرنے لگی۔

آدھے گھنٹے سے بھی کم نیند لی ہوگی تو پھر اس آیت مبارکہ کے ورد کے ساتھ آنکھ کھل گئی۔
اللہ کون مرنے والا ہے؟
کون مرنے والا ہے؟
سامنے دیوار پر لگے قد آدم آئینے میں اندھیرے میں بھی ایک عکس ابھر کر ڈوب گیا تھا.
میں؟
میری موت؟
کیوں؟
میں کیوں نہیں؟
میری موت کیوں نہیں؟
کیا میں جاندار نہیں؟
مجھے سب سے پہلے اپنا خیال کیوں نہیں آیا؟
اس آیت کی تفسیر کانوں میں گونجنے لگی۔
انسان ہو یا جن یا فرشتہ، غرض یہ کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا ہر زندہ کو موت آنی ہے اور ہر چیز فانی ہے۔
 اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار پر موت مقرر فرما دی ہے اور اس سے کسی کو چھٹکارا ملے گا، نہ کوئی اس سے بھاگ کر کہیں جا سکے گا۔ موت روح کے جسم سے جدا ہونے کا نام ہے اور یہ جدائی انتہائی سخت تکلیف اور اذیت کے ساتھ ہوگی اور اس کی تکلیف دنیا میں بندے کو پہنچنے والی تمام تکلیفوں سے سخت تر ہو گی۔ موت اور اس کی سختی کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّؕ-ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ (ق:۱۹)
“اور موت کی سختی حق کے ساتھ آگئی، (اس وقت کہا جاتا ہے) یہ وہ (موت) ہے جس سے تو بھاگتا تھا۔”

حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں: میں نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے ساتھ تھا کہ ایک انصاری آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوا. آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو سلام کیا اور عرض کی: یا رسول اللہ! کون سا مومن افضل ہے؟ ارشاد فرمایا: ’’جس کے اخلاق عمدہ ہوں۔“ اس نے عرض کی : سب سے زیادہ عقلمندکون ہے؟ ارشاد فرمایا ’’جو موت کو زیادہ یاد کرتا ہو اور اس کی اچھی طرح تیاری کرتا ہو تو وہی سب سے زیادہ عقلمند ہے۔“   

ایک اور حدیث بھی یاد آئی۔ حضرت شداد بن اوس رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کو اپنا تابعدار بنا لے اور موت کے بعد کے لئے عمل کرے اور عاجز وہ شخص ہے جو اپنی خواہشات پر چلتا ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید بھی کرتا ہو۔“ (ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، ۲۵-باب، ۴ / ۲۰۷)

میں عاجز ہوں،
تھکاوٹ فرائض کی راہ میں کھڑی ہو جاتی ہے۔
بہت سا وقت ریلیکس ہونے کے نام پر برباد ہو جاتا ہے۔
موت کا تذکرہ اول تو ہوتا ہی نہیں،
ہو بھی تو رسماً.
روز مرہ کے مسائل اتنے ہیں کہ
قبر، حشر، پل صراط، جہنم، جنت کے بارے میں کون سوچے؟
اس پر مجھے عقلمند بننے کہلوانے کا شوق بھی ہے۔
بار بار نیند میں اس آیت مبارکہ سے آج ایک بار پھر تنبیہ ہو گئی کہ موت اٹل ہے۔
مجھے بھی آنی ہے۔
مجھے بھی اس کو یاد کرنا ہے۔
اس کی تیاری کرنی ہے۔
عقلمندی کا معیار، یاد آ جانے والی حدیث مبارکہ کو بنانا ہے۔
مجھے نیند سے اٹھا کر جو بات بار بار یاد کروائی گئی آپ تک اس تحریر کی صورت میں پہنچا دی ہے۔
آئیے اپنی موت کو یاد کرتے ہیں۔
اپنی باتوں اور کاموں سے اپنی قبر کو روشن کرنے کا اہتمام کرتے ہیں۔

==========

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں