بچوں کو باغبانی سکھائیں کیسے جانیے قلم کتاب پر
گرمی کا موسم عروج پر ہے ایسے میں تصور کیا جاسکتا ہے کہ درخت اور پودے ماحول کے لیے کتنے ضروری ہیں خود بھی پودے اور پھل دار درخت لگائیں اور بچوں کو بھی باغبانی سکھائیں ۔
باغبانی ایک مفید مشغلہ ہے جو اپنے اندر بے پناہ فوآئد سمیٹے ہونے ہے ۔وہ فوآئد کیا ہیں یہی آج کآ موضوع ہے۔
فطری مشغلہ
باغبانی فطرت سے قریب
۔مشغلہ ہے۔بچے چونکہ فطرت کے قریب ہوتے ہیں اس لیے وہ اسے خوب انجوائے کرتے ہیں اس سے ان کی لرننگ بھی
ہوتی ہے اور انجوائے بھی ۔پودوں کو پروان چڑھتے دیکھنا ایک دلچسپ اور تجسس سے بھرپور سرگرمی ہے جس سے بچے بہت سیکھتے ہیں
نرم ونازک پودوں کی دیکھ بھال بچے بآسانی کر سکتے ہیں اس سے ان کے اندر ہمدردی اور نرمی کے جزبات کی نشوونما ہوتی ہے اور انہیں دوسروں کا خیال رکھنا بھی باخوبی آتا
ہے ۔مٹی انسان کے اندر عاجزی اور مستقل مزاجی
پیدا کرتی ہے ۔مٹی کے ساتھ رہ کر بچے بہت سے منرلز بھی حاصل کرتے ہیں جو ان کی صحت کے لیے بہت ضروری ہوتے ہیں ۔آج کل ڈاکٹرز بچوں کومٹی میں کھیلنے کا مشورہ بھی دیتے ہیں جس سے مٹی کی افادیت پتہ چلتی ہے ۔
باغبانی سے بچوں اور بڑوں کے دماغوں پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔سب سے بڑا اثر موڈ خوشگوار رہتا ہے ۔اس سے ڈپریشن کم ہوتا ہے اور دماغی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے ۔۔
یہ بھی پڑھیں
باغبانی صدقہ جاریہ ہے اس سے اخروی اجر بھی ملتا ہے اور دنیاوی فوائدالگ ملتے ہیں
باغبانی کم لاگت سے شروع کی جا سکتی ہے اور فوائد بے شمار حاصل کیے جا سکتے ہیں یہ۔ایک ایسا مشغلہ ہے جس سے اکتاہٹ نہیں ہوتی۔بوریت دور ہو جاتی ہے ایک طمانیت اندر تک اترتی محسوس ہوتی ہے پودوں کو بڑھتے دیکھ کر کتنا۔دککش لگتا ہے اس کوبیان نہیں کیا جا سکتا۔الغرض
باغبانی بہترین فیملی ٹائم ہے۔جو۔سب مل کر گزار سکتے ۔
گرمی میں۔بچوں کو احساس دلائیں کہ ماحول کے لیے پودے کیونکر اہم ہیں اور اس سے درجہ حرارت کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے اس مقصد کے لیے صحن نہیں تو چھت پر پودے اگائے جا سکتے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ۔جس۔کے پاس چھت ہے وہ بھوکا نہیں مر سکتا چھت پر سبزیاں اگاے اور پیسے کماے۔
ایسے پھل دار پودے لگائے جائیں جو جلدی پھل دیں مگر پانی کم سے کم استعمال ہو ۔
پودوں کوبطور تحفتاً دینے کی روایت ڈالیئے پودوں کا گفٹ دیں اور ثواب کمائیں ۔
بچوں کو باغبانی سکھائیں ۔اپنے لیے ماحول کے لیے