398

بوٹی والے چاول

تحریر شئیر کریں

بوٹی والے چاول ماں بیٹی کی کہانی جنہیں بوٹی والے چاول بہت پسند تھے

تحریر روبینہ شاہین

موسم کے تیور دیکھ کر بشری کا دل ڈوبے جا رہا تھا کبھی اپنے کچے کوٹھے کو دیکھتی اور کبھی سیاہ بادلوں کو جو کسی بھی وقت بر س سکتے تھے سنا تھا کہ سرکار نے ایمرجنسی نافذ کی ہے اپنے ایک کمرے پر مشتمل مکان کے ایک کونے میں چولہا جلائے اپنی پانچ سالہ بیٹی کے لیے بوٹی والے چاول بنانے ہوئے بار بار نظر باہر کی طرف اٹھ رہی تھی عید کے دونوں دن گوشت نہیں آیا تھا تیسرے دن. آیا سو آج وہ بہت خوش تھی کہ اپنی لاڈلی کو بوٹی والے چاول کھلائے گی جانتی تھی جنت کو بوٹی والے

چاول کتنے اچھے لگتے تھے چاولوں میں چمچہ چلاتی بشری کو اپنا بچپن یاد آیا جب وہ بھی اس خصوصی ڈش کے لیے پورا سال انتظار کیا کرتی تھی پھر عید کی شام اس کی اماں زیادہ ساری بوٹیاں ڈال کر چاول بنایا کرتی تھیں اور وہ بڑے شوق سے کھاتی اور اگلے دن ناشتہ بھی انہی چاولوں سے کرتی تھی۔۔۔وقت کتنا بدل گیا تھا

چاولوں کو دم پر لگا کر بشری ماضی کی بھول بھلیوں سے باہر نکل کر دیکھا اب تو لوگ گوشت ہی نہیں بانٹتے۔۔۔۔بقرہ عید پہ بھی دو دو دن انتظار کرنا پڑتا ہے تب جا کر کچھ بوٹیاں ملیں۔۔۔اپنے بھاو تاو کرتی بشری کو ہوش تب آیا جب موسلادھار بارش شروع ہو گئ تھی۔۔

۔پورے گاوں میں ہلچل مچی تھی کیونکہ ساتھ ہی نہر بہتی تھی جو خطرناک حد تک فل ہو چکی تھی اگر بارش اسی رفتار سے برستی رہی تو کچھ ہی گھنٹوں میں گاوں کو لے ڈوبی گی۔۔۔۔دم والے چاول اپنے آخری مرحلے میں تھی کمرے میں پلاو کی مخصوص مہک نے جنت کی

بھوک اور اشتہا اور بڑھا دی تھی ۔۔۔بشری نے جنت کے ہاتھ دھلائے اور ادھر دھڑام سے دروازہ بجا جنت کا باپ اللہ خیر کہتے ہوئے دروازے تک آیا جہاں پاک آرمی کے نوجوان سب گھر والوں کو ساتھ چلنے کو کہہ رہے تھے کہ سیلاب کا خطرہ تھا۔۔۔۔بشری دم ہٹا رہی تھی جب اس کے کانوں نے یہ آواز سنی اس کا


ںے ساختہ اپنا ہاتھ کلیجے پہ رکھا جو زور زور سے دھڑک رہا تھا ماں کی کیفیت دیکھ کر جنت دوڑتی ہوئی ماں کے سینے سے لگ گئ بچے ہوں یا پرندے خطرات کو فورا بھانپ لیتے ہیں۔وہ سہمی ہوئی بچی رو دینے کو تھی کہ نجانے کون سے آفت آنے والی تھی۔

وقت بالکل نا تھا کچھ پہننے کے کپڑے لیے۔۔اور بشری نے جنت کی انگلی تھامی جس کی نظریں بوٹی والے چاولوں پہ تھیں جو اپنے کھانے والوں کے انتظار میں تھے۔بشری کا اس انہونی افتاد نے دماغ ماوف کر دیا تھا مگر جنت نے کمرے سے نکلتے لمحے ایک نظر آدھے جلے کولہوں پر رکھی دیگچی کو بڑی حسرت سے دیکھا جس میں اس کی من پسند ڈش موجود تھی اور پھر دہلیز پار کرتے ہوئے آنکھیں بہنے لگیں کیا تھا اماں اگر چاول بھی ساتھ رکھ لیتی۔۔۔بشری نے جنت کی بات پر اپنا ہاتھ سر پہ مارا اور واپس مڑی۔۔جبکہ فوج جوانوں نے وقت کی قلت کے باعث اسے واپس جانے سے روک دیا۔دو دل سیلاب کو بھلائے بوٹی والےچاولوں میں اٹک چکے تھے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں